سچا یا جھوٹا احتساب(حصہ اوّل)

جاوید قاضی  جمعرات 6 جولائ 2017
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

بالآخر جنرل باجوہ بو ل پڑے کہ جو خادم ِعوام ہے یا یوں کہیے جو پبلک آفس ہولڈکرتا ہے اْن کا احتساب وقت کی ضرورت ہے، عین اْس وقت جب سندھ اسمبلی نے قومی اسمبلی کا پاس کیا ہوا بل، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کی حدودکو سندھ سے خارِج کر دیا۔ شاید یہ پہلی مرتبہ تھا کہ صوبائی اسمبلی نے پارلیمنٹ کا پاس کیا ہوا قانون، اپنے قانون کے ذریعے کالعدم قرار دیا ہو۔ سندھ اسمبلی کے اِس عمل سے ایک طرف توآئینی بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے اور دوسری طرف مجموعی طور پر بہتر حکمرانی کے لیے بھی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

قانون یا آئین کیا کہتا ہے اْس سے پہلے، اْس عمل کے سیاسی وانتظامی بحران اور نقصانات یا فوائدکا ذکر کرتے ہیں۔سندھ حکومت کے پاس اپنا اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور اس کے لیے اپنا بنایا ہوا قانون بھی موجود ہے۔ اینٹی کرپشن کے اِس انتظامی نظام کی بد حالی نہ پوچھیے ۔ میاں صاحب کچھ ہفتے پہلے جب لندن پہنچے تو JIT کو ایک ’’مزاح‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ کوئی اور مذاق ہو نہ ہو سندھ کے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سے بڑا اورکوئی مذاق نہیں۔

یہ بات تو سندھ حکومت بھی جانتی تھی۔ جب پبلک اکاؤنٹبلیٹی بیورو کو سندھ سے رخصت کیا گیا۔ تو یہ وعدہ فلور آف دی ہاؤس پر ہو کہ ہم(Provincial Accountiblity Bureau)بنائیں گے۔’’نیب(NAB)‘‘ سے ’’پیب(PAB)‘‘ کی طرف سفر جو سندھ حکومت نے اب شروع کرنا ہے وہ بھی آپ بہ خوبی جانتے ہیں۔جو اِن کے تیور ہیں، یا جو اِن کااندازِ حکمرانی ہے اس سے قانون سازی بہ ظاہر اچھی تو لگے گی مگر عملاً موجودہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی حقیقی شکل ہوگی۔

بہت پریشان تھے بیچارے سندھ حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے افسران ۔ خاص طور پر جب سے کراچی میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت یا اْس سے پہلے ایک بہت بڑا آپریشن شروع ہوا۔ رینجر ز کو بہت وسیع اختیارات دیے گئے اور ساتھ نیب بھی دوڑ پڑا۔ یہ کیس وہ کیس ، اِدھر چھاپہ اْدھر چھاپہ ۔ افسر ملک چھوڑکر بھاگ گئے اور ساتھ ہی وزیر بھی۔ چائنا کٹنگ سے لے کر دہشتگردوں تک ہر طرف تیزی دکھائی دی مگر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ جیل سے لشکر جھنگوی کے دو دہشتگرد بھاگ گئے،انتظامیہ کو رشو ت دیتے ہوئے۔ قیدیوں نے جیل کے اندر اپنا راج قائم کر لیا۔ جس دن سندھ حکومت نیب کے خلاف، سندھ اسمبلی میں قانون پاس کرنے جارہی تھی عین اْسی دن سندھ چیف سیکریٹری نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جسکے ذریعے جو کچھ آئی جی پولیس کے پاس بچا تھا یعنی افسران کی تعیناتی و تبادلے کا حق ، وہ بھی چھین لیا گیا۔

پھر ایک اور نوٹیفیکیشن بھی جاری ہوا جسٹس ہانی کی سپریم کورٹ میں دی ہوئی ججمنٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور سروسز رْول کی بھی کہ جو افسران جہاں تعینات کیے جائینگے ضروری نہیں کہ وہ تین سال بھی وہیں پر پورے کریں۔ اب اس کے پیچھے (Concept)کیا تھا یا یوں کہیے کہ کیا فتور تھا ؟ مجموعی طور پر سندھ کے دہقانوں کے ووٹوں سے بنی ہوئی یہ حکومت وڈیرہ صفت ذہن کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایک طرف نیب کے جانے سے افسرِ شاہی کو یہ نوید سنائی گئی کہ آپ کے تمام کیسز جو نیب کے پاس تھے اب اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو چلے گئے جہاں آپ کو آسانی سے چھٹکارا مل سکتا ہے اور دوسری طرف اے ڈی خواجہ جیسے افسران کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی گئی کہ لازمی نہیں کہ آپ تین سال کا عرصہ پورا کرسکیںجو جتنا جْھکے گا، اْس کو اْتنا ہی فائدہ مِلے گا یعنی لاٹھی اور انعام دونوں ہی اب بلاول ہاؤس کے اختیار میں ہیں اور بلاول کہاں ہیں اْس کے لیے آج کے ایک انگریزی اخبار میں کارٹون میری نظر سے گزرا کہ صاحب کسی جزیرے میں بیٹھے یوگا میں مصروف ہیں اورپیپلزپارٹی ڈوب رہی ہے جب کہ سندھ کے دہقانوں کے علم میں ہی نہیں ہے کہ جِن شرفاء کو ووٹ دیتے ہیں، یہ اِنہیں شرفاء کی دین ہے جِن حالات سے آج وہ گزر رہے ہیں۔ پچھلی مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست کو جیتنے کے لیے بیس کروڑکی ضرورت تھی اور اِس دفعہ صوبائی اسمبلی کی نشست اور بھی مہنگی ہے۔ اب کون جائے قومی اسمبلی میں اورا پوزیشن میں بیٹھے جب کہ صوبائی اسمبلی میں صاحب لوگ اقتدار میںبیٹھتے ہیں۔ الیکشن قریب ہیں جسٹس ہانی نے جو سندھ کے افسران کی کمر سیدھی کی تھی وہ اقدام اب لگتا ہے کہ لاحاصل سے تھے۔

اِن لوگوں نے انتظامیہ کو اتنا بدحال کر دیا ہے چاہے وہ وفاق ہو یا صوبائی انتظامیہ یو ں نظر آتا ہے کہ جیسے کسی مافیا کا راج ہے۔ اور عوام کبھی اِس حادثے میں پانچ ہلاک توکبھی اْس حادثے میں دس ہلاک ۔کبھی شکار پور میں چھبیس لوگ قبائلی تصادم میں مارے جاتے ہیں توکبھی بہاول پور میں ، توکبھی قِلت خوراک سے بچوں کی اموات، زبوں حال اسپتال مطلب ہر طرف اندھیر ہی اندھیرا ہے۔ یہ کرپٹ حکمراں مدعی بھی خود ہیں تو منصف بھی خود ۔ حال ہی میں کہیں ایک خبر پڑھی کہ قطر کے شہزادوںکے حوالے سے جو میاں صاحب کے کاروبار میں شراکت رکھتے ہیں۔

جو LNGمیاں صاحب منگوا رہے ہیںکہیں ایسا تو نہیں کہ اْس کو خریدتے بھی خود ہی ہیں اور بیچتے بھی خود ہی ہیں۔ کیونکہ قطرکے شہزادے اْن کے پارٹنر ہیں ۔ یہ باغِ قاسم کا کیا ماجرا تھا کوئی زرداری صاحب سے پوچھے تو سہی ۔ ڈاکٹر وسیم اختر باغِ قاسم پرکیوں منمنا رہے تھے۔کیوں بڑے بڑے اینکروں کی کچھ شخصیات اور ایشوز پر بولتی بند ہو جاتی ہے اور پھر دیکھیے کراچی کا حشر کیا ہوا کْل ملا کر 58 ملی میٹربارش ہوئی ہے اور سْرجانی ٹاؤن، وینس شہرکا منظر پیش کر رہا ہے۔ سارے گٹروں کا پانی ابْل رہا ہے ۔ ہر طرف بربادی اور بد حالی کا سماں ہے۔ مگر صرف غریبوں کے لیے۔حتیٰ کہ سپریم کورٹ کو حکم جاری کرنا پڑا۔

اور اس طرح ایک احتسابی ادارہ رخصت ہوا ، تین سالوں کے لیے افسران کا تعین ہونا بھی رخصت ہوا۔ رخصت ہوئے اے ڈی خواجہ کے اختیارات کیونکہ الیکشن جیتنے ہیں تھانیدارکے زور پر۔ یہ عوام کو بھی رشوت دیتے ہیں۔ قرآن پر اْن سے ووٹ کا وعدہ لیتے ہیں اور پیسے دیتے ہیں۔ اس طرح سے شاید غریبوں کی بھی لاٹری لگے گی۔کچھ دنوں کے لیے گیہوں، چاول ، گھی اور راشن وڈیرے اْن کے گھر تک پہنچائیں گے۔

جہاں تک نیشنل اکاؤنٹبلیٹی ایکٹ کی رخصتی اور Provincial Accountability Bureauکے بننے کا قانونی پہلو کیا ہے۔آئین کے 142-143 Article کی رْو سے اِس کا ذکر ہم اگلے Articleمیں رَوا رکھیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔