اُسترا بردار ’’ پارساؤں‘‘ کا جنونی گروپ

نصرت جاوید  جمعـء 1 فروری 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

خود کو فروغ ِپارسائی کا ٹھیکے دار بنائے جنونیوں کا ایک گروہ شہرِ میڈیا پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ اپنے ہاتھوں میں اُٹھائے اُستروں کو یہ گروہ 62\63 کی ’’سان‘‘ پر تیز کرتے ہوئے لوگوں کی عزتوں کا خون کرنے کے خبط میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اس غول کو شاید یہ خبر اب تک نہیں پہنچی کہ ان کی 62\63 سے وارفتگی کو دیکھتے ہوئے وارداتیوں کا ایک اور گروپ بھی میدان میں آچکا ہے۔

اس کے پاس چند لوگوں کی ذاتی زندگیوں سے متعلقہ کچھ CDs ہیں۔ وہ آیندہ انتخابات کے دوران اپنے مال کی بڑی کھپت دیکھ رہے ہیں۔ منگل کو میں اپنے کچھ صحافی دوستوں کے ساتھ پاکستان ٹیلی وژن کے اسلام آباد سینٹر میں موجود تھا۔ وہاں ایک شخص نے بڑے اعتماد سے انکشاف کیا کہ اس نے بھی لوگوں کی عزت اُچھالنے والی ایک ایسی سی ڈی 80 ہزار روپے دے کر خریدی ہے۔ اس کے انکشاف نے ہم صحافیوں کو کچھ اور لوگوں کا ذکر کرنے پر مجبور کر دیا جو 62\63 کا ورد کرتے جنونیوں کا مبینہ شکار ہو سکتے ہیں۔

صحافیوں کی اس محفل میں ہونے والی گفتگو سننے کے بعد سے میرے ذہن کو اذیت ناک سوالوں اور خیالات نے گھیر رکھا ہے۔ بار بار خیال برصغیر کے مسلمانوں کے لیے تنِ تنہا ایک ملک حاصل کرنے والے قائدِ اعظم کی جانب بھی چلا جاتا ہے۔ اس صاف ستھرے، ہٹ کے پکے اور اپنی محنت سے وکالت کے شعبے میں لاکھوں کمانے والے اس شخص کو اس زمانے کے 62/63 مارکہ جنونیوں نے ’’کافرِ اعظم‘‘ قرار دیا تھا۔ مگر بالآخر وہ ہی کامران ٹھہرا۔

میرا یہ کالم باقاعدگی سے پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ میں عمران خان کی سیاست کا شدید نقاد ہوں۔ اس کے پرستاروں کا ہجوم مجھے اپنے رویے سے اکثر جرمنی میں ہٹلر کو ملنے والے عروج کی یاد دلا دیتا ہے۔ عمران خان کی سیاست کے بارے میں اپنے تحفظات کے اس اعتراف کے باوجود میں یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ سر سید احمد خان کی طرح در در جھولی پھیلانے کے بعد اس نے کینسر کے علاج کے لیے لاہور میں جو اسپتال بنایا وہ ایک محیر العقول کارنامہ ہے۔ اللہ کرے اس کا بنایا تعلیمی ادارہ بھی ایسے ہی معجزے برپا کرے۔ کرکٹ کھیلتے ہوئے وہ صرف اپنی دھن کی بدولت ایک Legendary کھلاڑی بنا۔ وہ بے ایمان نہیں ہے۔ صرف اور صرف اپنی محنت اور صلاحیتوں پر اکتفا کرتا ہے۔ یہ سب جاننے کے بعد مجھے اس کی ذات کے بارے میں اور کچھ معلوم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سیدھی سی بات ہے چلتے چلتے میری گاڑی کہیں رُک جائے تو میں اسے کسی ایسے مکینک کے پاس لے جانا چاہوں گا جس کی شہرت ایک ماہر کاریگر کی ہو۔ میرا کوئی پیارا کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو جائے تو میں بڑی بے چینی سے اس معالج تک پہنچنا چاہوں گا جس کی شہرت ایک شفاء بخش کی ہو۔ میں اپنی گاڑی کی مرمت کرنے والے اور اپنے پیارے کا علاج کرنے والے کو 62\63 کی کسوٹی پر ہرگز نہیں پرکھوں گا۔

سیاست بھی اپنے طور پر ایک ہنر ہے۔ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے مجھے یہ دیکھنا ہے کہ جو امیدوار میرے سامنے ہے، اس میں واقعی اتنی ہمت اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ مجھ سے کیے وعدوں میں سے کم از کم کچھ ضروری معاملات کو پورا کر سکے گا یا نہیں۔ اگر اس کا تعلق واضح طور پر ظالموں اور قبضہ گیروں کے کسی گروہ سے ہے تو مجھے اس سے دور رہنا ہو گا اور اس امر کی تھوڑی بہت جانچ پڑتال بھی کہ اس امیدوار کو اگر ماضی میں کبھی اقتدار اور اختیار ملا تھا تو اس نے اپنی سیاسی قوت کو کس طرح استعمال کیا تھا۔

ان چند سوالات کے مناسب جوابات پا لینے کے بعد مجھے اس امیدوار کے کچھ معاملات کو اپنے رب کے حوالے کرنا ہو گا۔ اسی دنیا میں سزا یا جزا دینے کے سارے اختیارات اگر میں ہتھیانے کی کوشش کروں تو شاید ایک حوالے سے اپنے رب کی سلطنت میں مداخلت کرنے کا مرتکب ٹھہروں اور ایسی مداخلت انسان کو نمرود بنا دیتی ہے۔ انسان نہیں رہنے دیتی۔ 62\63 کے اُسترے تھامے جنونی مگر خود کو ایک بالاتر مخلوق سمجھ رہے ہیں۔ آج کل انھیں عمران خان 62\63 پر کمزور پڑتا دِکھ رہا ہے۔ شاید ان جنونیوں کو خبر نہیں کہ فلمیں بنانے کے کچھ شوقیہ اداکار کپتان کے بارے میں کیا منصوبے بنائے بیٹھے ہیں۔ ان منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے میں یہ کہنے پر بھی مجبور ہوں کہ کم از کم میاں نواز شریف اور ان کے چند سرکردہ ساتھیوں کا ان منصوبوں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔

لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے والے کلاکاروں کا گروہ کہیں اور بیٹھا اپنی فلمیں بنا رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ’’سودے‘‘ کی ’’بوہنی‘‘ بھی وصول کر لی ہے۔ کس سے، کس طرح اور کن داموں پر؟ ان سوالات کا جواب زندگی رہی تو ضرور اسی کالم میں لکھ دوں گا۔ عمران خان کی اپنے بارے میں معلومات تک رسائی یقیناً مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔کوئی بہت ہی سادہ ذہن یہ گمان کر سکتا ہے کہ اسے اس ’’سودے‘‘ کی بھنک نہ پڑی ہو گی جس کا تذکرہ میں کر رہا ہوں۔ ایسے میں عمران خان 62\63 کے جنونی ورد پر اپنے تحفظات کا اظہار نہ کرے تو اور کیا کرے۔ بات صرف ایک شخص کی نہیں ہے۔ خود کو فروغِ پارسائی کا ٹھیکے دار بنائے اُسترا بردار محض کچھ افراد کو نشانہ نہیں بنانا چاہ رہے، ان کا اصل ہدف پاکستان کے عام اور بے اختیار انسان کو کبھی کبھار ملنے والے اس حق سے محروم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ حکومتیں بنانے کے عمل میں خود کو ایک طاقتور اور کئی حوالوں سے بنیادی فریق سمجھتا ہے۔

پاکستان کے عام اور بے اختیار انسانوں کو کبھی کبھار ملنے والی اس لذت کی راہ روکنا ایک بہت بڑا ظلم ہو گا۔ یہ اپنے تئیں پارسائی کو فروغ دینے کے ٹھیکے دار بنے اُسترا برداروں کو چند روزہ لذت تو ضرور فراہم کر دے گا۔ مگر طویل المعیاد تناظر میں اس ملک کی جڑیں ہلا کر رکھ دے گا۔ مظہر عباس کا شکریہ۔ اس کی فخرو بھائی سے ملاقات کے حوالے سے میرے اخبار نے مجھے بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو “I M Kayani” نے واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ کینیڈا سے آیا شعبدہ باز جو چاہے نوٹنکی لگاتا رہے، چیف الیکشن کمشنر انتخابات کو اپنے وقت پر صاف اور شفاف انداز میں ہر ممکن بنانے کی کوشش جاری رکھیں۔ دیکھتے ہیں 62\63 کا اُسترا تھامے پارسا اب “I M Kayani”کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔