شنگھائی تعاون تنظیم سے مشرق وسطیٰ تک

زمرد نقوی  پير 19 جون 2017
www.facebook.com/shah Naqvi

www.facebook.com/shah Naqvi

پچھلے عشرے میں دنیا میں اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جیسے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پاکستان اور بھارت کو مل گئی ہے۔ برطانوی الیکشن۔ عرب ریاست قطر کا سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ‘ ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملہ۔

شنگھائی کانفرنس سینٹرل ایشیا کی ریاست قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں چین‘ روس‘ کرغزیستان، تاجکستان، ازبکستان، بیلاروس، منگولیا، قازقستان کے صدور اور وزیراعظم پاکستان نے شرکت کی۔ یہ تنظیم کا 17واں اجلاس تھا جس کے اختتام پر پاکستان بھارت کو مستقل رکنیت دینے کی دستاویز پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ اس تنظیم کا قیام جون 2001ء میں چین کے شہر شنگھائی میں عمل میں آیا۔

کانفرنس میں چینی صدر نے تجویز دی کہ تنظیم کے ارکان کے مابین پانچ سال کے لیے اچھی ہمسائیگی کے طویل مدتی معاہدہ کی ضرورت ہے۔ آبادی اور رقبے کے اعتبار یہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ ایک طرف وسیع و عریض سینٹرل ایشیا جس میں بہت سے ممالک ہیں آبادی کے اعتبار سے چین اور بھارت تو خود روس جو سوویت یونین کے خاتمے کے باوجود یورپ اور ایشیا تک پھیلا ہوا ہے جہاں مختلف ٹائم زون ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی باہمی آویزش نے سارک تنظیم کو ناکامی سے دوچار کر دیا۔ اس تنظیم کے برصغیر کے دو اہم ملکوں نے کیا ترقی کرنی تھی وہ کشمیر جیسے اہم ایشوز کو نہ حل کر سکے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان روس یعنی سابقہ سوویت یونین کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ تھا۔ یہ پاکستان ہی تھا جس کے ذریعے امریکا نے روس کو شکست دی اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر دیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کے سوویت یونین نے اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا۔ چین بھی امریکا بھارت تعلقات سے تحفظات کا شکار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا بھارت کے ذریعے چین کے گرد گھیرا ڈال رہا ہے۔ لیکن یہ ماضی کی باتیں ہیں اب پاکستان اور روس کی دوستی میں گہرائی آ رہی ہے۔ چین اور روس پہلے ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ پاکستان کے مفادات بھی جنوبی ایشیا اور خطے کے حوالے سے ہم آہنگ ہوتے جا رہے ہیں۔

اگر سارک تنظیم کامیاب ہو جاتی تو اس سے برصغیر کے ان لوگوں کو بھلا ہوتا جن کی تعداد ایک ارب کے قریب ہے اور وہ اس طرح غربت کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں کہ ان لوگوں کو بہ مشکل دو وقت کی روٹی میسر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاک بھارت محاذ آرائی ہر گزرتے دن کے ساتھ اس صورت حال کو مزید تباہ کن بنا رہی ہے۔ ان دونوں ملکوں کے قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ خطرناک جنگی اسلحہ کی خرید پر صرف ہو رہا ہے، بجائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے غریب عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کیا جائے۔ کیونکہ صحت تعلیم بھوک بیروزگاری اور غربت کو دور کرنے والا پیسہ جنگی تیاریوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے جو 70 سال سے جاری ہے نہ جانے برصغیر کے عوام اس آزمائش سے کب نکلیں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقعہ پر وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کی بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دہشتگردی کو دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ خطرہ اور اس کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی اعلیٰ سطح پر دونوں ملکوںکے عہدیداروں کی بہت سی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ لیکن ان ملاقاتوں کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے۔ کافی دیر سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔

دوسری طرف پاک افغان کشیدگی کم کرانے کے لیے چین نے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ اس سلسلے میں چینی وزیر خارجہ جلد ہی کابل کا دورہ کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ ان ملاقاتوں میں چار فریقی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان یعنی افغانستان، پاکستان، امریکا اور چین کے درمیان ملاقات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ افغان صدر کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چین افغان عمل میں بطور ثالث کردار ادا کرے گا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ چین کی شمولیت سے پاکستان افغانستان کے درمیان پائیدار امن کا قیام عمل میں آ سکے گا۔

برطانوی انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار پارٹی اپنی اکثریت کھو بیٹھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان نتائج کو حیران کن قرار دیا ہے۔ انھوں نے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا خیرمقدم کیا تھا کیونکہ یہ ٹرمپ کے ایجنڈے کے عین مطابق تھا۔ انتخابات کے نتائج کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ جو برطانوی یورپین یونین میں رہنا چاہتے تھے ان کی جیت ہوئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا کمزور مینڈیٹ کے ساتھ بریگزیٹ پر مذاکرات کرنا کوئی نتیجہ نہیں لائے گا۔ یورپی یونین نے انھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جب کہ لیبر پارٹی برطانوی وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

قطر کی سفارتی اور معاشی ناکہ بندی کی جا چکی ہے وجہ الجزیرہ ٹی وی نسبتاً آزاد میڈیا اور ایران کی طرف جھکاؤ ہے۔ اس صورت حال میں ترکی اور ایران اس کی مدد کر رہے ہیں۔ امریکی صدر قطر کے خلاف پوزیشن لیے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عربوں کے تنازعات اور تحفظات سے فائدہ اٹھا کر امریکی صدر نے ایک سو دس ارب ڈالر کا جنگی سامان بیچا تو دوسری طرف قطر کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا نے قطر کے ہاتھ اپنے اسلحہ کی فروخت کا بھی بڑا معاہدہ کر لیا یعنی دونوں طرف سے امریکا فائدے میں رہا۔مشرق وسطیٰ کی صورت حال آتش فشاں ہے۔ کسی بھی وقت یہاں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔

ریاض کانفرنس کے بعد قطر کا معاشی سفارتی بائیکاٹ‘ ایرانی پارلیمنٹ پر  اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملہ بتاتا ہے کہ ’’کام شروع ہو گیا ہے‘‘۔ جس کا الزام ایران نے امریکا پر لگایا ہے۔ خاص طور پر آیت اللہ خمینی کے مزار پر حملے کا مقصد یہ تھا کہ مسلکی اختلاف کو مسلم دنیا میں مزید بھڑکایا جائے۔ لیکن اسلام دشمن طاقتیں اس میں ناکام رہیں۔ خصوصاً پاکستان میں کہیں بھی اس حوالے سے امن  عامہ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔

یہ انتہائی اطمینان بخش بات ہے۔ یہ سازشوں کی ابتدا ہے۔ ابھی مزید سازشیں ہوں گی۔ شیعہ سنی حضرات کو چوکنا رہنا چاہیے۔ کوئی بھی جذباتی ردعمل دینے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے کہ اگر سعودی عرب میں کوئی سازش ہوتی ہے تو کیا ہو گا۔ یہی پاکستان اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔

جون کے آخر سے جے آئی ٹی کی تحقیقات کے حوالے سے مزید مشکل وقت شروع ہو جائے گا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔