سچا یا جھوٹا احتساب(حصہ دوم)

جاوید قاضی  ہفتہ 8 جولائ 2017
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

اس آرٹیکل کے پہلے حصے میں ہم نے نیب کے سندھ بدر ہونے والے، سندھ اسمبلی کے قانون کے سیاسی پہلو پر بحث کی تھی اورآج ہم قانونی وآئینی اعتبار سے اِس قانون کا جائزہ لیں گے۔ پاکستان آئین کا پارٹ V  چیپٹر’’1‘‘وفاق و صوبوں کے اختیارات کو تقسیم کرتا ہے۔ آرٹیکل141سے144پر یہ چیپٹر مبنی ہے۔ آرٹیکل 141کے تحت پارلیمنٹ پورے ملک یا ملک کے کسی علاقے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے اور صوبائی اسمبلی  پورے صوبے یا صوبے کے کسی علاقے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔ آرٹیکل142کے تحت پارلیمنٹ کو ہی اختیارِکْل(Exclusive Power) ہے کہ وہ اْن Subjectsکے لیے قانون سازی کریں جو کہFederal Legislative List میں آتے ہیں۔

پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی دونوں کواختیار ہے کہ فوجداری قانون(Criminal Procedure)اور شواہدات(Evidences)پر قانون سازی کرے۔ صوبائی اسمبلی اْن Subjects پر قانون سازی کرسکتی ہے،جس کا ذکرٖFederal Legislative List میں نہیں ہے اور پارلیمنٹ کا یہ اختیارِ کْل ہے کہ وہ قانون سازی کرے اْن معا ملات میں جو وفاق کے حوالے سے ہیںاور جو صوبائی  اختیار میں نہیں ہے۔ جب کہ آرٹیکل143وہ قوانین وضع کرتا ہے جو وفاق اورصوبوں کے درمیان ٹکراؤ میں ہیں یعنیInconsistent))یا متضاد ہیں۔ ایسا قانون جو صوبائی اسمبلی نے وضع کیا ہے اور وہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں تھا چاہے وہ قانون بعد میں بنایا گیاہو یا کہ پہلے ، پارلیمنٹ کا قانون صوبائی قوانین پر فوقیت(Prevail) رکھتا ہے۔ آرٹیکل 144کے تحت پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی کے Consentسے یا صوبائی اسمبلی  یا صوبائی اسمبلیوں کی قرار داد کے ذریعے مشترکہ معاملات پر قانون سازی کر سکتی ہے۔

اْن معاملات پر جو کہ Federal Legislative Listمیں موجود نہیں ہیں۔ اس آرٹیکل کے تحت یہ عین قانونی ہے کہ پارلیمنٹ ایسے معاملات کو Regulate کرنے کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے، مگر اِن معاملات پرصوبائی اسمبلی اگر چاہے تو ترمیم کے ذریعے یہ اختیار ، پارلیمنٹ سے واپس لے بھی سکتی ہے۔

اب آتے ہیںصوبائی اسمبلی کے موقف پر ۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ   National accountability ordinance/Act 1999 وغیرہ وغیرہ ایک آمر نے بنایااور اْس وقت پارلیمنٹ کا وجود نہیں تھا۔ لہٰذا اس ایکٹ کی کوئی حیثیت نہیں اور اِس حوالے سے غالباًوہ آرٹیکل270 AAکا حوالہ پیش کرتے ہیں جو کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنایا گیا، جس کے تحت وہ مخصوص اقدام اور قانون سازی جو کہ14th اکتوبر2002 یعنی پارلیمنٹ کی عدم موجودگی میں کیے گئے  ((Repugnantکالعدم قرار دیے گئے  اورتمام سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا گیا ، جس کے تحت پرویزمشرف کو قانون سازی کا حق حاصل تھا۔

جہاں آرٹیکل  142کا تعلق ہے یہ اٹھارویں ترمیم کی پہلی حیثیت کو برقرار رکھتا ہے یعنی کہ آئین میں جب Concurrent List ہوا کرتی تھی یعنی ایسے سبجیکٹس جن کی حدود کا اطلاق وفاق میں بھی ہوتاہے اور صوبوں میں بھی۔ سترہویں ترمیم کیا تھی؟جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے اقدام کو ظفر علی شاہ کیس کے ذریعے ، سپریم کورٹ نے قانونی قرار دیا اور پارلیمنٹ نے اس اقدام کو آئینی قرار دیا ۔ اِس لیے آرٹیکل270AA کی حیثیت وہ ہی ہے جو کہ آرٹیکل239(5) کی ہے اور یہ آرٹیکل پاکستان کے آئین کے Basic Structure کے تصادم میں ہے، اِسی لیے سپریم کورٹ کی نظر میں یہ آرٹیکل کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

نیب کو سندھ کی حدود سے کیوں باہر کر دیا گیا؟ اب اگراِس پہلو پر غورکیا جائے کہ نیب ، سندھ حکومت کے ماتحت اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں لاتی تھی، احتساب کے حوالے سے اور سندھ حکومت کو آرٹیکل 144 کے تناظر میںیہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی ترمیم کر سکتی ہے۔بہ شرط ِکہ یہ قانون آرٹیکل144 کے تناظر میںہی بنا ہو جو کہ حقیقتاً نہیں بنا۔ اور اگر یہ قانون آرٹیکل142(B) کے تحت بنا ہے تو اْس پر آرٹیکل143 کا اطلاق ہوتا ہے یعنی اٹھارویں ترمیم نے آرٹیکل   142(B)کو تحلیل نہیں کیا۔

صوبائی اسمبلی سندھ نے ایکMalafide کے تحت یہ قانون سازی کی ہے مگر نہ پارلیمنٹ نہ صوبائی اسمبلی اِسMalafideکے زْمرے میںآتے ہیں، کیونکہ اِس حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح ججمنٹس موجود ہیں اس تمام آئینی اور قانونی تناظر میںیہ معاملا بلآخر کورٹ کے پاس آئے گا۔ میری ناقص رائے کے مطابق اِس معاملے کو  اگر آئین کےBasic Structure کے Contextمیں دیکھا جائے تویہ ترمیمProvinical Autonomyکے اصولوں کے عین مطابق ہے کہ جس کواٹھارویں ترمیم نے اور زیادہ واضع کیا ہے مگر اگر اِس ترمیم کوLiteral intepretation کے اسکوپ میں دیکھا جائے تو اِس پر آرٹیکل143 کا اِطلاق ہوتا ہے۔ اور اگر اِس ترمیم کو Purposive intepretationکے اسکوپ میں دیکھا جائے توIndirectly، Malafideکا اِطلاق ہوگا۔

Malafideکہے بغیر۔

اِس لیے کہ سندھ حکومت کے پاس تا وقت کوئی بھی جامع اور واضع احتساب کا قانون موجود نہیںہے۔ اِن کا Anti Corruptionایکٹ کے تحت بنا ہوا ادارہ اپنی افادیت کھو چکا ہے یعنی آئینی اِصطلاح میںلایعنی Anachronistic ہوچکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔