سب اپنی اپنی اشرافیہ کو رو رہے ہیں

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 25 جون 2017

رونے والا اگر اکیلا رو رہا ہو تو اس کے درد کی شدت ناقابل بیان ہوتی ہے، پھر اس کا دکھ برداشت کے قابل نہیں رہتا، لیکن اگر قریب یا دور کہیں سے کسی اور کے بھی رونے کی آواز آرہی ہو تو پھر رونے والے کی ہمت بندھ جاتی ہے، کیونکہ اسے یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کوئی اور ایسا ہے جو کہ دکھی ہے اور وہ اس کے در د دکھ اور غم کو سمجھ سکتا ہے۔

اشرافیہ کو رونے والو، میرے ہم وطنو، یقین رکھو کہ تم اس درد، دکھ اور غم میں اکیلے مبتلا نہیں ہو، کہیں دور سے ہی سہی اسے رونے کی آوازیں آرہی ہیں۔ اس لیے خوب زور زور سے روؤ، کیونکہ یونانی بھی تمہارے ساتھ اسی درد، دکھ اور غم میں مبتلا ہیں۔ کاش کہ وہ ہمارے پڑوسی ہوتے تو خوب گلے مل مل کر ساتھ ساتھ روتے، ساتھ ساتھ انھیں کوستے۔ لیکن لگتا ہے ہم دونوں کو اکیلے اکیلے ہی یہ درد، دکھ اور غم اٹھانا پڑے گا، کیونکہ بیڑا غرق ہو ان انتہاپسندوں کا، جنھوں نے ہمیں اتنا مشکوک بنادیا ہے کہ یونانی بھی ہمیں اپنے ملک کا ویزا دیتے ہوئے کانپتے ہیں۔

اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم سب یونان چلتے اور پھر انھیں گلے لگا کر ان سے مل مل کر خوب روتے۔ ذرا سوچو تو کہ ساتھ مل کر رونے میں کتنا مزا آتا۔ ہمیں اپنا تو معلوم ہے کہ ہم کیسے برباد ہوئے، آئیں یہ دیکھتے ہیں کہ ’’یونان اشرافیہ کے ہاتھوں کیسے برباد ہوا؟‘‘

پاولس ایلف تھریاڈس جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، لکھتے ہیں ’’صرف چند سال پہلے، یونان قرضوں پر نادہندہ ہونے اور یورو زون سے باہر نکل جانے کے خطرناک حد تک قریب پہنچ گیا تھا۔ آج تاریخ کے سب سے بڑے خودمختار بیل آؤٹ پیکیج کی بدولت، ملک کی معیشت میں دوبارہ ’’زندگی‘‘ کے آثار نظر آنے لگے ہیں، ان وعدوں کے بدلے میں کہ ایتھنز تیزی سے سادگی کی طرف بڑھنے کے لیے اقدامات کرے گا، نام نہاد ٹرائیکا، یورپین سینٹرل بینک، یورپین کمیشن اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ہنگامی قرضوں کی مد میں اربوں ڈالرز فراہم کردیے تھے۔

بہت سے عالمی سرمایہ کاروں اور یورپی حکام کے نقطہ نظر سے یہ پالیسیاں کامیاب رہی ہیں، اپنے بینکوں کے سرمایہ کو نئے سرے سے منظم کرنے کے لیے اخراجات میں ایک بار کمی کرنے کی وجہ سے گزشتہ برس یونان کے بجٹ کا شارٹ فال تقریباً دو فیصد تھا۔ پچھلے سال ملک میں تین دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس موجود تھا اور گزشتہ اپریل میں یونان کی بین الاقوامی قرض منڈیوں میں واپسی ہوئی، جہاں اس کے لیے چار سال سے تالا لگادیا گیا تھا، تاہم ترقی کی طرف حالیہ واپسی نے گہرے بنیادی مسائل پر پردہ ڈال دیا ہے۔

اپنے کھاتے بھرنے کے لیے ایتھنز نے درمیانے طبقے پر بہت بھاری ٹیکس عائد کردیے اور سرکاری تنخواہوں، پنشن اور صحت عامہ کی سہولتوں کی کوریج میں تیزی سے کمی کی ہے۔ ایک طرف جہاں عام شہریوں کو سادگی پر مبنی اقدامات کے بوجھ کو برداشت کرنا پڑرہا ہے، حکومت بامقصد اصلاحات کی طرف بڑھنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یونان اس طرح کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے، کیونکہ ملک کی اشرافیہ، چیزوں کو جیسی ہیں، ویسی ہی رکھنے میں ذاتی دلچسپی رکھتی ہے۔

1990 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کے بعد سے امیر خاندانوں کی ایک مٹھی بھر تعداد، جو صرف نام کی اشرافیہ ہے، یونانی سیاست پر غلبہ جمائے ہوئے ہے۔ ان اشراف نے ملک کے سیاست دانوں کے ساتھ اقتدار کی لوٹ مار میں اشتراک کرتے ہوئے، میڈیا پر کنٹرول اور پرانے انداز کی اقربا پروری کے ذریعے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، نتیجتاً یونانی قانون ساز، اسٹیٹس کو کی حمایت کرنے والی پیشہ ور انجمنوں اور پبلک سیکٹر یونینوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو نواز کر اقتدار پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اب جب کہ یورپی قرض فراہم کرنے والوں نے ملک کے مالیاتی امور پر کڑی نگاہ قائم کر رکھی ہے، اسی نظام کو جاری رکھا گیا ہے۔

یونان کو درپیش مسئلہ معاشی نمو نہیں بلکہ سیاسی عدم مساوات ہے، ایسی صورتحال میں بھی جب کہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ ڈگمگا رہا ہے، غربت بڑھ رہی ہے اور کرپشن جوں کی توں ہے، چند لوگوں پر مشتمل پسندیدہ طبقے کے فائدے کے لیے بوجھل قواعد و ضوابط اور غیر فعال اداروں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔

یونانی معاشرے کو نئے خطرات کا سامنا ہے، مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 27 فیصد اور نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے، طبقہ اشرافیہ کے لوگ اور ان کے سیاسی اتحادی عوامی چھان بین سے بچنے کے لیے میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، اسی طرح وہ ریاست پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے قواعد و ضوابط پر انحصار کرتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دو انتہائی مفاداتی گروہوں نے یونانی قانون کے تحت سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے، پہلا گروہ پیشہ ور اشرافیہ پر مشتمل ہے اور دوسرا بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے۔

یونان اب یورپی ممالک کے درمیان سب سے آخری صفوں میں شامل ہوتا ہے اور یہ عدم مساوات کی پیمائش میں سرفہرست ہے۔ آج بیروزگاروں میں سے 90 فیصد کو حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں مل پاتی۔ اندازے کے مطابق تقریباً 20 فیصد یونانی بچے انتہائی غربت میں رہتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو ہیلتھ انشورنس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے علاوہ کساد بازاری کے سات سال کے بعد بھی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے بھی عالمی کوریج حاصل کرنے کے لیے فلاحی ریاست کے قیام یا صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لیے کسی بھی سنجیدہ اصلاحات کی تجویز نہیں دی ہے۔ انھوں نے تو سرکاری اسکولوں میں مفت کھانا مہیا کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروگرام کو بھی توسیع نہیں دی ہے۔ یونانی لوگ جن کے پاس کہیں جانے کو راستہ نہیں بچا، وہ بنیاد پرست سیاسی تحریکوں کی طرف راغب ہونا شروع ہوگئے ہیں‘‘۔

یونان کی ہماری ہی جیسی حالت دیکھ کر کافی دنوں کے بعد دل کو جیسے سکون سا مل گیا ہے کہ ہم دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ آؤ ذرا قریب آؤ اور غور سے سنو، کہیں اور دور سے بھی رونے کی آوازیں آرہی ہیں، لگتا ہے کہ یہ آوازیں ایتھوپیا، سوڈان، نائیجیریا، افغانستان، لاطینی امریکا کے کچھ ممالک، لیبیا، عراق، شام سے آرہی ہیں، وہ بھی سب کے سب اپنی اپنی اشرافیہ کو رو رہے ہیں۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، اب تو مکمل یقین آگیا ہے کہ ہم ہرگز اکیلے نہیں ہیں، ہم جیسے اور بہت مجبور اور بے بس دنیا میں موجود ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔