رضاکارانہ خون کے عطیات میں 95 فیصد کمی؛ مریضوں کیلیے خون کی شدید قلت

طفیل احمد  جمعـء 23 جون 2017
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈڈیزیزمیں11سالہ بچی کوبمبئی خون کاگروپ نہ ملنے سے زندگی کاخطرہ لاحق ہے، ڈاکٹر ثاقب انصاری۔ فوٹو: فائل

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈڈیزیزمیں11سالہ بچی کوبمبئی خون کاگروپ نہ ملنے سے زندگی کاخطرہ لاحق ہے، ڈاکٹر ثاقب انصاری۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خون کی شدید قلت پیدا ہوگئی، رمضان کے آخری عشرے میں رضاکارانہ خون کے عطیات میں 95 فیصد نمایاںکمی کاسامنا ہے ،تاہم عام طورپر روزے کی حالت میں خون کے عطیات دینے سے گریزکرتے ہیں۔

کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں 11 سالہ بے بی بمبئی خون کاگروپ نہ ملنے کی وجہ سے موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے، صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ کی لاپروائی اورغفلت کی وجہ سے او نگیٹو، پازٹیو اور بمبئی سمیت دیگر بلڈگروپس کی شدیدکمی کا سامنا ہے، مذکورہ گروپس والے مریضوں کو ایمرجنسی ہوجانے کی صورت میں زندگی موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اتھارٹی نے کراچی سمیت سندھ میں انسانی زندگی بچانے کے لیے محفوظ خون کی فراہمی کویقینی بنانے کیلیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔

دوسری جانب کراچی میں سینٹرل الائزڈ بلڈ بینک کوبھی فعال نہیں کیا جا سکا بلکہ اتھارٹی کے ذمے داران بعض نجی بلڈ بینکوں کی ملی بھگت سے خون کی تجارت میں مصروف ہیں، معلوم ہوا ہے کہ خون کے اجزامہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ اطلاعات یہ ہے آرہی ہیں کہ خون کے بعض اجزا کو بیرون ملک بھی فروخت کیا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اب تک 100سے زائد بلڈگروپ والے افراد سامنے آئے ہیں مگر اے، بی، او اور آر ایچ ڈی یہ خون کے گروپس انتقال خون میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

بچوں کے ماہرامراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ او بلڈ گروپ یونیورسل گروپ ہوتا ہے جو ایمرجنسی کی صورت کسی بھی مریض کودیاجاسکتا جبکہ کراچی میں بمبئی بلڈگروپ ناپید ہے اس گروپ کے ملک بھر میں 9افراد سامنے آئے ہیں، بمبئی بلڈگروپ والے افراد کو اوبلڈ گروپ کا خون نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ بمبئی بلڈ گروپ والے افراد او بلڈگروپ کے خلاف شدید ری ایکشن کرتا ہے۔

ادھر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں خون کے گروپس پر کی جانے والی جدید تحقیق ا ور سائنسی میڈیکل جرنلز میں شائع ہونیو الی رپورٹس میں بتایاگیا ہے کہ پاکستان میں خون کے اے گروپ میں25 فیصد، بی35 فیصد اور خون کے اوگروپ میں40 فیصد افراد موجود ہیں لیکن پاکستان میں بمبئی گروپ کی شدید قلت ہے۔

واضح رہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں 11سالہ بے بی عافیہ جس کا بلڈ گروپ بمبئی ہے بچی کی زندگی بچانے کیلیے فوری بمبئی گروپ درکار ہیں، کراچی میں بمئبی بلڈ گروپ کے 4افراد جبکہ ملک بھر میں 9افراد ہیں اگر ان مریضوں کو ایمرجنسی ہوجائے تو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عمیر ثنافاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ثاقب انصاری اورنیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزکے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں رضاکارانہ خون کے عطیات دینے والوں میں 95 فیصد نمایاں کمی ہوجاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔