صبر اور انتظار

عبدالقادر حسن  منگل 4 جولائ 2017
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

منظر اقتدار کے سب سے بڑے گھر کا تھا جو ہم سب نے ٹی وی کی اسکرینوں اور سوشل میڈیا میں مختلف زاویوں سے لی گئی تصویروں میں دیکھا کہ اہل خانہ اور قریبی عزیز و اقرباء کے علاوہ مصاحبین کی ایک معقول تعداد بھی جمع تھی، مبارک سلامت کا شور جپھیاں ڈال کر اور اپنی پسندیدہ مٹھائی سے منہ میٹھا کر کے جمہوریت کی بقاء کا جشن منایا جا رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے دو تین کے تناسب سے پانامہ کیس کے سلسلے میں اپنا تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے تین معزز جج صاحبان نے مزید تحقیقات کے لیے متحدہ تفتیشی ٹیم کی تشکیل کا جیسے ہی اعلان کیا ملک بھر میںحکمران جماعت کے متوالوں نے اپنی فتح کا جشن منانا شروع کردیا۔

وہ تو بھلا ہو ہمارے دوست چوہدری اعتزاز احسن کا جنھوں نے اسی وقت کہہ دیا کہ بھائی یہ فیصلہ انگریزی میں ہے اس کا ذرا اردو ترجمہ کر اکے پڑھ لیں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ یہ فیصلہ آپ کے حق میںا ٓیا ہے کہ مخالفت میں۔ بہرکیف فوری خطرہ تو ٹلا تھا اور بغیر نیام کے تلوار جس سے جمہوریت کو خطرہ قرار دیا جا رہا تھا اس کی دھار وقتی طور پر کند ہو گئی مگر یہ میان سے باہر ہی رہی اور سپریم کورٹ کی  جانب سے احکامات کے تحت بننے والی جے آئی ٹی نے اپنا کام شروع کرتے ہی اس کو مزید تفتیش کے لیے تھام لیا۔

پچھلے سال اپریل سے شروع ہونے والے اس کیس میں کئی موڑ آئے اور عدالت نے پوری توجہ سے اس کیس کے تما م فریقین کو وقت دیا اور ان کے اس کیس کے متعلق خدشات کو بھر پور توجہ سے سنا اور ان کی مرضی کا وقت ان کے وکیلوں کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے دیا گیا جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ہوئی کہ اس کیس میں انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے اور نظریہ ضرورت کو کہیں بھی جگہ نہیں مل رہی جس کی وجہ سے آج تک اس ملک کی قسمت کے فیصلے ہوتے آئے ہیں۔

جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد کی کارروائی میں جب اس ٹیم نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سوال وجواب کے لیے متعلقہ لوگوں کو بلانا شروع کیا تو ان بلائے گئے لوگوں نے یہ اعتراض اٹھانا شروع کردیا کہ یہ ٹیم جانبداری سے کام کر رہی ہے اور اس سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ حکومتی ایوانوں کی جانب سے بھی پہلے تو دبے الفاظ میں اور پھر ان کے وزراء نے جب یہ کہا کہ ہم نے ثبوت دے دیے ہیں اگر کسی کو سمجھ نہیں آرہی اور کسی کو قانون کی کتابیں نہیں پڑھنی آتیں تو ہم کیا کریںاور ہماری بات کو سنا تو جاتا ہے لیکن ہمارے تحفظات کو حل نہیں کیا جارہا۔

اور ابھی کل ہی تو میرے عزیز وزیر سعد رفیق جو کہ پہلے بھی اس معاملے میں گرج برس چکے ہیں ایک بار پھر بصد احترام لاہور میں مخصوص لاہوری اندازمیں کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا، ہماری بات سنی نہیں جا رہی، حادثہ ہو اتو ذمے دار عمران خان ہوں گے، بھٹونے اکثریت کا فیصلہ نہیں ماناتھا اور ملک ٹوٹ گیا اور آج بھی اقلیت کا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تو وہ تقریر ہے جو سعد رفیق صاحب نے مسلم لیگی کارکنوں سے جوش خطابت میں کی ہے ۔ بطور وزیر وہ انتہائی باخبر شخص ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ ان کی منتخب جمہوری حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے اور وہ اپنی حکومت اور آئندہ سیاست کو بچانے کے لیے ابھی سے مختلف اداروں کو ہاتھ جوڑ کر تحفظات کا اظہار کرہے ہیں تا کہ کسی غیر جمہوری فیصلے سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

جے آئی ٹی کو دی گئی معینہ مدت بس ختم ہوا ہی چاہتی ہے اور اس نے اپنی تحقیقات کے ذریعے اقتدار کے ایوانوںمیں براجمان لوگوں کو مضطرب کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی زبانوں میں کڑواہٹ واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران ان تما م باتوں کو جھٹلایا تھا اور اس وقت انھوں نے اپنے بیرون ملک قطری شراکت دار کا ذکر نہیں کیا تھا جو بعد میں ایک خط کی شکل میں نمودار ہوا اور ان کے لیے مزید مشکلات کا سبب بنا، اگر قطری شہزادہ خطوط کے بجائے پاکستان آکر اپنا بیان ریکارڈ کرا جاتا تو حکمرانوں کے خلاف اس کیس سے جان ہی نکل جاتی اور آج حکومتی وزیر ٹھنڈے کمروں میں گرم کافیوں کے مزے لے رہے ہوتے، حکمران خاندان کے وکیلوں نے وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو سیاسی بیان قرار دینے کی استدعا کر کے اس معاملے کو مزید شکوک و شبہات میں لپیٹ دیا، شاید وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ وزیر اعظم کی تقریر کے مندرجات کو وہ ثابت نہیں کر سکیں گے جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا احتمال تھا۔

جب وزیر اعظم کے صاحبزادے نے لندن میں فلیٹس کی ملکیت تسلیم کر لی تو اس کی منی ٹریل بھی ان ہی کو ہی دینی ہے اور اگر یہ فراہم کر دی گئی تو پھر راوی چین ہی چین لکھے گا اور جمہوریت بھی محفوظ رہے گی اور آپ کا جمہوری اقتدار بھی لیکن معاملات تب بگڑتے ہیں جب آمدن سے زیادہ اثاثے ہوں تو ایک عوامی نمائندے کو ان کے بارے میں بتانا پڑتا ہے کہ اس نے کن ذرائع سے یہ حاصل کیے ہیں کیونکہ اس کے کاندھوں پرعوام کی بھاری ذمے داری اور اس کے پیچھے کارکنوں کی صورت میں عوامی طاقت ہوتی ہے جو اس سے سوال پوچھتی ہے۔

جے آئی ٹی کے طریقہ کار سے اختلاف کر کے اس کی تحقیقات کے عمل پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور آسان الفاظ میں اس پر عدم اعتماد ظاہر کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اگر اس تحقیقی عمل کے نتیجے میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچا تو اس کے بعد ملکی حالات میں بگاڑ کی ذمے داری اس کے کاندھوں پر ہو گی۔ ہمیں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کہ جے آئی ٹی خود سے کوئی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں بلکہ اس کی رپورٹ پر تین معزز جج صاحبان نے اپنی تسلی کرنے کے بعد قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ دینا ہے جس کا ہمیں صبر سے انتظار کرنا ہوگا اور اس اہم ترین کیس میں قبل از وقت قیاس آرائیوں اور مبارکبادوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔