عقل و فکر مردہ باد

آفتاب احمد خانزادہ  ہفتہ 1 جولائ 2017

ہسیوڈ نے کہا ہے ’’ہنگامے کی ابتداء ہوجاتی ہے، عدل کو جب گھسیٹ کر نکال کر باہرکیا جاتا ہے۔ جب رشوت خور اس کا گلا گھونٹتے ہیں، روایت سے غلط نتائج برآمدکرتے ہیں۔‘‘ یونانیوں کو علم تھا کہ انسانوں کی شروعات انتہائی نچلی بلکہ وحشیانہ سطح سے ہوئی ہے۔ پروٹاگورس نے انسانوں کی فطرت پرکامیابی کو دیوتا کی جانب سے طے کردہ طریقوں پر منتج قرار دیا تھا، زیوس نے ہرمس کو زمین پر اس حکم کے ساتھ روانہ کیا تھا ’’ میری جانب سے (انھیں ) قانون عطا کرو اور بیماریوں کی مانند، ان انسانوں کو نابود کردو جوکہ شرافت ،سلیقہ مندی اور عدل کو اپنا نہیں سکتے ‘‘ تصور یہ تھا کہ انسانوں کی تعلیم اور ان کی ترقی، قوانین کے ذریعے ہوتی ہے اور تہذیب کا دارومدار اسی پر ہے کیونکہ اس کے ذریعے اخلاقی اور سماجی خوبیاں عام ہوتی ہیں آج پاکستان میں ہر طرف ہنگامہ مچاہوا ہے کیونکہ رشوت خوروں نے عدل کوگھسیٹ کر باہر نکال کراس کا گلا گھونٹ دیا ہے۔

اس وجہ سے چاروں طرف خوفناک تباہی پھیل چکی ہے ہر طرف بربادی اپنا سینہ چاک کرکے سر میں خاک ڈال کر ماتم کررہی ہے ملک کے ہر ادارے میں خاک اڑاتی پھر رہی ہے آگ جب بجھ جاتی ہے تو پھر اس جگہ سے آخری دھواں اٹھتا رہتا ہے بالکل ویسا ہی دھواں ہر ادارے سے اٹھ رہا ہے، ہر ادارہ اجڑی ہوئی بیوہ کی مانند نظر آرہا ہے۔ افلاطون اپنے مکالمے ’’ریاست ‘‘ میں بربادی کے ذمے دار آمر کو ایک ایسا فرد بتاتا ہے جو خوف اور ناعدلی کا شکار ہے اور اپنے چاروں طرف ایسی تباہی برپا کرتا ہے جیسی کہ اس کی ’’ روح کے اندر مچی رہی ہوتی ہے‘‘ ارسطو کے خیال سے آمر خوشامدیوں کے نرغے میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

عظیم جرمن ماہر نفسیات و فلسفی ایرک فرام ان ہی باتوں کو اپنے انداز میں آگے بڑھتا ہے وہ لکھتا ہے ’مجھے ایک دلچسپ تقریر یاد آرہی ہے جو ایک عظیم ہسپانوی فلسفی یونامونو نے ایک ایسے موقعے پر کہی جو ہسپانوی خانہ جنگی سے شروع ہونے سے ذرا پہلے کادور ہے ۔ یونیورسٹی آف سلامانکا کی تقریب سے جنرل میلان اسڑے خطاب کرنے آئے یونامونو اس یونیورسٹی کے سربراہ تھے جنرم میلان کا موٹو تھا کہ ’’موت زندہ باد ‘‘ اور دوران تقریر ان کے حامی مسلسل یہ ہی نعرے بلند کرتے رہے جب جنرل اپنی تقریر ختم کرچکے تو یونامونو اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ’’ابھی ابھی میں نے مردہ پرستی اور بے حسی کی چیخ و پکار سنی ہے جو موت کے حق میں نعرے لگا رہی ہیں اور کہہ رہی ہے کہ موت زندہ باد ! میری پوری زندگی سماجی مسائل و فلسفیانہ گھتیاں سلجھاتے گذری ہے اور اس میں ایک ماہر کی حیثیت سے میں آپ سے کہتا ہوں کہ مجھے یہ نعرے عجیب اور اجبنی لگتے ہیں۔

جنرل میلان ایک جنگی مریض ہیں اور بدقسمتی کی بات ہے کہ اس وقت اسپین میں ایسے معذوروں کا ایک جم غفیر اکٹھا ہوگیاہے اور اگر خدا جلد ہماری مدد کو نہیں آیا تو اس تعداد میں اضافہ ہوتاجائے گا یہ جان کر مجھے سخت صد مہ اور رنج پہنچتا ہے کہ جنرل میلان جیسے لوگ عوامی نفسیات کے خطوط متعین کررہے ہیں۔ جنرل میلان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور جب اس کی برداشت سے باہر ہوگیا تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا ’’عقل و فکر مردہ باد ! موت زندہ باد ‘‘ جنرل فرانکو کے حامی ، جوکہ سامعین میں موجود تھے انھوں نے بھی جنرل میلان کے حق میں نعرے بازی کی لیکن یونامو نو نے اپنی بات جاری رکھی ’’ یہ درس گا ہ علم وعقل کا ایک مقدس معبد ہے اور میری حیثیت اس علمی پرستش گاہ کے ایک اعلیٰ پجاری کی سی ہے یہ جنرل میلان جیسے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے تقدس کو بے حرمت اور اس کی عظمت کو بے توقیر کیا ہے مجھے معلوم ہے کہ تم فتحیاب ہوگے کیونکہ تمہارے پاس بے تحاشہ حیوانی صفت افرادی قوت ہے لیکن تمہارے پاس اس کے لیے کوئی معقولیت نہیں اور نہ ہی تم مجھے اس سلسلے میں قائل ومائل کرسکتے ہو کیونکہ یہ سب کرنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے تم ان سے تہی ہو، یعنی عقل اور اپنی جدو جہد میں حق پر ہونا میرے خیال میں تمہیں اس پر راغب کرنا کہ تم اسپین کے مستقبل کے حوالے سے کچھ سوچو محض بے سود ہے میں نے جو کہنا تھا کہہ چکا ‘‘۔

ایرک فرام آگے کہتا ہے ’’ جب مر گ میں مبتلا افراد کو لاشوں ، مردوں سے محبت ہوتی ہے انھیں مردوں کے جسم سے آنے والی بو بہت بھاتی ہے۔ ایسے لوگ موت کے بارے میں گفتگو کرنے سے سکون حاصل کرتے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں ہٹلر کی شخصیت ایسی نظر آتی ہے جو جب مرگ میں مبتلا تھا ایسے لوگ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو مزید طاقت کے حصول کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ اپنی قوم کی تباہی سے بھی گریز نہیں کرتے اور حتی کہ اپنے آپ کو بھی تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔ ‘‘طاقت ، اختیار اور آمریت کا حصول بیمار ذہنی کیفیت کی حالت کا نام ہے یہ اس رویے کا نام ہے جس میں انسان قاتلوں کو دیوانہ وار چاہتا ہے اور ان کی تمام نفرتیں مقتولین کے لیے ہوتی ہیں۔

دنیا کی تمام تر عظیم برائیاں اور خرابیاں اسی سو چ میں چھپی ہوئی ہیں اگر یہ کہا جائے کہ ہماری تما م تر بربادیوں کے پیچھے یہ ہی بیمار ذہنی کیفیتیں ، رویے اور سوچ کھڑی قہقہے لگا رہی ہیں توکیا غلط ہوگا بہتان ہوگا۔ کیا ہمارے ملک میں جاری انتہاپسندی نے ان ہی سے جنم نہیں لیاہے، جب آپ اپنے آپ کو ہر قانون ، عدل اور مذہبی تعلیمات سے مبرا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور صرف اپنے نظریات اور عقیدے کو حق اور سچ ماننے لگتے ہیں اور ہمیشہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں تو پھر ایسی تباہی ، بربادی ، ذلت معاشرے میں پھیل جاتی ہیں جیسی آج پاکستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے جب ذہنی مریضوں کے ہاتھوں میں طاقت اور اختیار آجاتا ہے تو وہ اس کے علاوہ او کچھ کر بھی کیاسکتے ہیں ، جیساکہ افلاطون نے کہا تھا ’’ایسا فرد اپنے چاروں طرف ایسی تباہی برپا کرتا ہے جیسی کہ اس کی روح کے اندر مچی رہتی ہے ‘‘کیونکہ ایسے افراد سب سے پہلے عقل وفکرکو سماج بدرکرتے ہیں پھر جب عقل وفکر سماج بدر ہوجاتی ہیں توپھر ایسے سماج میں وحشت ، بربادی اورجب مرگ وحشیانہ رقص کرتی رہتی ہیں اور چاروں طرف سے ’’موت زندہ باد ‘‘ کے نعرے سنائی دیتے رہتے ہیں۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کرکہیے کہ کیا ہم سب ان عذابوں میں مبتلا نہیں ہیں۔کیا ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا نہیں جارہا ہے کیا آج شرافت ، عدل ، میرٹ، ایمانداری ، رواداری ، برداشت ، انصاف، مساوات ملک بدر نہیں ہوچکی ہیں کیا طاقت اختیار کے حصول کے لیے انسان درندے نہیں بنتے جارہے ہیں ،کیا ہمار ے کرتا دھرتا آمرنہیں بن گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔