قومی اسمبلی ؛ لیگی ارکان ریلی میں مصروف، کورم ٹوٹتا رہا، اجلاس ملتوی

حسیب حنیف  جمعرات 10 اگست 2017
ن لیگ ہمارے راستے پرچل پڑی،پارٹی دیں،حامدالحق،چائے پینے آئیں،ایازصادق،راہداریوں میں بھی ریلی موضوع بحث رہی
 فوٹو: فائل

ن لیگ ہمارے راستے پرچل پڑی،پارٹی دیں،حامدالحق،چائے پینے آئیں،ایازصادق،راہداریوں میں بھی ریلی موضوع بحث رہی فوٹو: فائل

 اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی ریلی کے باعث بدھ کے روزقومی اسمبلی میں لیگی اراکین کی تعداد انتہائی کم رہی جبکہ پارلیمانی راہداریوں میں لیگی ریلی موضوع بحث رہی۔

لیگی ارکان نوازشریف کی ریلی کو جمہوری روایت اور سیاسی پاور شو جبکہ مخالف ارکان ریلی کوسپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف عوامی لہر اٹھانے کی کوشش قرار دیتے رہے۔ قومی اسمبلی کااجلاس شروع ہوا تو ارکان کی کم تعداد کے باعث کورم ٹوٹنے سے بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کرنا پڑا،جب اجلاس شروع ہوا توحکومتی بینچوں پر 11 اور اپوزیشن بینچوں پر 23 اراکین موجود تھے۔

ا جلاس شروع ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے عبد الستار بچانی نے کورم کی نشاندہی کردی اور اسپیکر سے کہا آپ بھی گھر جائیں اور ہمیں بھی جانے دیں۔  تحریک انصاف کی رکن شیری مزاری نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آج ن لیگ کو کنٹینر کی افادیت کا پتہ چلا ہے۔ تحریک انصاف کے حامد الحق نے اسپیکر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ  ہمیں خوشی ہے کہ ن لیگ بھی ہمارے راستے پر چل پڑی ہے، اب آپ ہمیں یہاں پارٹی دے دیں۔ اسپیکر نے حامد الحق کو اسپیکر آفس آکر چائے پینے کی دعوت دی۔

کورم کی کمی پر اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا اور جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو شیریں مزاری نے پھر کورم کی نشاندہی کر دی جس کے بعد اسپیکر ایا ز صادق نے اجلاس آج صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے نوازشریف کی ریلی کو جمہو ری عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ کا بڑا اجتما ع ہو گا اور اس سے کچھ سیا سی طاقتیں تڑپ اٹھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور نے نواز شریف کی ریلی کو سیا سی عمل قرار دیا۔ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے ریلی کو جمہوریت اور اداروں کو ڈی ریل کرنے کی ساز ش قرار دیا۔ اسی طرح پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں بھی نوا ز شریف کی ریلی اور مستقبل زیربحث رہا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔