کرائے پر دستیاب لوگ

آفتاب احمد خانزادہ  جمعرات 29 جون 2017

پاکستان کی موجودہ صورتحال اور حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ نوم چومسکی کے لکھے گئے مضمون ’’پروپیگنڈااوردانشوروںکی ذمے داری‘‘ کے اقتباسات کو ایک بار پھر دوبارہ پڑھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’پرو پیگنڈا کی جدید تاریخ کاآغاز ہم کہہ سکتے ہیں کہ وڈرو ولسن انتظامیہ کے دور سے شروع ہوا۔

ولسن 1916ء میں ایک منتخب صدر تھے اور ان کی انتخابی مہم کی بنیاد یہ نعرہ تھا ’’امن بغیر فتح‘‘ پہلی جنگ عظیم کے دوران یہ ایک زبردست نعرہ تھا۔ امریکی عوام بہت پرسکون اور مطمئن تھے اور انہیں اس بات کے لیے کوئی وجوہ نظر نہیں آئی تھی کہ امریکا یورپی جنگ میں شریک ہو، تاہم ولسن انتظامیہ جنگ میں شمولیت کی خواہش مند تھی اور انہیں اس حوالے سے کچھ کرنا تھا۔

اس کے لیے انھوں نے ایک پروپیگنڈا کمیشن قائم کیا جس کا نام ’’کریل کمیشن‘‘ تھا جس نے چھ ماہ کے مختصر عرصے میں ایک انتہائی پرسکون اور مطمئن قوم کو ہیجان انگیز اور جنگ کی خواہش مند قوم میں تبدیل کردیا جو جرمنی اور اس سے وابستہ ہر شے کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوچکی تھی۔

یہ کمیشن کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی جس کے بعد اس کی ذمے داریوں کو مزید آگے بڑھایا گیا اور جنگ کے بعد اسی کمیشن کے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک ایسی فضا تیار کی گئی کہ جہاں مزدورتنظیموں کو کامیابی سے ختم کیا گیااور پھر انہیں بر ی طرح دبایا گیا اور پھر حریت صحافت اور سیاسی نظریات کی آزادی کو بھی تبا ہ کیا گیا اور اس تمام عمل میں خود میڈیا کا تعاون بھی شامل تھا اور نہ صرف یہ کہ بلکہ بہت سے کاروباری اداروں نے اس منظم پروپیگنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں نمایاں کردارادا کیا۔ ولسن کی اسی پروپیگنڈا مشین میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں ترقی پسند دانشور بھی شامل تھے۔

’’اگر آپ کبھی غور سے میڈیا پر اٹھائے جانے والے نعرے اور سوالات دیکھیں تو آپ پر انکشاف ہوگا کہ یہ سب اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں یعنی معنویت سے تہی۔ یہ پروپیگنڈا کی کامیابی ہوتی ہے کہ اس طرح کے سلوگن تیارکرو   جس کی مخالف کوئی نہ کرسکے اس ’’سلوگن‘‘ کے پس پردہ کیا حقائق پوشیدہ اورکیا مسائل وابستہ ہیں، ان کی طرف پھرکسی کا دھیان نہیں جاتا۔ حکومت جب کوئی پالیسی اپناتی ہے تو یہ ہی بتاتی ہے کہ یہ مفاد عامہ کے لیے بنائی جارہی ہے اور پھر عوام سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس عوامی مفاد پر مبنی پالیسی کے حق میں ہیں یا نہیں؟

عوام کو کبھی اس پالیسی سازی کے عمل میں شریک نہیں کیاجاتا اور نہ ہی اس پر مباحث ہوتے ہیں۔ جو لوگ پبلک ریلیشن صنعت سے وابستہ ہیں وہ محض تفریح کی غرض سے اس صنعت میں نہیں آتے بلکہ اس کے پس پردہ ایک مکمل منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔ یہ لوگ انتہائی احتیاط سے ایک ایسی محضوص کلاس تیار کرتے ہیں جو اپنے آقاؤں کے مفادات کی تکمیل میں جت جاتی ہے یعنی وہ لوگ جن کے ہاتھ میں دراصل معاشرے کی باگ دوڑ ہوتی ہے۔

اس سارے عمل میں عوام کہاں ہیں؟ عوام کو ہمہ وقت گھروں میں محصور رکھا جاتاہے جہاں وہ ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے ذہنوں پر طرح طرح کے پیغامات کی برسات ہوتی رہتی ہے۔ ان پیغامات میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہیں فلاں فلاں مصنوعات کی ضرورت کیوں ہے یا پھر انہیں اپنا طرز زندگی امیر، متوسط طبقے کی مانند بنانا چاہیے وغیرہ وغیرہ اور بس۔ اسی کانام زندگی ہے یہ تمام عمل اتنے تسلسل سے دہرایا جاتا ہے کہ عوام کو یہ سو چنے کی مہلت ہی نہیں ملتی کہ زندگی اس کے سوا کچھ اور بھی ہوسکتی ہے، جب میڈیا آپ کے مکمل کنٹرول میں ہو تعلیمی نظام اپنی مرضی کے مطابق ہو اور دانشور طبقہ لکیرکا فقیر بنا رہنے پر راضی ہو تو پھر آپ کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کی ایک مثال یونیورسٹی آف میسا چیوسٹس کے ایک سروے سے سامنے آتی ہے جب یونیورسٹی کی جانب سے جائزہ رپورٹ کی تیاری کے دوران لوگوں سے سوال کیاگیا کہ ان کے خیال میں ویت نام جنگ میں کتنے افراد زخمی و ہلاک ہوئے ہوں گے؟ تو رائے عامہ کے مطابق جواب اوسطاً ایک لاکھ کے لگ بھگ تھا حکومت کی جانب سے بیس لاکھ افراد کی ہلاکت و زخمی ہونے کی رپورٹ تیارکی گئی تھی جبکہ حقیقت تو یہ ہے یہ تعداد چالیس لاکھ کے قریب تھی۔

اسی طرح جب عوام سے یہ سوال کیاگیا کہ ان کے خیال میں دوسر ی جنگ عظیم میں کتنے یہودی ہولوکاسٹ کی نذر ہوئے ہوں گے تو اوسط جواب تین لاکھ تھا عوام کے سامنے جو حقائق پیش کیے جاتے ہیں، ان کا حقیقت سے دورکا بھی واسطہ نہیں ہوتا اصل حقائق جھوٹ کے ملبے تلے کہیں دبے ہوتے ہیں اور میڈیا اس ملبے میں مستقل اور مسلسل اضافہ کرتا رہتاہے۔‘‘ اگرآپ والیٹر کے اس دور کے مضامین کا جائزہ لیں تو آپ کو ان میں ایسے موضوعات نظرآئیں گے جن کا مقصد رائے عامہ کو حکومتی مقاصد کے تحت ہموار کرنا تھا۔ والیٹر نے کہا تھا پروپیگنڈے کی نئی تکنیک اور ذرایع کی مدد سے آپ لوگوں کو ان نظریات پر آمادہ کرسکتے ہیں جن کے لیے وہ عام طور پر تیار نہیں ہوتے اورآپ ’’عوامی حمایت‘‘ کو مرضی کے مطابق تیارکرسکتے ہیں۔

اگرآپ غور سے پاکستان کی صورتحال اور حالات کاجائزہ لیں تو آپ کو فوراً احساس ہوجائے گا کہ پاکستان کا موجودہ’’کریل کمیشن‘‘ دن رات اپنے کام میں مصروف ہے۔ روز صبح صبح خوش کن لباسوں میں ملبوس بڑے بڑے حکومتی عہدے دار ٹی وی پر نمودار ہوتے ہیں اور حقائق کے برعکس جھوٹی جھوٹی من گھڑت کہانیاں سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ کو یہ کہانیاں کچھ مہینوں سے لگا تار اور مسلسل سنائی جارہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اب سننے والوں کو یہ کہانیاں سن کر شرم آجاتی ہے لیکن مجال ہے کہ سنانے والے ذرا بھی شرمائیں۔

اصل میں نقل میں بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے بدقسمتی یہ ہے کہ عقل بازار میں نہیں بکتی ہے۔ آج عوام کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ بیچ چوراہے پر اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھے رور ہے ہیں اور ان کے چاروں طرف پاکستان کے ’’کریل کمیشن ‘‘ کے لوگ بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے زور زور سے جھوٹ پہ جھوٹ بولے جارہے ہیں۔

ہم سب پر ’’کریل کمیشن‘‘ کے پروپیگنڈا میزائل روزچھوڑے جارہے ہیں لیکن ہمارے موجودہ کر تا دھر تایہ سچائی بھولے بیٹھے ہیں کہ ’’کرائے پر دستیاب‘‘ لوگ کبھی بھی اپنے الفاظ میں سچائی کا رنگ نہیں بھر سکتے ہیں ’’یہ کرائے پر دستیاب‘‘ لوگ کبھی بھی عام لوگوں سے زیادہ سمجھ دار اور ذہین نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس لیے آپ ایک ’’کریل کمیشن‘‘ توکیا سیکڑوں ’’کریل کمیشن ‘‘بنالیں لیکن وہ جھوٹی کہانیوں کو کبھی بھی سچی کہانیاں نہیں بنا سکیں گے۔

لوگ بازاروں، سڑکوں پر اورگھروں میں بیٹھ کر ان ’’کر ائے پر دستیاب‘‘ لوگوں کا سرعام مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کی کہانیوں کی اب لوگوں کے نزدیک ’’لطیفوں‘‘ سے زیادہ اہمیت اور حقیقت نہیں رہی ہے۔ اس لیے خدارا لوگوں کو بیوقوف سمجھنا بند کردو۔ لوگ آپ سے اورآپ کے ’’کرائے پر دستیاب‘‘ لوگوں سے زیادہ عقل مند اور سمجھ دار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔