شمسی عینک؛ موبائل فون اور دوسرے برقی آلات ری چارج کرے گی

غ۔ع  جمعرات 10 اگست 2017
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

برلن: جرمن سائنس دانوں نے ایسی عینک تیار کرلی ہے جس کے عدسے سولر سیلز کا کام دیتے ہیں۔ ان عدسوں کی مدد سے حاصل ہونے والی بجلی موبائل فون کو ری چارج کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ سولر سیل ایک مائیکروپروسیسر اور دو ڈسپلے اسکرینز کو برقی توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اتنی بجلی بچ جاتی ہے جس سے سیل فون ری چارج کیا جاسکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے مزید استعمالات سامنے آئیں گے۔ مثلاً کھڑکیوں کے ایسے شیشے بنائے جاسکیں گے جو نامیاتی سولر سیل کا بھی کام دیں گے۔ سورج کی روشنی سے بجلی بنانے والے نامیاتی سولر سیل اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ یہ شفاف اور کم وزن ہوتے ہیں، اور انھیں مختلف جسامتوں اور رنگوں میں بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کے برعکس سلیکان کے بنے ہوئے سولر سیلز وزنی اور غیرلچک دار ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا استعمال بہت محدود ہے۔

یہ منفرد عینک جرمنی کے کارلسروہے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ سائنس دانوں کی ایجاد ہے۔ اسے آزمائشی طور پر صرف یہ دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے کہ نامیاتی سولر سیلز کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کے آئی ٹی میں اورگینک فوٹووولٹائکس گروپ کے سربراہ ڈاکٹر الیگزینڈر کولزمین کہتے ہیں کہ ہم شمسی توانائی کو اس سطح پر لے آئے ہیں جہاں دوسری ٹیکنالوجی ناکام ہوجاتی ہے۔

جرمن محققین کی تیارکردہ سولر عینک کمرے کے اندر بھی کام کرتی ہے جہاں روشنی کی کم از کم شدت 500  لکس ہو۔ گھر کے اندرونی ماحول میں عینک کا ہر عدسہ 200 مائیکرو واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جو چھوٹے موٹے برقی آلات جیسے آلۂ سماعت وغیرہ کو آپریٹ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہر شمسی عدسے (سولر لینس) کی موٹائی 1.6  ملی میٹر ( 0.06 انچ) اور وزن محض 6 گرام ہے۔ روایتی عدسوں کا وزن بھی اتنا ہی ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق نامیاتی شمسی سیل (آرگینک سولر سیلز) اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ یہ لچک دار ہیں، انہیں کوئی بھی رنگ دیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ کسی بھی شکل اور جسامت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان عدسوں کی مدد سے عمارتوں کو بجلی کے پلانٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ فلک بوس عمارتوں میں سیکڑوں ہزاروں کھڑکیاں ہوتی ہیں۔ اگر ان سب میں اس سولر سیل ٹیکنالوجی سے بنے شیشے لگادیئے جائیں تو بڑی مقدار میں بجلی پیدا ہوگی اور کھڑکیوں کے اوپر چھجے بنانے کی لاگت کی بھی بچت ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔