گرینڈ مکالمہ مسائل کا حل

ایڈیٹوریل  منگل 8 اگست 2017
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی نااہلی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا صرف جواز ڈھونڈا جا رہا تھا . فوٹو : فائل

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی نااہلی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا صرف جواز ڈھونڈا جا رہا تھا . فوٹو : فائل

ملکی سیاست کی سیمابیت اور بے سمت تہلکہ خیزی بدستور جاری ہے، مون سون کی بارشوں میں بھی سیاسی موسم خاصا گرم ہے، الزامات، شعلہ نوائی اور کشیدگی کے باعث متلاطم دریا کو شاید ابھی اترنے میں کچھ دیر لگے گی، ایک طرف وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 62-63 میں تبدیلی کے لیے تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے، وزیراعظم وعدے کے مطابق  وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کی شب آٹھ بجے طلب کر لیا، دوسری طرف سابق وزیر اعظم نوازشریف آج (بدھ) بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور روانہ ہونگے، مسلم لیگ (ن) کے ذرایع کے مطابق نواز شریف کی لاہور روانگی پر سیاسی طاقت کے بھرپور مظاہرے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جب کہ وفاقی وزارت داخلہ اور قومی سلامتی کے خفیہ اداروں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کل جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کو سیکیورٹی رسک قرار دیدیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ موٹر وے کا راستہ ہی استعمال کریں تاہم نواز شریف نے فیصلہ نہ بدلا تو سیکیورٹی اداروں کو ان کی حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات کرنا ہونگے۔

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قومی اداروں سے ملکر دہشتگردوں کو شکست دیں گے اورآئین اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، وہ پیر کو 203 ویں کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، فورم نے ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی بالخصوص افغان صورتحال کا جائزہ لیا اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اعتماد پر مبنی باہمی تعاون چاہتے ہیں جو علاقائی امن کی پالیسی کے نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

دریں اثنا بیرون ملک سے منگل کی صبح عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری لاہور پہنچ گئے، انھوں نے اپنے خطاب میں سوال کیا کہ نواز شریف جی ٹی روڈ پر کس کے خلاف نکل رہے ہیں، اسی سے ملتی جلتی بات پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کی کہ نواز شریف کو سڑکوں پر نکلنے کا اشارہ کہاں سے ملا؟ ادھر پاناما کیس کے اولین متاثرہ افسر ظفر حجازی کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سیاسی جماعتوں بالخصوص حکومت کے مطالبے پر احکام جاری کر دیے کہ آیندہ ایوان کی کارروائی براہ راست نشر کی جائے، خبر کے مطابق وزیراعظم سے اس معاملے پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ملاقات بھی کی، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نواز شریف کی نااہلی کے بعد سیاسی گولہ باری کے لیے کیا گیا اور امکان ہے کہ گلالئی کے حوالے سے بھی یہی پلیٹ فارم استعمال ہو چنانچہ اس سیاق و سباق میں اشتعال انگیز بیانات اور ایک دوسرے کی کردار کشی کی تمام حدود پھلانگی جا رہی ہیں۔

جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے، ان سے عوام قانون سازی، ملکی سالمیت، معاشی استحکام اور عوامی فلا ح وبہبود کی توقع رکھتے ہیں جب کہ ملکی صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اداروں میں ہم آہنگی ہو، تعلقات کار اور اشتراک عمل مثالی ہو، ورنہ افراتفری کے سینگ نہیں ہوتے وہ دلدلی ریت کی طرح پاؤں پکڑ لیتی ہے، لہٰذا سیاسی قائدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ دہشتگردی کے عفریت کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے، ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو بھی حکومت اور اپوزیشن رہنما اپنے ایجنڈے اور منشور میں جگہ دیں، بلکہ سب سے بڑی ضرورت افہام وتفہیم، معاملہ فہمی، رواداری اور کشادہ دلی کی ہے، سیاست کی رگوں سے بغض و عناد کا زہر نکالنے کی اشد ضرورت ہے، عوام کی حالت بدلنے، بلوچستان میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے او اسے غیر ملکی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی سوچ پیدا کرنی چاہیے، اسی ضمن میں گزشتہ روز پاکستان بارکونسل نے سانحہ کوئٹہ کا ایک سال مکمل ہونے پر بلوچستان کے وکلاء سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا۔ بلاشبہ قیام امن ایک قومی مشن ہے، باقی چیزیں ثانوی ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی نااہلی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا صرف جواز ڈھونڈا جا رہا تھا، پاناما میں کوئی چیز نہیں ملی تو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کا جواز بنا کر نااہل قرار دیدیا، جو نادر مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر قانون اور آئین کی بالادستی قائم نہ ہوئی تو اللہ نہ کرے کہ پاکستان کسی حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ ملک میں اس وقت گرینڈ سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں گے تو ملک ترقی کریگا ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنے سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گندی سیاست سے ملکی سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

کوشش کی جائے کہ تمام حل طلب مسائل کو پارلیمنٹ میں حل کیا جائے، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر نازیبا ایس ایم ایس کا الزام لگانے والی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی ایوان میں آمد سے تحریک انصاف کے اراکین میں ہلچل سی مچ گئی، پیر کو قومی اسمبلی میں شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہماری ایک خاتون رکن نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیارکر لی ہے وہ ایوان میںکیسے آسکتی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس حوالے سے قانون پڑھ لیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی باغی رکن عائشہ گلالئی کی تقریر پر پی ٹی آئی ارکان نے شدید ہنگامہ کیا، عائشہ گلالئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں میرٹ پر اس ایوان کی رکن بنی ہوں، نشست نہیں چھوڑوں گی۔

میری آواز بلند کرنے سے کمزور خواتین کو حوصلہ ملا ہے، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا جس سیاست میں ماں، بہن اور بیٹی کی عزت محفوظ نہ ہو ایسی سیاست کی مذمت کرتے ہیں، تاہم ایک طرف تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید اور عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور دوسری جانب عائشہ احد، سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ اور سابق صوبائی وزیرقانون بشارت راجہ نے میڈیا کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے، حالانکہ گلالئی ایشو سمیت سیاسی افراط و تفریط میں شدت لانے کے بجائے ہوشمندی سے کام لینا چاہیے، معاشرے میں انارکی، لاقانونیت، مجرمانہ سرگرمیوں اور رعونت آمیز لہجوں سے صورتحال ہولناک ہوچکی ہے اس وقت ضرورت تحمل و برداشت، تدبر، شائستگی، سنجیدہ سیاسی عمل اور صحت مند جمہوری مکالمہ کا ماحول سازگار کرنے کی ہے کیا ہم من حیث القوم اتنا بھی نہیں کر سکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔