اس پہلو پر بھی غور کریں

مقتدا منصور  پير 3 جولائ 2017
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

برادرم یوسف مستی خان پاکستانی سیاسی منظرنامہ میں وہ رہنما ہیں، جو سیاست کی نزاکتوں کے ساتھ تاریخ کا تجزیۂ شعور بھی رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک ایسے سیاسی مدبر ہیں، جنھیں بابائے استمان میر غوث بخش بزنجو مرحوم جیسی دیدہ ور سیاسی شخصیت کے زیر تربیت رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آج جب کہ پاکستانی سیاست بدترین قحط الرجال کا شکار ہے، جو معدودے چند سیاسی اکابرین جمہوری اور انسان دوست سیاست کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں ، یوسف مستی خان ان میں سے ایک ہیں۔ اس لیے ان کے تجزیے اور جائزے باوزن اور حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔

پاکستان کو درپیش مسائل اور بحرانوں کے بارے میں یوسف مستی خان حقیقت پر مبنی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو سات بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں معاشی، سماجی اور ثقافتی نوعیت کے کئی بحران شامل ہیں۔ مگر اصل بحران ریاست کے منطقی جواز کی غلط تفہیم اور تشریح کا ہے، جس نے نظم حکمرانی کے بحران کو جنم دیا ہے۔ اس کے بطن سے درج بالا بحران پیدا ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک طرف ریاست کی مقتدر اعلیٰ اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں، تو دوسری طرف بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی فکری نرگسیت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کبھی زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ جس کی وجہ سے عوام مزید ذہنی اور فکری الجھنوں میں مبتلا ہوئے اور وہ خود معاشرے میں غیر متعلق (Irrelevant) ہوتے چلے گئے۔

یوسف مستی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے ابتدائی 23 برس مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اسٹبلشمنٹ اور سیاسی موقع پرستوں کے گٹھ جوڑ کے باعث مختلف النوع بحرانوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے۔ اس دوران جمہوریت اور وفاقیت سے دانستہ انحراف کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں قومی سوال شدت اختیار کرتا چلا گیا اور ریاست گریز رجحانات کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ بالآخر مشرقی حصہ علیحدہ ہوگیا۔ مگر حکمران اشرافیہ اور سیاسی جماعتوں نے اس المیہ سے سبق نہیں سیکھا، بلکہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بھی اپنی سابقہ روش جاری رکھی۔ نتیجتاً ہر چھوٹا صوبہ ریاستی اقدامات سے بیزار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 20 دسمبر 1971 کو باقی ماندہ پاکستان کو اپنی جغرافیائی سالمیت اور ریاستی بقاکے حوالے سے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ اس وقت ایک نئے عمرانی معاہدے (آئین) کی ضرورت تھی، تاکہ ملک کی باقی ماندہ اکائیوں کو جوڑے رکھا جاسکے۔ اس موقع پر قوم سیاسی رہنماؤں اور اہل دانش سے دور اندیشی اور فکری بالیدگی کی متقاضی تھی۔

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دائیں اور بائیں دونوں بازوں کے سیاسی اکابرین اپنی محدود فکر سے باہر نکلنے پر آمادہ نہیں تھے۔ حالانکہ میر غوث بخش بزنجو مرحوم درپیش چیلنجوں کی مسلسل نشاندہی کررہے تھے۔ دائیں بازو کے سیاستدان تہذیبی نرگسیت سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھے، جب کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے بھی ان کے جائزوں کو اہمیت نہیں دی، بلکہ انھیں بابائے مذاکرات کا خطاب دے کر تمسخر اڑایا۔

یوسف مستی خان کہتے ہیں کہ آج ملک جس مذہبی شدت پسندی، دہشت گردی، فسطائیت اور متشدد فرقہ واریت میں مبتلا ہے، اس کا بیج تو قیام پاکستان کے فوراً بعد بو دیا گیا تھا، مگر یہ تناور درخت مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بننا شروع ہوا۔ اس کی آبیاری میں اگر دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتوںکی ہٹ دھرمی کا کردار ہے، تو ترقی پسندی اور جمہوریت نوازی کی دعویدار جماعتوں کی غلط پالیسیوں اور اقدامات کا کردار بھی کم نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میر صاحب مرحوم کو ملک کے اندرونی حالات اور خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال کا واضح ادراک تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اس لمحے آئین سازی کا عمل مکمل نہیں ہوا تو پھر آئین کبھی تشکیل نہیں پاسکے گا۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ ترقی دوست تمام جماعتیں آئین سازی اور سیاسی اداروں کی تشکیل کے عمل میں بھرپور حصہ لیں۔

بلوچستان سے منتخب اراکین قومی اسمبلی کو صوبائی خودمختاری کے حوالے سے بعض شقوں اور قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنائے جانے پر اعتراض تھا۔ مگر ان تحفظات کے باوجود میر صاحب مرحوم نے انھیں آئین کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ خیر بخش مری مرحوم کے سوا تمام بلوچ اراکین قومی اسمبلی نے آئین کے مسودے پر دستخط کردیے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آئین کو کوئی بھی آمر منسوخ کرنے کی جرأت نہیں کرسکا۔

یوسف مستی خان کا کہنا ہے کہ میر صاحب مرحوم یہ محسوس کررہے تھے کہ کچھ نادیدہ قوتیں، پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلیے فعال ہوچکی ہیں۔ اس لیے وہ بار بار تنبیہہ کررہے تھے کہ NAP اور پیپلز پارٹی کے درمیان تناؤ، بھٹو مرحوم کو اسٹبلشمنٹ اور دائیں بازو کی جانب دھکیلنے کا باعث بنے گا۔ مگر نیشنل عوامی پارٹی میں ان کی باتوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ کیوں کہ پارٹی کے اندر ایک بڑا حلقہ بھٹو کے ساتھ تناؤ کو بڑھاوا دینے کا خواہشمند تھا، جن میں کمیونسٹ بھی شامل تھے۔

اس تناؤ کا یہ نتیجہ نکلا کہ پہلے بلوچستان میں منتخب حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر 1974 میں حیات محمد خان کی شہادت کے بعد NAP پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ہی اس کے تمام مرکزی رہنما پابند سلاسل کردیے گئے۔ اس کے بعد ملک پر فسطائی قوتوں کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی۔

بھٹو مرحوم سے بعض ایسے فیصلے کرائے گئے جو جمہوریت اور جمہوری اقدار کے منافی تھے۔ اس کے باوجود 1977 میں PNA کے ذریعے بھٹو مخالف تحریک نے جنرل ضیا کی آمریت کی راہ ہموار کرکے جمہوریت اور وفاقیت کو جو نقصان پہنچایا، وہ ناقابل تلافی ہے۔ کیوں کہ اس گیارہ سالہ دور میں افغانستان میں مذہبی جنون پرستی کی جو آگ بھڑکائی گئی، اس کے شعلوں سے اب پورا پاکستان جھلس رہا ہے۔

جنرل ضیا کی آمریت کی شکل میں جو تاریک دور شروع ہوا تھا، وہ آج بھی جاری ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک بدترین سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ بظاہر ملک میں سیاسی حکومت قائم ہے، مگر اس کی بے بسی اور لاچارگی بھی دیدنی ہے۔

اس صورتحال کی ذمے داری نادیدہ قوتوں کے علاوہ خود سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے، جنھوں نے عوام کو ان دس برسوں کے دوران کچھ دینے کے بجائے جمہوریت کے نام پر گمراہ کیا ہے۔ وہ جماعتیں جو قومی (Mainstream) کہلاتی ہیں، درحقیقت صوبائی جماعتیں بن چکی ہیں۔ اگر تین بڑی جماعتوں (مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف) کی مثال لیں، تو ان کے درمیان کسی قسم کا سیاسی نظریاتی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ آج ان جماعتوں کی شناخت سیاسی نظریات کے بجائے شخصیات اور خاندانوں کے علاوہ Electables کے گرد گھوم رہی ہے۔ جو گزشتہ دس برسوں سے کبھی ایک جماعت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کا رخ کررہے ہیں۔

یہ وہ وقت ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں معروضی حالات اور زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر نظرثانی کریں۔ عوام کو درپیش مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی خاطر خود کو Assert کرنے کی حکمت عملی تیار کریں۔ یہ طے ہے کہ پاکستان کو قائم رکھنے کے لیے اب عقیدے کی بنیاد پر جاری بیانیہ کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ لہٰذا ہمہ دینیت، حقیقی جمہوری اقدار اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے ان جماعتوں کی قیادتوں کو اپنی انا اور خودپرستی کے خول سے باہر نکلنا ہوگا۔

ایک ایسا وسیع البنیاد اتحاد قائم کرنا ہوگا، جس میں ٹریڈ یونینوں، تاجر اور صنعتکار تنظیموں، پروفیشنل باڈیز اور نوجوانوں کو مناسب نمائندگی حاصل ہو۔ یہ اتحاد اگر حقیقی معنی میں عوام دوست منشور کے ساتھ اگلے انتخابات میں اترتا ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔