سیاست، معاشرت اور بیٹیاں

عبدالقادر حسن  بدھ 5 جولائ 2017
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی سیاست کے کئی پہلو زیرِبحث آئے ہیں ۔ اس کی تفتیش کے دائرہ کار کے وسیع ہونے سے ہماری معاشرت کا ایک پہلو بھی سیاسی مکالمہ کا حصہ بنا ہے ، بیٹیوں کی عزت و تکریم۔ پاکستانی معاشرت کا منبع آج بھی بنیادی طور پر قرآن وسنت سے جڑا ہوا ہے ۔ اسلام نے عرب طرز معاشرت میں جو انقلاب برپا کیا اس کا ایک اہم جزوبیٹیوں کی حیثیت کے بارے میں تھا ۔ بیٹیوں کو ایک ناروا بوجھ سمجھتے ہوئے بعد ازپیدائش دفنانے کی روایت عام تھی ۔ روایت ہے کہ جب ایک شخص نے بعد از قبول ِ اسلام نبیﷺ کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو دفنانے میں کچھ دیر کر بیٹھا تھا اور وہ کچھ بڑی ہو گئی تھی جب وہ اسے دفنانے کے لیے قبر تیار کر رہا تھا اور مٹی اُڑ کر اس کے چہرے پر پڑتی تھی تو وہ کمسن بیٹی اپنے محبوب والد کی داڑھی سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کرتی تھی۔ نبی کریمﷺ اس واقعہ کو سنتے ہوئے زارو قطار رو دیے۔

بیٹیوں کی کفالت بخوبی کرنے والے کو رحمتہ العالمینﷺنے روزِ قیامت اپنا مقرب قرار دیا ، بلاشبہ بی بی فاطمتہ الزہرہؓ نبی اکرم ﷺ کی محبوب ترین ہستی تھیں اور پھر بیٹیوں کو دفنانے والوں نے دیکھا کہ بیٹی کے آنے پر دو جہانوں کے سردار ﷺ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوتے اور تکریم کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے ۔ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے بیٹی کے گھر ملنے جاتے ، کوئی اچھی چیز تحفہ ہوتی تو بیٹی کو بھجواتے۔

انھی روایات کے زیر اثر صدیوں تک ہندو معاشرے کے اثرات کے باوجود برِ صغیر کے مسلمانوں نے بیٹیوں کی عزت و توقیر کی روایت برقرار رکھی ، اگرچہ کہیں کہیں ہندو طرِز زندگی کی بہت سے منفی روایات بھی کسی حد تک اثر پذیر ہو چکی نظر آتی ہیں ، فصل میں ، نئے موسم کے پھل میں بیٹیوں کو پہلے شریک کرنا ، تہواروں پر انھیں تحفے بھیجنا ، عیدِ قربان کے گوشت میںبہترین حصہ ان کے لیے مختص کرنا، ہر خاندانی تقریب میں انھیں فوقیت دینا ہماری ثقافت کا ایک خوبصورت مظہر ہیں۔ خدا جانے کیوں پاکستانی معاشرے کے بارے میں یہ منفی پراپیگنڈہ زورو شور سے کیا جاتا ہے کہ یہاں خواتین کو بے توقیر گردانا جاتا ہے ۔ چند واقعات کو مثال بنا کر ایک پوری ثقافتی تاریخ کو مسخ کرنے کی یہ بھونڈی کوششیں ہیں۔

خاندانی جھگڑوں اور سیاسی اختلافات میں بھی بہنوں بیٹیوں کے ذکر سے پرہیز کرنا ہماری اقدار ہیں۔ میں لاہور میں چلائی جانے والی ایک انتخابی مہم سے واقف ہوں جہاں ایک امیدوار نے اپنے پُرجوش کارکنوں کو جلوس اس گلی سے گزارنے سے منع کیا جہاں ان کے سیاسی مخالف کی بیٹی قیام پذیر تھیں ۔ میری گناہ گار آنکھوں نے اسی تہذیب کو سیاست دانوں کی باہمی دشنام طرازیوں میں پامال ہوتے بھی دیکھا ہے ’’ٹریکٹر ٹرالی ‘‘ اور ’’ڈمپر‘‘ جیسے الفاظ سے ساتھی خواتین سیاستدانوں کی توہین کی جاتی ہے ۔ ذاتی حملوں میں گھر کی خواتین کے معاملات کو گھسیٹا جاتا ہے ۔ انتخابی جلسوں میں مخالف خواتین پر جنسی جملے کسے جاتے ہیں۔ مزاح کی روایات جو پطرس بخاری، ابنِ انشاء، مشتاق یو سفی جیسے باوقار لوگوں نے قائم کی تھی وہ سیاست کے دل بازار میںبری طرح رسوا ہوئی ہے۔

لطیفہ بازی اور اپنے سیاسی لیڈروں کی خوشامد میں کیے جانے والے بھانڈ پن میں خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا ، یہ ہماری سیاست کا ہی نہیں معاشرت کا بھی دلگیر زوال ہے۔ یاد رہے کہ سیاست و معاشرت ایک دوسرے پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

جب بات انصاف کی آتی ہے تو اسلام کا طرزِ سیاست قطعی طور پر بے لچک ہے ۔ عہدہ، مرتبہ، جنس، خاندان کسی بھی بنیاد پر انصاف میں کوئی لچک نہیں دکھائی جا سکتی۔ نبی کریمﷺ نے انصاف کی جو روایت قائم کی اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی طاقتور جرم کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور کمزور کو سزا دی جاتی تھی۔ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا‘‘۔ گویا انصاف کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے نبیﷺ نے اپنی سب سے محبوب ہستی کا ذکر کیا۔

اس معاملے میں انھیںؓ بیٹی ہونے کی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ روایت ہمارے لیے بہت واضح ہے ہم بیٹیوں کو غایت درجہ کی عزت و تکریم دینے کے قائل ہیں ۔ ہم ’’بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں‘‘ جیسی روایات و اقدار کے حامل ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی بیٹیوں کے ذکر کے لیے ہم انتہائی محتاط الفاظ استعمال کرتے ہیں لیکن جہاں بات انصاف کی آتی ہے وہاں کوئی ڈھیل نہیں دی جا سکتی ۔ انصاف کے معاملے میں ہم کسی جنسی، علاقائی، خاندانی، موروثی، طبقاتی تفریق کے قائل نہیں ۔ مجرم مجرم ہوتا ہے خواہ وہ کسی کابھی بیٹا یا بیٹی ہو ، یہاں تک کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کر دے۔

ہمیں خواتین کو سیاست، معاشرت، کاروبار، معیشت، ثقافت سمیت ہر میدان میں برابر کے حقوق دینے ہیں ۔ ہم وہ پہلا اسلامی ملک ہیں جو ایک خاتون کو دوبار وزیر اعظم منتخب کر چکے ہیں ۔ ہماری خواتین کسی بھی طور ایک کمزور صنف نہیں ہیں۔ دیہاتی معیشت کا ایک بہت بڑا بار انھوں نے اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا ہے ۔ شہری زندگی میں کاروباری، تعلیمی، طبی، نشریاتی، مالیاتی اداروں میں وہ ایک بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔

عدلیہ ، سول سروس اور سیا سی نمایندہ ایوانوں میں وہ عددی اعتبار سے بھی نمایاں ہیں اور ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں کہیں ضرورت ہو ہماری خواتین کورٹ کچہری کے معاملات کو نپٹا نے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں ۔ تھانے اور عدالتیں کوئی ’’خوفناک‘‘ ادارے اور عمارتیں نہیں بلکہ یہی تو وہ مقامات ہیں جہاں شہریوں کی شکایات کی داد رسی اور حقوق کی بازیابی ممکن ہے ۔ ہمیں ان عمارات اور ان اداروں کو ایسے دوستانہ مقامات بنانا ہے جہاں غریب سے غریب شہری علاقائی، طبقاتی اور جنسی امتیاز سے بالاتر ہو کر پہنچ سکے اور اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے۔

جب ہم اپنی خواتین کو کاروباری و سیاسی معاملات میں شراکت دار بناتے ہیں تو انھیں اس میدان کارزار کی سختیوںکے لیے بھی تیار کرنا ہوگا ۔ ہمیں اعتماد مضبوط کرنا ہوگا اپنے اداروں پر بھی اور اپنی بیٹیوں کی ہمت و فراست پر بھی۔

باقی سراج الحق صاحب نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ لوہے کا کاروبار کر تے کرتے دل بھی لوہے کا بنا بیٹھے ہیں ، یاد دلاتا چلوں کہ سیاست کے سینے میں دل ہی نہیں ہوتا اور بزرجمہروں کے مطابق کاروبار کی واحد اخلاقیات منافع ہوتی ہے۔ کاش کہ ہم کاروبار اور سیاست کو الگ رکھ سکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔