یہ کام جناب وزیر اعظم کا تھا

تنویر قیصر شاہد  پير 3 جولائ 2017
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ملک میں قیامتوں پر قیامتیں گزر رہی ہیں۔ مقتدرین اور حکمرانوں کو چاہیے کہ بلاؤں اور وباؤں کو ٹالنے کے لیے کالے بکروں کی قربانی دیں۔عید سے پہلے دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں نے ہم پر قیامتیں ڈھا دیں۔ پہلے فاٹا کی کُرم ایجنسی کے مرکز ’’پارا چنار‘‘ میں دشمن کے پروردہ دہشت گردوں نے خود کش حملے کر کے ہمارے چھ درجن سے زائد پاکستانی بھائیوں کو شہید کر ڈالا۔ ابھی اِس کی بازگشت تھمی بھی نہ تھی کی کوئٹہ میں یہی خونی داستان دہرائی گئی۔ پھر کراچی میں نصف درجن روزہ دار پولیس کے سپاہیوں کو ’’نہ معلوم‘‘ دہشت گردوں نے دن دیہاڑے شہید کر دیا۔

اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی فضاؤں میں رچی بسی خون کی یہ باس مدھم بھی نہ ہُوئی تھی کہ احمد پور شرقیہ میں پونے دو سو کے قریب افراد لُقمہ اجل بن گئے ۔ اِس آتشیں سانحہ نے تو سارا ملک سوگوار کر ڈالا ۔ حُزن اور دکھ کی فضا ابھی تک غالب ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں اِسی یاس انگیز فضا میں عید منائی گئی۔ احمد پورشرقیہ کے المناک سانحہ کے بعد عید کے فوراً بعد مری کے نزدیک ایک اور خونی حادثہ پیش آ گیا۔ ایک نجی لفٹ چیئر،جو ہر لحاظ سے ناقابلِ اعتبار تھی، ٹوٹ کر ہزاروں فٹ گہری کھائیوں میں جاگری۔

بتایا گیا ہے کہ اس میں ضرورت سے زائد افراد سوار کیے گئے تھے۔ گویا انسانی لالچ نے ایک مرتبہ پھر اپنا بھیانک چہرہ دکھایا اور درجن بھر افراد جاں بحق ہو گئے۔ کیا اِسے محض تقدیر کا لکھا سمجھا جائے؟ جاں سے گزر جانے والے یہ سب افراد مقامی نوجوان کرکٹر تھے۔اَلم اور دکھ کے اِن لمحات میں وفاقی وزیر جناب خاقان عباسی نے جاں بحق ہونے والے ان بارہ نوجوانوں کے گھروں میں پُرسا دینے کے لیے بھی جانا مناسب خیال نہ کیا حالانکہ یہ علاقہ اُن کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔

گذشتہ دس دنوں میں وقوع پذیر ہونے والے اِن نصف درجن المناک سانحات میں پارہ چنار کا سانحہ سب سے زیادہ دکھ دینے والا تھا کہ دہشت گردوں نے کُرم ایجنسی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ایک بار پھر للکارا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے پارا چنار میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ میرے سامنے دہشت گردی اور فرقہ واریت کے ایسے واقعات کی ایک لمبی فہرست پڑی ہے۔ عید سے سات دن پہلے ( 23جون2017 ء ) پارا چنار کو پھر خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔

چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے وزیر داخلہ صاحب، جن کی ملک سے کمٹمنٹ بِلا شبہ کسی بھی شک و شبہ سے بالا ہے،فوری طور پر پارا چنار اور پھر کوئٹہ کے سانحات کے بعد فوراً متاثرین کی اشک شوئی کے لیے پہنچتے مگر کوئی ایسا منظر سامنے نہ آسکا ۔ نہیں معلوم کیوں؟ایسے میں پارہ چناریوں کا احتجاج میں دھرنا دینا بجا تھا۔ قومی یکجہتی اور دہشت گردوں کے خلاف پختہ عزم کا بھی تقاضا تھا کہ مرکزی اور صوبائی وزرا کے ساتھ اپوزیشن والے بھی پارہ چنار پہنچتے تاکہ دہشت گردی زدہ افراد کے لواحقین اور ورثاکے زخموں کا اِندمال کیا جا سکتا۔ افسوس ایسا نہ ہو سکا۔

جناب عمران خان پارہ چنار پہنچے تو سہی مگر اِس حادثہ فاجعہ کے ٹھیک آٹھ یوم بعد۔ اِسے بھی غنیمت سمجھنا چاہیے ۔ دیر آئد، درست آئد۔چاہیے تو یہ بھی تھا کہ ہمارے مسالک کے تمام علمائے کرام، جو اٹھتے بیٹھتے ’’اپنا مسلک چھوڑونہ اور کسی کا مسلک چھیڑو نہ‘‘ کا درس دیتے رہتے ہیں، بھی یکمشت ہو کر پارہ چنارہ پہنچتے تاکہ دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کو واضح پیغام دیا جا سکتا۔

شومئی قسمت سے مگر ایسا بھی نہ ہو سکا ۔ گویا اللہ کے اُس پیغام کو پسِ پُشت ڈال دیا گیا جس میں اسلامی اتحاد کا حکم فرمایا گیا ہے: اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو۔ جب ہماری مذہبی قیادت ، لاریب جس کے کندھوں پر سماج کے سدھار کی بھاری ذمے داریاں عائد ہیں، اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتی نظر آ رہی ہو تو اِس پیش منظر میں بھلا وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف سے کسی بھی قسم کا گلہ اور شکوہ کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ وزیر اعظم صاحب کے پارہ چنار نہ پہنچنے کا گلہ کرنے والے کس منہ سے گلہ کر سکتے ہے؟

کُرم ایجنسی کے اِس خونی سانحہ کے پس منظر میں ملک بھر کی ہماری اہم سیاسی و مذہبی قیادتیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کر کے دشمنانِ پاکستان کو موثر پیغام دے سکتی تھیں۔ افسوس ماضی کی طرح اِس بار بھی یہ سنہری موقع ضائع کر دیا گیا۔ قوم کے اتحاد اور اتفاق کے لیے قدرت ہمیں ، آخری لمحہ آنے سے پہلے ، بار بار مواقع فراہم کر رہی ہے لیکن ہمارے قائدین اور فیصلہ ساز اِن مواقع سے مستفید ہونے کے بجائے اِنہیں ضائع کرتے جا رہے ہیں۔ کیا اِسے اجتماعی بے حسی اور مستقبل سے مطلقاً لاپرواہی کا رویہ قرار نہیں دیا جائے گا؟

غالباً یہ اِسی بے حسی کا ردِ عمل تھا کہ دہشت گردی کا شکار اور دہشت گردوں کا لُقمہ تر بننے والے پارہ چناریوں نے ردِ عمل میں اپنا دھرنا کچھ زیادہ ہی لمبا کر دیا۔ پورے آٹھ دنوں کو محیط۔ انھوں نے احتجاجی پرچم بھی لہرائے اور سینہ کوبی بھی کی۔ بے کسی اور بسی میں انسان اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ حکمرانوں نے متاثرین کو دو ملین روپے فی کس کی امداد دینے کا اعلان بھی کیا مگر یہ امداد بھی پارہ چناریوں نے وصول کرنے سے انکار کردیا کہ حکمران اور ذمے داران پہلے ہمارے پاس تشریف لا کر ہمارے دکھڑے تو سُنیں۔ امداد بعد میں دیں۔

وزیر اعظم صاحب لندن سے فوری واپس آ کر احمد پور شرقیہ کے متاثرین کی ڈھارس بندھانے اور اُنہیں مالی امداد فراہم کرنے تو جائے حادثہ پہنچے مگر پارہ چنار بوجوہ نہ جا سکے۔ اُنہیں وہاں ضرور تشریف لے جانا چاہیے تھا کہ پارہ چنار کی سرحدیں افغانستان کے جن صوبوں سے متصل ہیں، ان صوبوں میں اب دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ اپنے قدم جما چکی ہے؛ چنانچہ اِس پس منظر میں بھی جناب نواز شریف کو پارہ چنار میں دہشت گردی کا ہدف بننے والوں کے پاس پہنچنا چاہیے تھا تاکہ سرحد پار پناہ یافتہ شر انگیز قوتوں اور اُن کے سرپرستوں کو موثر پیغام پہنچ سکتا۔

اِن کشیدہ حالات میں سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ 30جون2017ء کو پارہ چنار پہنچے۔اُنہیں جَلد پہنچنا تھا لیکن مبینہ طور پر موسم کی خرابی آڑے آ گئی۔ احتجاجی پارہ چناریوں کا اصرار بھی بڑھتا جا رہا تھا(سیاسی قیادت سے مایوس ہو کر؟) کہ جنرل صاحب آئیں گے تو دھرنا خاتمے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا؛ چنانچہ افواجِ پاکستان کے سربراہ متاثرہ مقام پر پہنچے، دہشت گردی کا شکار بننے والوں کے درمیان بیٹھے،اُن کے بہتے آنسو اپنی آنکھوں سے دیکھے، مقامی عمائدین سے ملے، دہشت گردوں کے خاتمے کے خلاف اپنے عزم کا اظہار کیا، جن لوگوں نے احتجاجیوں پر گولی چلائی تھی اُن کے خلاف انکوائری کمیٹی بٹھانے کا اعلان کیا اور مقامی کمانڈنٹ ایف سی کو بھی تبدیل کر دیا۔اِن اقدامات سے پارہ چناریوں کو کچھ تو تسلّی اور تشفّی ملی ہے؛ چنانچہ انھوں نے اپنا آٹھ روزہ دھرنا ختم کر دیا۔

دیکھا جائے تو یہ کام ہمارے وزیر اعظم جناب نواز شریف کا تھا کہ وہی پاکستان کے منتظمِ اعلیٰ ہیں اور وہی ملک بھر کے عوام کے ووٹ لے کر تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے ہیں۔ یہ مینڈ ٹ اُنہی کا تھا کہ وہ خون میں لَت پَت پار چناریوں کے پاس پہنچتے اور اُن کے دلوں میں گھر بناتے۔

فاٹا کا سارا علاقہ جس طرح آتش بجاں بنا رہا ہے اور اِسے پاک فوج نے اپنے خون سے جس اسلوب میں دہشت گردوں اور ملک دشمنوں سے پاک کیا ہے، اس پس منظر میں بھی اگر وزیر اعظم صاحب کُرم ایجنسی کے مرکز پہنچتے تو پاکستان میں سویلین اورمنتخب لوگوں کی اتھارٹی کا خوبصورت نقش قائم ہوتا۔وہ اگر یہ قدم اٹھاتے تو سرحدوں کے اندر اور سرحدوں سے باہر ملک اور ملکی عوام سے اُن کی گہری کمٹمنٹ کاایک بار پھرواضح اظہار ہوتا ۔

ملک بھر کے عوام کو بھی نیا حوصلہ ملتا کہ جناب نواز شریف اب بھی وطنِ عزیز کے سب سے بڑے اور مقبول لیڈر ہیں۔جناب وزیر اعظم رواں لمحات میں جن بحرانوں میں گھرے ہیںاور اُن کی ملک بھر میں مقبولیت جس طرح سٹیک پر لگی ہے، ایسے میں تو اُن کا پارہ چنار جانا اور بھی ضروری ہو گیا تھا تاکہ اپنی مقبول سیاسی شخصیت اور سویلین حکمرانی کی رِٹ کا پرچم لہرایا جا سکتا۔ ایسا مگر نہ ہو سکا ۔پھر کیا کسی کا یہ گلہ بنتا ہے کہ ملک کے بارے میں اصل فیصلے تو کہیں اور کیے جاتے ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔