سیاسی اور سرکاری حکام کی بے مثال غفلت ٹرانسپورٹ کے متعدد منصوبے التوا کا شکار

اشرف علی  منگل 12 فروری 2013
کراچی کا ہر طبقہ پریشان ہے،مسلم لیگ اقتدارمیں آکرشہر کو امن کا گہوارہ بنا دیگی فوٹو: نور/فائل

کراچی کا ہر طبقہ پریشان ہے،مسلم لیگ اقتدارمیں آکرشہر کو امن کا گہوارہ بنا دیگی فوٹو: نور/فائل

کراچی:  وفاقی ، صوبائی، مقامی حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرزکی غفلت اور غیرسنجیدگی کے باعث کراچی میں ماس ٹرانزٹ پروگرام سمیت متعدد منصوبے کاغذوں سے باہر نہیں آسکے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ٹرانسپورٹ کے میگا منصوبے ماس ٹرانزٹ سسٹم، بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ، کراچی سرکلر ریلوے، شہید بے نظیر بھٹو سی این جی اسکیم ودیگر پروجیکٹ وفاقی و صوبائی حکومتوں ودیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کی غفلت و نااہلی کے باعث گذشتہ چالیس سال سے التوا کا شکار ہیں جبکہ کئی ٹرانسپورٹ منصوبے کراچی میں پانچ سے آٹھ سال قبل منظور ہوگئے تھے اور بعض شروع ہوکر حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث ختم ہوچکے ہیں۔

تاہم لاہور میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت پنجاب کے انقلابی اقدامات اور اپنی عوام سے مخلصی کی بنیاد پر ٹھوس وبروقت فیصلے کے باعث کامیابی سے ہمکنار ہوگئے ہیں، لاہور میں سی این جی بس پروجیکٹ ڈیڑھ سال قبل آپریشنل کیا جاچکا ہے جبکہ میٹروبس سروس کا افتتاح اتوار کو کردیا گیا ہے، اہم ترین کام لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی(ایل ٹی سی) کا قیام ہے جس کے تحت ون ونڈو آپریشن کے ذریعے روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجرا ہے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو کیپٹل وآپریشنل سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔

نمائندہ ایکسپریس کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق 1974-77 میں وزارت مواصلات اور پاکستان ریلویز کے تعاون سے ریپڈ ٹرانزٹ سیل نے ایک اسٹڈی مکمل کرکے کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کیلیے ماس ٹرانزٹ سسٹم کی سفارشات پیش کیں تاہم بجائے اس پر عملدرآمد کرنے کے 1964سے کامیابی سے آپریشنل ہونے والی کراچی سرکلر ریلوے وفاقی وصوبائی اداروں اور ٹرانسپورٹ مافیا کی ملی بھگت سے بتدریج ناکام ہوکر 1990میں بند کردی گئی، 1982میں جسٹس اجمل میاں کمیشن نے کراچی میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کی سفارشات پیش کیں، 1985میں بشریٰ زیدی بس ایکسیڈنٹ کیس میں کراچی میں لسانی فسادات شروع ہوگئے تھے۔

اس کیس کے بعد مسعود الزماں کمیشن نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور لسانی کشیدگی دور کرنے کیلیے فوری طور پر ماس ٹرانزٹ سسٹم پر عملدرآمد کی تجویز پیش کی، 1987میں ادارہ ترقیات کراچی میں کراچی ماس ٹرانزٹ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا، اس ادارے نے عالمی بینک کے تعاون سے اسٹڈی رپورٹ تیار کی جس میں سفارشات پیش کی گئیں کہ کراچی کیلیے 6 کوریڈورز پر بس ویز تعمیر کیے جائیں۔

جو مستقبل میں تبدیل پذیر ہو کر لائٹ ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم میں کردیے جائیں، عالمی بینک کے ماہرین نے کوریڈور ون سہراب گوٹھ سے ٹاور اور کوریڈور ٹو اورنگی ٹائون سے کینٹ اسٹیشن کو ترجیحی کوریڈور قرار دیکر فوری تعمیرات کی تجویز پیش کی، اس اسٹیڈیز کی بنیاد پر 1996-97میں بینظیر بھٹو حکومت میں کینیڈین کمپنی ایس این سی لوولین اور انڈس ماس ٹرانزٹ کمپنی نے وفاقی حکومت سے کراچی میں کوریڈور ون پر لائٹ ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم تعمیر کرنے کا معاہدہ کیا تاہم بعدازاں یہ منصوبہ متعلقہ حکام کی بددنیتی کی نذر ہوگیا، 2005میں چینی کمپنی نے کوریڈور ون پر ایل آر ٹی تعمیر کرنے کا معاہدہ کیا.

تاہم سہراب گوٹھ اور ٹاور پر تجاوزات اور فنڈز وغیرہ کے مسائل کے باعث یہ منصوبہ دوبارہ التوا کا شکار ہوگیا،کراچی میں بے نظیر بھٹو سی این جی اسکیم کے تحت 4ہزار بسیں چلانے کی منصوبہ بندی تھی جس کے تحت بسوں کی خریداری پر 20فیصد سبسڈی دی جانی تھی، وفاقی حکومت نے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت 500 بسیں آپریٹ کرنے کیلیے 30کروڑ روپے بھی متعلقہ بینک کو ٹرانسفر کردیے تھے تاہم متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث اس منصوبے پر بھی عملدرآمد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، کراچی سرکلر ریلوے سروس 90کی دہائی میں بند کردی گئی تھی،جائیکا کے تعاون سے اس کی دوبارہ بحالی کیلیے کاوشوں کا آغاز 2004میں شروع ہوا.

تاہم وفاقی وصوبائی نوکر شاہی کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ کئی بار تاخیر کا شکار رہا، پروجیکٹ ڈائریکٹر کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن آئی ایچ خلجی نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے کیلیے جاپان اورحکومت پاکستان کے درمیان عملی معاہدہ رواں سال جون سے قبل ہوجائے گا اور اس کی تعمیرات 2017میں مکمل کرلی جائیگی، ٹرانسپورٹ ماہرین کے مطابق کراچی مٰیں چھ سے زائد ادارے ٹرانسپورٹ سے متعلق معاملات چلاتے ہیں جس کے باعث کرپشن کے فروغ اور انتظامی معاملات میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔