آئٹم سونگ کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا : کاجل اگروال

عامر شکور  پير 11 فروری 2013
میرے لیے سال کا آغاز بہت مثبت رہا ہے، کاجل اگروالل۔ فوٹو : فائل

میرے لیے سال کا آغاز بہت مثبت رہا ہے، کاجل اگروالل۔ فوٹو : فائل

 تامل اور تیلگو فلم انڈسٹری کی کئی سپراسٹارز بولی وڈ میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

کاجل اگروال بھی انھی میں سے ایک ہے۔ کاجل کو ہندی فلموں کے شائقین نے 2011ء کی سپرہٹ فلم ’’ سنگھم‘‘ میں دیکھا۔ بہ طور ہیروئن اس فلم میں کاجل کی اداکاری پسند کی گئی تھی۔ درحقیقت کاجل کے کیریئر کا آغاز بولی وڈ ہی سے ہوا تھا۔ اس نے ’’ کیوں! ہوگیا نا۔۔۔‘‘ میں ایشوریا رائے کی سہیلی کا کردار ادا کیا تھا۔ چوں کہ یہ مختصر رول تھا اس لیے ’ ’سنگھم‘‘ ہی کو کاجل کی پہلی ہندی فلم مانا جاتا ہے۔ ’’ کیوں! ہوگیا نا۔۔۔‘‘ کے بعد کاجل کو جنوبی ہندوستان کی فلم نگری میں داخل ہونے کا موقع ملا۔

یہاں قسمت اس پر کچھ اس طرح مہربان ہوئی کہ اسے بولی وڈ کا خیال بھی نہ آیا۔ چند ہی برسوں میں اس کا شمار ساؤتھ کی سپراسٹارز میں ہونے لگا تھا۔ کاجل کی مقبولیت سے ڈائریکٹر روہت شیٹی نے فائدہ اٹھانے کا سوچا اور اسے ’’ سنگھم‘‘ کی ہیروئن بننے کی پیش کش کردی۔کیریئر کے آغاز میں مختصر رول کرنے والی یہ حسینہ اب ہندی فلموں میں مرکزی رول کر رہی ہے۔ کاجل کی اگلی فلم ’’ اسپیشل چھبیس‘‘ ہے جو رواں ہفتے ریلیز ہورہی ہے۔ اکشے کماراس فلم کا ہیرو ہے جب کہ ہدایات نیرج پانڈے نے دی ہیں جو اس سے قبل ’’ اے ویڈنزڈے‘‘ جیسی منفرد فلم بناچکے ہیں۔ کاجل سے کی گئی تازہ گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

٭تیلگو فلم ’’نایک‘‘ کی کام یابی کی صورت میں 2013ء کا آغاز آپ کے لیے بہت اچھا رہا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گی؟
مجھے خوشی ہے کہ لوگوں نے یہ فلم پسند کی۔ میرے لیے سال کا آغاز بہت مثبت رہا ہے، یہ بات میرے اطمینان کا باعث ہے۔ میں اس سے بہتر آغاز کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔ مجھے امید ہے کہ یہ سال میرے لیے مزید کام یابیاں لے کر آئے گا۔

٭ ’’ اسپیشل چھبیس‘‘کے پروموز سے لگتا ہے کہ اس فلم میں آپ کا کردار ’’ سنگھم ‘‘ میں کاویا کے کردار سے ملتا جلتا ہے۔ کیا ہندی فلموں کے ناظرین آپ کو گلیمرس رول میں نہیں دیکھیں گے؟
میں نے اس فلم میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک اسکول ٹیچر کا رول کیا ہے جو بہت زندہ دل اور ہنس مکھ ہے۔ یقیناً آپ مجھے گلیمرس کرداروں میں بھی دیکھیں گے۔ اگر مجھے کسی فلم میںبولڈ رول کرنے کی پیش کش ہوتی ہے تو میں اسے ضرور قبول کروں گی بشرطے کہ اسکرپٹ اور میرا کردار مضبوط ہو۔

٭بولی وڈ کی اداکاراؤں میں، چاہے وہ سپراسٹارز ہوں یا دوسرے درجے کی اداکارائیں، آئٹم نمبر کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کیا آپ بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش مند ہیں؟
میرے خیال میں آئٹم نمبر اسی وقت ناظرین کی توجہ حاصل کرتا ہے جب وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہوں۔ کرینا اور پریانکا آئٹم سونگ میں جچتی ہیں اور پھر یہ کہ ان کے چاہنے والے بھی بہت ہیں۔ میں بھی اس قسم کے گیتوں میں ضرور پرفارم کروں گی، مگر ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔

٭پچھلے چند برسوں میں جنوب کی کئی اداکاراؤں نے بولی وڈ میں زبردست انداز سے کیریئر کی شروعات کی او پھر کچھ ہی عرصے بعد وہ غائب ہوگئیں۔ آپ کے کیا ارادے ہیں؟
میں نے تو ابھی یہاں کیریئر کی ابتدا کی ہے۔ مجھے بہت آگے جانا ہے۔ ’’ سنگھم‘‘ میں میری اداکاری بہت پسند کی گئی تھی، اور امید ہے کہ آئندہ بھی ہندی فلموں کے ناظرین مجھے اسی طرح سراہیں گے۔ میں واپس جانے کے لیے بولی وڈ میں نہیں آئی۔ مجھے یہاں رہنا ہے اور ساؤتھ کی طرح یہاں بھی خود کو منوانا ہے۔

٭ آپ پچھلے چھے سال سے تامل اور تیلگو فلموں میں مصروف ہیں۔ ہندی فلموں کی طرف آنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
جب میں نے ’’ سنگھم‘‘ سائن کی تھی تواس وقت میرے پاس آٹھ تامل اور تیلگو فلمیں تھیں۔ مجھے ان فلموں کی شوٹنگ بھی مکمل کروانی تھی۔ دوسری بات یہ کہ مجھے بولی وڈ نے اس وقت یاد کیا جب ساؤتھ میں میری پہچان بن گئی تھی۔

٭جنوبی ہندوستان کی فلمی دنیا سے جو اداکارائیں بولی وڈ میں آتی ہیں۔ انھیں سب سے پہلے زبان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ کیا آپ کو بھی اس مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟
جی نہیں! میں ممبئی میں پیدا ہوئی اور یہی پلی بڑھی ہوں۔ مجھے ہندی پر عبور حاصل ہے، اور ساؤتھ میں جانے کے بعد میں نے تامل اور تیلگو زبانیں بھی سیکھ لیں ہیں، اگرچہ میرا خاندانی پس منظر پنجابی ہے۔

٭ اسین ٹھوٹمکل کا کہنا ہے کہ ملٹی اسٹار کاسٹ پر مبنی فلمیں ان کے لیے بہتر ہوتی ہیں کیوں کہ ان فلموں کو مختلف لسانی طبقوں سے تعلق رکھنے والے ناظرین دیکھتے ہیں، نتیجتاً فلم انڈسٹری میں ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔ کیا آپ ان کے نقطۂ نظر سے متفق ہیں؟
میرے خیال میں اسین کا فلسفہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہوگا تبھی وہ اس پر یقین رکھتی ہیں۔ میرا کوئی فلسفہ نہیں ہے، اور یہی میری کام یابی کا سبب ہے( مسکراہٹ)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔