ترکی بمقابلہ پاکستان

سید امجد حسین بخاری  ہفتہ 15 جولائ 2017
ترکی کی موجودہ سیاسی حکومت نے عوام کو زندگی کی تمام تر سہولیات دیں، بہترین خارجہ پالیسی کے باعث اقوام عالم اور عالم اسلام میں اپنے ملک کو ایک ممتاز مقام دلایا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی حکومتوں نے عوام کو کیا دیا؟

ترکی کی موجودہ سیاسی حکومت نے عوام کو زندگی کی تمام تر سہولیات دیں، بہترین خارجہ پالیسی کے باعث اقوام عالم اور عالم اسلام میں اپنے ملک کو ایک ممتاز مقام دلایا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی حکومتوں نے عوام کو کیا دیا؟

رات گئے دفتر سے نکلتے ہوئے بھوک کی شدت کے پیشِ نظر پریس کلب کی جانب رختِ سفر باندھا۔ مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچتے ہی ایک دیو قامت پینا فلیکس پر نظر پڑی، جس میں گزشتہ سال ترکی میں فوجی بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے والے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔ دوست کے اصرار پر مال روڈ کی دیگر جگہوں کو دیکھنے کا پلان بنایا اور جگہ جگہ ترک عوام کو خراج تحسین پیش کرنے والے معنی خیز اور پُراسرار بینرز اور فلیکس آویزاں نظر آئے۔

یہ بینرز جہاں معنی خیز معلوم ہوئے وہیں اِن کی موجودگی ایک سوالیہ نشان تھی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ملکی سیاست کے اتار چڑھاؤ سے جہاں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے، وہیں احتساب کے نام پر سیاست کرنے کا واویلا بھی کیا جارہا ہے۔ جہاں اپوزیشن کو غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے طعنے مل رہے ہیں وہیں حکومت کو بھارتی ایجنٹ کے القابات سے بھی نوازا جارہا ہے۔ اپوزیشن اگر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے تو اِن کی صفوں سے ہی پری الیکشن کی صدائیں بھی بلند ہورہی ہیں۔

بات اِدھر اُدھر ہوگئی لیکن ذکر چل رہا تھا ترکی میں فوجی بغاوت کا۔ وہ رات کبھی بھی بھولی نہیں جاسکتی، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر جمہوریت بچانے والے ترکوں کی داستان، وہ ایک رات جب ترک عوام نے ایک ہزار سال کی داستان تحریر کی۔ اُسی رات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے مبینہ طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے شہرِ لاہور میں پُراسرار بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے اہم رہنما فواد چوہدری نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک معنی خیز ٹوئٹ کرتے ہوئے مال روڈ پر لگے بینر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پرشیئر کیا ہے۔

ترکی کی فوجی بغاوت کو بنیاد بناکر پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے دعویدار حکومت اور اپوزیشن یہ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ جب سیاسی حکومتیں ناکام ہوجاتی ہیں تبھی ملک کے استحکام کے لئے فوج کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ سیاسی حکومتوں کی ناکامی ہی ملک کو مارشل لاء کی جانب دھکیلتی ہے۔ پاکستان اور ترکی ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔ جب آپ اپنے شہر کا کوڑا اُٹھانے، شہریوں کو سفر کی سہولیات دینے اور قوم کو تعلیم دلانے کے لئے ترکی کے محتاج ہیں تو کیسے یہاں کے عوام آپ کے لئے جان دیں گے؟

ترکی کی موجودہ سیاسی حکومت نے عوام کو زندگی کی تمام تر سہولیات دیں، بہترین خارجہ پالیسی کے باعث اقوام عالم اور عالم اسلام میں اپنے ملک کو ایک ممتاز مقام دلایا۔ یہی نہیں بلکہ یورپ کا بیمار کہلانے والا ملک تیزی سے اُبھرتی ہوئی معاشی طاقت بن گیا ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی حکومتوں نے عوام کو کیا دیا؟ لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بلبلاتی ہوئی عوام، علاج معالجے کے لئے ترستی ہوئی مخلوق، کراچی سے لے کر خیبر اور گوادر سے لے کر اسکردو تک بھوک، افلاس اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ اِس ملک میں بستے ہیں۔

یہ قوم ایک نجات دہندہ کی تلاش میں ہے، سندھ، خیبر، پنجاب اور بلوچستان ہر جگہ کے عوام غیبی امداد کے لئے ترس رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن اِس خام خیالی میں نہ رہے کہ اُن کی خاطر عوام ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں گے یا اپنی جانوں پر کھیلیں گے۔

حضور والا! یاد رکھیے اِس قوم کو اِس بات سے کچھ بھی مطلب نہیں کے ملک میں سیاسی حکومت ہے یا آمریت کا دور دورہ ہے، قوم کو فاقوں اور نان و نفقہ سے فرصت میسر نہیں ہے کہ وہ سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اسلام آباد کو تسخیر کرنے کے خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوسکتے ہیں جب عوام کو آپ شعور دیں گے، سہولیات دیں گے اور اُن کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں گے۔

نیا پاکستان بنانے کا خواب سجاتے ہوئے جشن کا اعلان کرنے والے اور احتساب کو انتقام سے تعبیر کرنے والے ایک لمحے کو سوچیں کہ کیا عوام اُن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے، ہم تو صرف ایک نان اور حلیم کھا کر اپنے ووٹ کا فیصلہ کرنے والے لوگ ہیں، ہمیں اِس سے مطلب نہیں کہ نان و حلیم کہاں سے آیا بس جو دعوتِ حلیم کا اہتمام کرے گا ووٹ اُسی کی جھولی میں جائے گا۔

میرے وطن کے قائدین! خیال رکھیے، قوم سیاست دانوں کے پیچھے اُسی وقت کھڑی ہوگی جب اُن کا معیار زندگی بہتر ہوگا، جب پاکستان دنیا کی بہترین معاشی قوت بنے گا، جب یہاں صحت و تعلیم، صنعت و انفراسٹراکچر بہتر ہوگا، یاد رکھیے اِس وقت حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی دانشمندی ہی ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرسکتی ہے، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کے بجائے اپنی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ عوام کو کرنے دیں کہ اُنہیں کس کے سر پر قیادت کا تاج رکھنا ہے؟ پارلیمان کے فیصلے عدالتوں اور شاہراہوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی چار دیواری کے اندر کرنا ہوں گے۔

جب مطلق العنانیت کے بجائے باہمی مشاورت اور عوام کے فیصلوں کو آپ اپنی سیاست پر مقدم جانیں گے تو ہی ترکی کا ماڈل پاکستان میں قابل قبول ہوگا، ورنہ نجات دہندہ کی منتظر قوم آمروں اور جمہوریت کا تختہ لپیٹنے والوں کا استقبال بھی گلاب کے پھولوں سے کرتی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ دانشمندی اور عقل سے کام لیتے ہوئے قوم کی تقدیر تحریر کی جائے تاکہ مستقبل قریب میں اسلام آباد کے لوگ بھی انقرہ ماڈل پیش کرنے کے قابل ہوسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریراپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک و ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگرجامع تعارف کیساتھ b[email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس بھی۔
سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

لکھاری نے جامعہ پنجاب سے جرنلزم میں ایم ایس ای کیا۔ بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔