’’زلفی‘‘

جاوید قاضی  جمعرات 29 جون 2017
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

سب کی نظروں سے وہ وائرل وڈیو گزری ہوگی جس میں سندھ کے ایک مشہورمگر مرحوم سیاستدان کے جونیئرصاحبزادے مروج زنانہ لباس اوڑھ کر، زنانہ طرزکے ناچ میں مگن ہے۔کون زنانہ؟ کون مردانہ ہے؟ وہ اس خلفشار کی خلش میں یگانہ و یکتہ، الست ومست پا بہ جولاں، خْم بداماں، خاک و رقصاں پازیب پہن کرگلی گلی نگر نگر ڈھنڈورا پیٹتے جانکاری چاہتے ہیں، ان سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔ وہ سب جو ہم کوسوں دور چھوڑ آئے ہیں اور وہ دھوکہ جس کے ہم نے اتنے نقاب اوڑھ لیے ہیں ہم اب بے خبر ہیں۔ دْکھ اس بات کا نہیں ہے ، دْکھ فقط یہ ہے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ اس نکتے سے شروع کرنے کی غرض بھی نہیں!

مگر یہ وہ نکتہ ہے جہاں ’’زلفی‘‘ یعنی ذوالفقارعلی بھٹو جونئیر ٹھہرگیا ہے۔

بْلھے شاہ کی اس بات کی مانند

’’اک نکتے وچ گل مْکدی اے‘‘

نہ عورت مرد ہوتا ہے اور نہ مرد عورت،خود مردانگی اورنسوانیت انھی خانوں میں مْقیم ہے مگر حق وباطل کے ترازو میں جو پلڑے ہیں، ان میں مرد ہے کہ بْلندی پر ہے اور عورت ہے کہ پستی کی طرف، زلفی یہاں ٹھہرگیا۔ چھ سال کا تھا تو باپ کو گولیوں سے بْھون دیا گیا۔ سترکلفٹن کے سامنے، بیچ چوراہے پرزلفی جونئیر، زلفی سینئرکی تصاویر میں اْلجھا ہوا تھا۔وہ دبنگ زلفی سینئرکا دادا، وہ شعلہ بیان مقرر جو سانگھڑ میں گولیوں کے سامنے اپنی قمیض چاک کر کے سینہ تان کرکہتا تھا کہ ’مارو،مارو، مجھے مارو۔‘‘ وہ جو لوگوں میں خوابیدہ، پر جوش مرد کا خیال تھا وہ اْس پر پورا اترتا تھا۔

مرد کے معنی تھے کہ مردانگی کیا ہے اور ایک مرد کوکیسا ہونا چاہیے۔ زلفی سینئیر اس پرپورا اترتا تھا اور لوگ اس پرفریفتہ تھے کہ وہ ایک بھر پور مرد ہے۔ مردانگی کا پیکر۔ وہ جو کہتا تھا کہ’’یہ گردن کٹ تو سکتی ہے مگر جْھک نہیں سکتی‘‘ زلفی جونئیرکے والد بھی انھیں معنوں پر پورا اترتے تھے۔ زلفی جونئیر کا چاچا شاہنواز بھی اوراس کی پھپھو بے نظیر بھی کیا تھیں۔ سندھ کی ماروی،ایک جون آف آرک جیسی نڈر رہبر! جو بہیمانہ طور پر قتل کی گئیں۔

اس میں جرأت تو تھی، ہمت تو تھی، وہ آہن تو تھیں وہ ایک عظیم عورت بھی تھیں، مگر مرد نہ تھیں۔اْسے ہونا بھی نہیں چاہیے اس سے خود عورت کی تذلیل ہوتی ہے۔ وہ اِس پِسے ہوئے سماج میں ایک بھرپور عورت تھی بس۔کیونکہ اْسے زلفی سینئیر نے اپنی تربیت میں بھرپور عورت بنایا تھا۔ زلفی سینئر بھی زلفی جونئیر کی طرح اپنے، بچپن میں کئی سوالات لے کر ان کے جوابات کی تلاش میں رہتا تھا،کیونکہ وہ سرشاہنواز بھٹوکا بیٹا تو تھا مگر وہ بیگم خورشید کا بیٹا بھی تھا۔ بیگم خورشید، سرشاہنواز بھٹو کی دوسری بیوی تھیں۔ وہ بھی رقص کی طالبہ تھیں۔ زلفی جونئیرکی ماں بھی رقص کی ٹیچر تھیں۔

آج زلفی جونئیر نے سب کو مات دے دی جس طرح شاعر کہتا ہے

’’میں چھوٹا سا ایک بچہ ہوں پرکام کروں گا بڑے بڑے‘‘

وہ اتنا بڑا کام کر گیا کہ تاریخ حیراں ۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ پاکستان کا ریاستی تصور ایک مونچھوں والے مرد کی طرح ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ساریVoilence  اور دہشتگردی جس میں اْس کے تمام پیارے مارے گئے ایک مرد کی طرح۔ وہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ مرد کے معنی میں ہے مرد میں نہیں۔ وہ اِس مرد کو صحیح معنی دینا چاہتا ہے اور اس غیرت، انا اور تمام فرسودہ خیالات میں موجود معنی کو بھسم کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہ ہی سوال ہے جو بْلھے کے پاس آیا تھا، بھٹائی کے پاس آیا تھا۔ بھٹائی، اگر حقیقی تحقیق کی جائے تو اس کے وجود کے اندر توڑ پھوڑ کرنے والا مرد کہیں نہیں تھا وہ صرف ایک آرٹسٹ تھا اور سچ پانے کے لیے اس کے پاس بھی یہی سوالات تھے جو کہ زلفی جونئیر کے پاس ہیں۔

موئن جو دڑو کے بعد سندھ کا سب سے بڑا مظہرخود بھٹائی ہے اور اِن دونوں کے بیچ چارہزار سال کی تاریخ ہے۔ موئن جودڑوکے دور میں عورت ایک مرد تھی یعنی ایک بھرپور عورت تھی۔ ان کی دیوی ’’سمبارا‘‘ بھی ایک رقاصہ تھی۔ موئن جو دڑو میں عورت کا راج تھا۔ بھٹائی نے اْسی چار ہزار سال کی تاریخ کو ترتیب دیا تو پتہ چلا کہ بھٹائی کے اندر خود ایک عورت بستی تھی۔

اس کی شاعری کی تمام سْورمائیں عورتیں تھی۔ سسی، ماروی، نوری، سوہنی …

عجیب ہے زلفی جونئیر، اسے پتہ بھی نہ چلا اور وہ کتنا بڑا کام کرگیا۔

پہلے تو لوگوں نے اْسے ابھیچند کہا، پھر سندھیوں کے شہپر (مونچھیں) جن کے تاؤ اونچے تھے وہ جْھک گئے اور جو بھٹو کے دشمن تھے انھوں نے تمسخر اڑایا، مگر زلفی جونئیر نے پرواہ نہ کی وہ اِن تمام مقناطیسی اثرات سے کچھ الگ ہوگیا کہ جیسے عشق ہو، بے وزن، تِنکے کی مانند، نہ جسم نہ جاں نہ چیزعجب نہ اِیں نہ آں، وہ افسونِ ِ زماں و بیروں زِ مکاںہو گیا۔ وہ نہ یہ رہا، نہ وہ رہا اور اسی نکتے پر آکر اس نے پایا جواب کہ ’’مرد بنو مرد‘‘ وحشی نہیں۔ وہ مرد جس میں موسیقی، نرم مزاجی اور خوبصورتی کے تمام زاویے وہ لانا چاہتا تھا جو وہ کھوچکا تھا۔وہ فہم کی آزادی کا متوالا ہے اور اس نے اپنا ناتا جوڑ دیا اْن سارے لوگوں کے ساتھ، جس کو مرد کی اِس کھوکھلے معنی نے ڈسا ہے۔

سنو! وہ فاطمہ کا بھائی ہے جس کے پاس کیا نہ تھا، جواپنی پھپھو کے لیے مسئلہ بن سکتی تھی۔اس حوالے سے پھپھو اس سے ڈرتی بھی تھی۔ فاطمہ اپنے باپ اور دادا کی طرح اس سورش کا شکار نہیں ہونا چاہتی تھی، نہ ہی خواہ مخواہ مرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنے انداز میں اپنے طرز کی ایک شاعرہ بن کر، ایک آرٹسٹ بننا چاہتی تھی۔ زلفی جونئیر کی اماں اْن کی استاد تھیں۔ ہوا کیا؟ اْس کی پھپھو تاریک راہوں میں ماری گئیںاوراْس کی پارٹی، آہستہ آہستہ تاریخ ہوتی جا رہی ہے۔

مگر زلفی جونئیر سندھ اور سندھیوں کے لیے پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے، برصغیر کے لوگوں کے لیے وہ ہی تصوف، وہ ہی بیانِ غالب ، وہ ہی بلھا وہی باہْو وہ ہی سرمد چھوڑے جا رہا ہے۔عشق محبت، حسن ، موسیقی، ممتا، شفقت، دھمال، رقص کہ عورت و مرد سب برابر ہیں۔ سب مذہب برابر، نہ ابھیچند بْرا نہ کوئی اور سب کے حقوق ہوں زندہ اور سب ہوں آزاد شہری۔زلفی نے کرنا تو اپنی تذلیل چاہی تھی اور اس تذلیل سے ہمیں چھوٹا کرنا چاہا مگر زلفی جونئیر ہم چھوٹے ہو نہ پائے کہ ہم بھی تذلیل کے بے معنی و کھوکھلے خیال سے آزاد ہیں، مگر تم نے جو لامکاں میں گھر بنایا ہے تمہیں مبارک۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔