مینڈیٹ

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 10 اگست 2017
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

سرمایہ دارانہ جمہوریت میں عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بہت ساری خوبصورت اصطلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ان اصطلاحات کی کچھ شرم رکھ لی جاتی ہے لیکن پسماندہ ملکوں میں بڑی بے شرمی سے ان اصطلاحات کو اپنے سیاسی مفادات اور اپنی حکمرانیوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویسے تو اس قسم کی اصطلاحات بے شمار ہیں لیکن ان میں سے چند اصطلاحات ایسی ہیں جنھیں جمہوریت کے چیمپئن ہر وقت بے تکلفی سے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی فراڈ اصطلاح ’’مینڈیٹ‘‘ہے۔ مینڈیٹ کا مطلب انتخابات میں عوام کی طرف سے ملی ہوئی اکثریتی حمایت ہے۔ ہمارے ملک کی ماضی قریب کی سیاست میں بد دیانت حکمرانوں نے اس اصطلاح کا جا و بے جا بھرپور استعمال کیا ہے۔

اس سے قبل کہ ہم اس اصطلاح کی زہر ناکی کا جائزہ لیں ہمارے انتخابی نظام پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جمہوریت میں جس طرح ووٹ ڈالنا ہر شہری کا حق ہوتا ہے اسی طرح انتخابات میں خواہ وہ قومی اسمبلی کے ہوں، صوبائی اسمبلی کے یا سینیٹ کے حصہ لینے کا حق ہر شہری کو حاصل ہوتا ہے لیکن یہ حق الیکشن کمیشن اور الیکشن کے قوانین اور دستور میں تو ہوتا ہے لیکن عملی سیاست میں اس کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہوتا کیونکہ انتخابات لڑنے کے لیے کروڑوں کے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور جس ملک کی 90 فی صد آبادی کو دو وقت کی روٹی مشکل سے حاصل ہوتی ہے وہ کروڑوں روپے انتخابات لڑنے پر کہاں سے لاسکتا ہے۔

جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے غریب عوام الیکشن میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ البتہ انھیں ووٹ دینے کا حق ضرور دیا جاتا ہے لیکن اس حق کو بھی ایک جمہوریہ نظام کے ذریعے اشرافیائی امیدواروں کے حق میں ہی استعمال کرایا جاتا ہے۔ ہمارا ملک ابھی تک جاگیردارانہ نظام کے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے، زرعی معیشت سے منسلک 60 فی صد آبادی کے ووٹ وڈیروں اور جاگیرداروں ہی کو جاتے ہیں۔ چونکہ ضیا الحق کے دور سے صنعت کار طبقہ بھی سیاست میں فعال طریقے سے حصہ لے رہا ہے لہٰذا یہ طبقہ سیاسی ٹھیکیداروں کے ذریعے غریب عوام کے ووٹ ہتھیالیتا ہے اس کے علاوہ رنگ، نسل، زبان، قومیت، مسلکوں کے حوالوں سے تقسیم ووٹ بھی ان کے رہنماؤں کے ذریعے اشرافیہ کی گود ہی میں چلے جاتے ہیں۔

دھاندلی کا ایک انتہائی منظم اور ٹیکنیکل نظام ہمارے ملک میں رائج ہے جس کے ذریعے اشرافیہ عوام کے ووٹ غصب کرلیتی ہے اورعوام کے ان ناجائز طریقوں سے حاصل کردہ ووٹ کو مینڈیٹ کا نام دیا جاتا ہے اور اس مینڈیٹ کو 5 سال حکومت کرنے کا اصلی تے پکا سرٹیفکیٹ بنادیا جاتا ہے، ہماری جمہوری تاریخ اسی جعلی مینڈیٹ سے بھری ہوئی ہے اور ہمارا حکمران طبقہ 70 سالوں سے اس جعلی مینڈیٹ کے ذریعے عوام کے سروں پر سوار ہے۔ ہماری ایک حکومت کو یہ ’’اعزاز‘‘ حاصل ہے کہ اس نے مینڈیٹ کے ذریعے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی موجودہ حکومت بھی اسی مینڈیٹ کے نام پر پانچ سال تک عوام پر حکومت کرنا اپنا حق سمجھتی ہے اور ہمارے محترم سیاست دان حکومت کے اسی حق کے حامی ہیں۔

جمہوری اصطلاحوں میں ایک اصطلاح کے مطابق اختلاف رائے کو ’’جمہوریت کا حسن‘‘ کہا جاتا ہے، ویسے تو ہماری سیاسی جمہوری تاریخ ہے ’’جمہوریت کے حسن‘‘ سے چکا چوند ہے لیکن جب سے پاناما لیکس کا مسئلہ سامنے آیا ہے جمہوریت کا حسن اس قدر چکا چوند ہوگیا ہے کہ عوام کی آنکھیں بھی اس چکا چوند سے اٹی ہوئی ہیں۔ اختلاف رائے اب اس جگہ پہنچ گیا ہے جہاں اخلاق، شرافت اور وضع داری منہ چھپاکر نکل جاتی ہیں، اس حسن کے مقابلے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں مغرب کی عریانی بھی شرمسار نظر آتی ہے۔

جمہوریت کے ان زیورات سے لدھی دلہن کے عشاق نے جمہوریت کو نظر بند سے بچانے کے لیے اس کی پیشانی پر جو میڈل سجا رکھے ہیں ان میں پارلیمنٹ سب سے بڑا میڈل ہے جمہوریت کے عشاق اس میڈل کی رکشا اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہندو گائے کی رکشا کرتے ہیں۔ 2014 میں جب جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوا تو جمہوریت کے عشاق نے پارلیمنٹ میں دھرنا دے کر اس دیوی کی رکشا کی، اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ قابل قدر اور قابل احترام ادارے ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے پہلی اور لازمی شے یہ ہوتی ہے کہ جمہوریت کی باگ ڈور عوام کے ہاتھوں میں ہو، جمہوریت عوام کے لیے ہو، عوام کی ہو اور عوام کے ذریعے ہو۔

کیا ہماری جمہوریت اس معیار پر پوری اتری ہے، کیا ہماری پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمایندے ہیں، ہمارے ملک میں ساڑھے چار کروڑ مزدور رہتے ہیں۔کیا پارلیمنٹ میں ان کا ایک بھی نمایندہ موجود ہے ؟ ہمارے ملک میں زرعی معیشت سے 60 فی صد کسان اور ہاری جڑے ہوئے ہیں۔ کیا پارلیمنٹ میں ان کا ایک بھی حقیقی نمایندہ موجودہ ہے؟ ہمارے ملک میں غریب طبقات کی تعداد 80 فی صد ہے کیا ہمارے قانون ساز اداروں میں ان کا کوئی حقیقی نمایندہ موجود ہے۔ ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں ڈاکٹرز، انجینئرز رہتے ہیں۔کیا ہماری پارلیمنٹ میں ان کی نمایندگی ہے؟ ہمارے ملک میں ادیب ہیں، شاعر ہیں، فنکار ہیں، دانشور ہیں کیا ان کا کوئی نمایندہ قانون ساز اداروں میں ہے؟ یہ عوام کے حقیقی نمایندے ہیں اگر قانون ساز اداروں میں ان کی نمایندگی نہیں ہے تو پھر پارلیمنٹ کس حوالے سے مقدس ہوسکتی ہے اور اس کی حمایت کرنے والے لوگ کون ہوسکتے ہیں؟ آج جب جمہوریت کے حسن سے عوام کی آنکھیں چکا چوند ہورہی ہیں اور ایک پارٹی دوسرے کی ایک رہنما دوسرے کی اصلیت بتارہا ہے تو پارلیمنٹ کے تقدس میں کس قدر اضافہ ہورہاہے؟

یہ اشرافیائی جمہوریت کو لاحق وہ سنگین امراض ہیں جن کے علاج کے بغیر جمہوریت جمہوریت بن سکتی ہے نہ عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے پہلے دو اقدامات لازمی ہیں۔ اول یہ کہ ملک میں سخت زرعی اصطلاحات نافذ کی جائیں، دوئم انتخابی اصطلاحات لائی جائیں۔ انتخابی اصطلاحات کے نام پر جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ محض اشک شوئی ہیں۔ انتخابی اصطلاحات کا اصل مقصد عام اہل آدمی کو اس قابل بنانا اور ایسے قوانین بنانا ہے کہ وہ قومی، صوبائی اور سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے سکے تاکہ قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے پہنچ سکیں اور عوام اپنے ووٹ کا حق آزادانہ استعمال کرسکیں۔ ایسی صورت میں حکمرانوں کو جو مینڈیٹ ملے گا وہ جعلی نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔