سائنس و ٹیکنالوجی

ظہیر اختر بیدری  پير 19 جون 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ہر دور کا سب سے اہم اور بنیادی نظریاتی مسئلہ عوام کو ماضی کے دھندلکوں سے نکال کر حال اور مستقبل کے اجالوں سے روشناس کرانا، ماضی کو حال اور مستقبل سے ہم آہنگ کرنا رہا ہے۔ ہمارے اہل علم، اہل خرد ماضی کو اور ماضی کی پسماندگی کو تنقید کا نشانہ تو بناتے ہیں لیکن یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہر دور کے نظریات اس دور کے علم اور معلومات کے مطابق ہوتے ہیں۔

آج ہم سو سال پہلے کے انسان اور اس کے نظریات کو پسماندہ تو کہتے ہیں لیکن اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ یہ پسماندگی اکتسابی نہیں بلکہ وقت حاضر کی دین ہوتی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ آج کا انسان اور اس کے نظریات سو سال بعد پسماندہ کہلائیں اور انسانی معاشرے اس مقام پر کھڑے نظر آئیں جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، انسانی معاشروں کی ترقی اور تزئین میں سائنس ، ٹیکنالوجی و آئی ٹی انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ماضی کے انسان کے علم اور معلومات کے مطابق زمین ہی کل کائنات تھی، زمین کو ساکن سمجھا جاتا  تھا۔اور خیال کیا جاتا تھا کہ سورج اس کے گرد گردش کرتا ہے۔ کلیسائی  عہد کے علوم اور معلومات کے مطابق سورج زمین کے گرد گردش کناں تھا اور اگر کوئی اپنے علم اپنی تحقیق کے حوالے سے زمین کو سورج کے گرد گردش کناں بتاتا تو اسے دین میں مداخلت قرار دے کر مجرم کو سزائے موت سنا دی جاتی۔ گلیلو اور سقراط ایسے ہی مجرم ٹھہرائے گئے اور انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

جدید علوم سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی کے انقلابات ماہرین ارض اور خلائی اور فلکیاتی ماہرین کی تحقیق و تجربات کے باوجود کہ زمین کائنات کے پس منظر میں ایک ایٹمی ذرے سے بھی چھوٹی ہے، حال کے انسانوں کی بھاری اکثریت اب بھی جدید علم اور تحقیق سے بے بہرہ  ہے اور اس کے پس منظر میں تشکیل پانے والے نظریات سے چمٹی رہتی ہے۔ اصل پسماندگی یہی ہے۔ ماہرین ارض کے تخمینوں کے مطابق دنیا کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اور اگر کوئی فلکیاتی حادثہ نہ ہوا تو زمین مزید 3 ارب سال زندہ رہ سکتی ہے، اس کے بعد سورج اپنی توانائی کھو دے گا اور پورا نظام شمسی فلاپ  ہوجائے گا۔

آج کی دنیا کا انسان زندگی کو نظم و ضبط میں لانے اور دستیاب وسائل کو احسن طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ہر سال بجٹ بناتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ ایک سال میں نہ قیامت آئے گی نہ انسان فنا ہوجائے گا۔ اگر انسان زمین کی صحیح عمر سے واقف ہو تو پھر اس پس منظر میں اپنی زندگی کی تزئین اور منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔

آج کا ترقی یافتہ انسان اگرچہ جدید علوم  سے واقف ہے لیکن اب بھی وہ عناصر فطرت کی حشر سامانیوں کے آگے بے بس ہے ۔ مثلاً زلزلہ ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کے آگے انسان بے بس محض ہے لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جس تیز رفتاری سے ترقی ہو رہی ہے اور تحقیق و انکشافات کا جو تیز رفتار سلسلہ جاری ہے، کیا اس کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ آنے والے دنوں میں زلزلے جیسی ناگہانی آفات پر بھی انسان قابو پالے۔

آج اس حوالے سے بات اس لیے ہو رہی ہے کہ 18-2017 کے بجٹ میں ہماری نظر اس مقام پر آکر رک گئی جہاں اگلے بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 2 ارب 42 کروڑ کی رقم رکھی گئی تھی۔ ہمارا ملک سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی تحقیق و انکشافات کے حوالے سے پسماندگی کی انتہا پر کھڑا ہے۔ عام آدمی کو ہمارے نظام نے روٹی کپڑے کے پیچھے اس طرح لگا دیا ہے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور مسئلے پر سوچ ہی نہیں سکتا۔ علم کے شعبے میں ہماری پسماندگی کا عالم یہ ہے کہ ہماری 80 فیصد آبادی اب بھی جدید علوم سے بے بہرہ  ہے۔

آج جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا تو ٹی وی اسکرین پر سیکڑوں بچے اور خواتین سرکاری نلکوں پر مٹکے اور کین اٹھائے پانی کے انتظار میں بیٹھے تھے، پانی کئی دنوں سے ناپید تھا، اس کے علاوہ ٹی وی اسکرین پر عوام کی بھیڑ بجلی کی دن دن بھر کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف جگہ جگہ ٹائر جلاکر روڈ بند کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ بجلی اور پانی انسان کی ایسی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں جس کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے اور ہمارے عوام ان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور ان کا زیادہ وقت ان کے حصول میں گزر جاتا ہے۔ ایسے محروم و مجبور انسان سائنس و ٹیکنالوجی سے کس طرح واقف ہوسکتے ہیں؟

ہمارے نئے بجٹ میں شاہراہوں کے 96 منصوبوں کے لیے سوا تین کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ سی پیک منصوبوں کے لیے 180 ارب مختص کیے گئے ہیں، چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے سوا دس ارب رکھے گئے ہیں، وفاقی بجٹ میں 79 ارب روپوں کا ’’اضافہ‘‘ کیا گیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر 121 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ اب تم ہی بتاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

ہم نے آغاز میں کہا تھا کہ ہر ملک اپنی ترجیحات کا تعین کرکے اس کے اہداف حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے آج ساری دنیا کی اولین ترجیح ترقی ہے اور ترقی سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے بغیر ممکن نہیں جو اہل علم اس حوالے سے عوام میں سیاسی سماجی اور علمی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے راستے میں کم ظرف اور تنگ نظر متعصب لوگ دیواریں کھڑی کر رہے ہیں، اس نفسیات سے ان کی کم ظرفی اور اللہ واسطے کے بیر کی تسکین تو ہو رہی ہے لیکن وہ ایک ایسا قومی جرم کر رہے ہیں جس کا ازالہ ممکن نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔