یہ قومی مسئلہ ہے

عبدالقادر حسن  جمعرات 13 جولائ 2017
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ریاست پاکستان کے دو اہم ترین ادارے عدلیہ اور افواجِ پاکستان اس کی بقاء کے ضامن ہیں ۔ان  دونوں اداروں نے پاکستان کی ریاست کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا رکھنے میں اپنا کردار کامیابی سے ادا کیا ہے ۔ یہ بحث الگ ہے کہ مشرقی پاکستان میں کیا ہوا اور وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے پاکستان کا ایک بازو اس سے الگ کر دیا گیا اور اس میں کس نے کیا کردار ادا کیا۔ا یٹمی پاکستان کی سرحدوں کے دفاع کی ذمے داری افواج پاکستان بھر پور طریقے سے ادا کر رہی ہیں اور دشمن کو پاکستان کے خلاف کسی  بھی مہم جوئی کی صورت میں ہمیشہ ان کی طرف سے بھر پور جواب ہی ملا ہے۔

ہمارے ملک میں یہ رواج پڑ گیا ہے کہ سیاست دان اپنی سیاسی حکومتوں کو اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب ان سے اس معاملے میں پوچھ گچھ کا مرحلہ اگر آ جائے تو یہ اس کو سازش سے تعبیر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ کہنے لگتے ہیں کہ ملک کی طاقتور اور نادیدہ قوتیں اس سازش کے پیچھے ہیں حالانکہ ان سیاست دانوں کا اشارہ جن نادیدہ قوتوں کی طرف ہوتا ہے، یہ انھیں نادیدہ قوتوں کے ایک اشارے کے منتظر رہتے ہیں اور جب بھی سیاست کے میدان میں ان نادیدہ قوتوں کو سیاسی بساط بچھانے کی ضرورت پڑے تو یہ سب اس کے مہرے بننے کو بے قرار رہتے ہیں جس کا مشاہدہ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں اور ان سیاستدانوں کی سیاسی قلابازیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ملک کے موجودہ حالات میں جے آئی ٹی نے تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے جس کے مندرجہ جات ذرایع ابلاغ کے ذریعے عوام تک پہنچ رہے ہیں اور ہروز ایک نیا انکشاف ہو رہا ہے اور اس رپورٹ کی جلدوں میں سے نت نئی معلومات و انکشافات ہو رہے ہیں جو شریف خاندان کے لیے ہر روز ایک نئی پریشانی کا موجب بن رہے ہیں لیکن چونکہ ان کے وزراء کی جانب سے پہلے سے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کو جے آئی ٹی کی وہ رپورٹ قبول نہیں نہیں ہوگی جو قطری شہزادے سے کی گئی تحقیقات کے بغیر ہو گی کیونکہ شریف خاندان کا اس مقدمہ میں اہم ترین گواہ یہی قطری شہزادہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اپنے اس مقدمے کا دفاع کرنا تھا لیکن عین موقع پر یہ گواہ ہی منحرف ہو گیا کہ ایسی گواہی کون مانتا ہے جو گواہ کے گھر پر جا کر لی جائے۔

ملکی تاریخ کے اس اہم ترین مقدمے کا فیصلہ تو سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان پہلے ہی کر چکے ہیں اور اب باقی تین ججوں نے جے آئی ٹی کی جانب سے مزید تحقیقات کے بعد اپنا فیصلہ سنانا ہے جس کے لیے اس خصوصی ٹیم کا قیام سپریم کورٹ کی جانب سے کیا گیا تھا لیکن فیصلہ آنے سے پہلے ہی اس کو نہ ماننے کے بیان سے سپریم کورٹ کی تضحیک کی جار ہی ہے اور ریاست کے اس اہم ترین ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش ملک کے لیے اچھا شگون نہیں کہ پہلے بھی میاں نواز شریف کی حکومت میں ہی اس طرح کی ہی ایک کوشش سے ججز کے درمیان اختلاف پیدا کر کے ایک چیف جسٹس کو ان کے منصب سے الگ کیا گیا تھا اس طرح کی مہم جوئی سے شاید سیاست دان اپنے مقاصد تو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ملک کی عدلیہ کو متنارعہ بنا نا اس ملک کے ساتھ زیادتی ہے جس ملک کی وجہ سے ہی آپ آج اس پر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ عدلیہ بحالی مہم کی جدو جہد میں میاں نواز شریف کا کلیدی کردار تھااور انھوں نے عدلیہ کو آزادی کے لانگ مارچ بھی کیا تھا جو ججوں کی بحالی کی پر جا کر ختم ہو۔

حکومتی ایوانوں میں اس مقدمہ کی تحقیقات کے بعد ایک بھونچال کی کیفیت نظر آرہی ہے اور ہر کارے مشعلیںلے کر دوڑے پھرتے ہیں کہ ان پر آسمان ٹوٹ پڑا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ان حکومتی ہرکاروں نے مشورہ دیا ہے کہ اس مقدمہ میں پسپائی اختیار کرنے کے  بجائے جارحانہ انداز اپنایا جائے اور سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی ان تحقیقات کا جواب دیا جائے کہ شریف خاندان نے ذرایع آمدن سے زیادہ اثاثے کیسے بنائے۔اپوزیشن کی اہم جماعتوں کی جناب سے وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے اور بھر پور قانونی لڑائی کا اعادہ کیا گیا ہے جو  سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے سے لڑی جائے گی۔

ملکی سیاست کی موجودہ صورتحال میں فوج کا ایک اہم کردار ہے جو سرحدوں کے علاوہ ملک کو لاحق اندرونی خطرات سے بھی نپٹنے کی بھر پور صلاحیت کی حامل اور ملک کا واحد ادارہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی مشکل وقت آئے تو عوام اس کی جانب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں چونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ملک کو بیرونی و اندرونی لاحق خطرات سے کوئی بچا سکتا ہے تو یہ فوج ہی ہے ۔ کورکمانڈرز کی ہونے والی کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج اپنا مثبت کردار ادا کرے گی اس اہم موقع پر یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فوج عدلیہ کی پشت پر کھڑی ہے اور وہ آئین و قانون کا ساتھ دیں گے، اس تحقیقاتی رپورٹ میں فوج کا بھی اہم کردار ہے کیونکہ جے آئی ٹی میں فوج کے دو نمایندے بھی شامل تھے۔

اس پیچیدہ صورتحال میں ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ شریف خاندان کی حکومت اس تحقیقاتی عمل کے نتیجہ میں پیچھے ہٹنے والی نہیں جس سے سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہو گا اور ملک کے حالات ان سیاسی فیصلوں کی بنا پر سدھرنے کے بجائے بگاڑ کی جانب جائیں گے ۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سیاست بچانے اور بند گلی سے نکلنے کے لیے دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے اداروں کی قربانی سے گریز کرے،ہر ذمے داری خود سنبھال لیے کیونکہ قومی مسئلہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔