سیکیورٹی خدشات کیسے ختم کریں؟ بورڈ حکام آج سر جوڑینگے

میاں اصغر سلیمی / اسپورٹس رپورٹر  منگل 12 فروری 2013
پلان ’’اے‘‘ کے مطابق نومبر میں انعقاد پر غور، دوسری صورت فروری میں میچز ہونگے۔  فوٹو: فائل

پلان ’’اے‘‘ کے مطابق نومبر میں انعقاد پر غور، دوسری صورت فروری میں میچز ہونگے۔ فوٹو: فائل

لاہور: پی سی بی نے ہر حال میں سپر لیگ کے انعقادکا پکا ارادہ کر لیا،اس سلسلے میں اسے سب سے پہلے غیر ملکی کرکٹرز اور بورڈز کے سیکیورٹی خدشات دور کرنا ہونگے۔

نئی راہیں تلاش کرنے کیلیے بورڈ حکام منگل کو سرجوڑ کر بیٹھ رہے ہیں،اس موقع پر ایونٹ کی نئی تاریخیں بھی تلاش کی جائینگی، بورڈ نے دو منصوبے تیار کیے ہیں، پلان ’’اے‘‘ کے مطابق نومبر میں جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز کے اختتام اور دسمبر میں سری لنکا کے ساتھ میچز سے قبل ’’ونڈو‘‘ تلاش کی جائیگی، نومبر تک عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کا قیام بھی عمل میں آ چکا ہوگا جس کے بعد سیکیورٹی ادارے سپر لیگ میں شریک پلیئرز کیلیے فول پروف انتظامات کر سکیں گے، دوسری صورت میں فروری میں ٹیم کی فراغت سے فائدہ اٹھایا جائیگا۔

ذرائع نے دعوی کیا کہ لیگ کیلیے زمبابوے اورسری لنکا سمیت چندکرکٹ بورڈز پلیئرز کو ریلیز کرنے پر آمادہ ہیں تاہم سب کا اعتماد حاصل کرنے کیلیے بہترین سیکیورٹی پلان تیار کرنا لازمی ہے،غیر ملکی لیگز کے حوالے سے پالیسی کی وجہ سے بھارتی بورڈ سے بات نہیں ہوئی جبکہ کشیدہ تعلقات کے باوجود بنگلہ دیش اپنے کھلاڑی بجھوانے کیلیے تیار ہو جائیگا،ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں لیگزکھیلنے والے متعدد کھلاڑی ایسے بھی ہیں جنھیں اپنے بورڈز سے این او سی لینے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، ان میں سے بھی بیشتر پی ایس ایل کھیلنے کیلیے آمادہ ہیں۔

اس حوالے سے جب نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے پاکستان سپر لیگ کے ایم ڈی سلمان سرور بٹ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ہماری تیاریاں مکمل تھیں، وزیر داخلہ رحمان ملک نے ذکا اشرف سے ملاقات میں نہ صرف سیکیورٹی کلیئرنس دی بلکہ تمام انتظامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم فرنچائزڈ کے اصرار کے بعد التوا کا فیصلہ کیا گیا،انھوں نے کہا کہ ایونٹ کیلیے فرنچائزز کی دلچسپی شاندار رہی،5 ٹیموں کیلیے 15 کمپنیز نے رابطہ کیا، ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، سلمان بٹ نے کہا کہ لیگ ملتوی ضرور ہوئی ختم نہیں ہوئی، ہم نے جو ہوم ورک مکمل کیا اس کا بھر پور فائدہ ایونٹ شروع کرتے وقت ملے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔