جدید تعلیم جدید غلامی

شیخ جابر  منگل 12 فروری 2013
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

نوم چومسکی (7دسمبر1928) لسانیاتِ جدید کے موجد کہلاتے ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے بڑے دانش وروں میں ہوتا ہے۔ آپ نے گزشتہ ہفتے(7فروری) ’’پبلک ایجو کیشن اینڈ کامن گڈ‘‘ کے موضوع پر ’’ایسٹ اسٹرائوڈز برگ یونی ورسٹی‘‘ میں خطاب کیا۔ آٹھ سو سے زائد طلبا و طالبات نے یہ خطاب سُنا۔ آپ کا کہنا تھا کہ امریکی نظامِ تعلیم سماجی بھلائی کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ دولت مندوں اور صاحبِ طاقت افراد کے مفادات کے حصول کا ذریعہ ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اِسی طرح بغیر کسی تنقید کے اطاعت و غلامی کی زندگی گزارے چلے جائیں۔

جدید تعلیم کیا ہے؟ کِس لیے ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ہمارے ہاں مروجہ نظامِ تعلیم انگریزوں کی باقیات میں سے ہے۔ یہ کئی مرتبہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں گوروں نے یہ نظامِ تعلیم اِس لیے رواج دیا تھا کہ اُنھیں اپنی حکومتی مشینری چلانے کے لیے کلرکوں کی فوج درکار تھی۔ جو اُن کی بات سمجھ کر اُن کی منشا کے مطابق کاروبارِ حکومت جاری رکھ سکیں۔ آج یہ ملٹی نیشنلز اور نیشنلز کی ضرورت ہے۔ اِس ضرورت کی تکمیل کے لیے دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد اسکول اور نو ہزار سے زائد یونی ورسٹیز برسرِ کار ہیں۔ یہاں تک کہ جدید تعلیمی ادارے خود ایک صنعت کا درجہ اختیار کر کے سرمائے کی بڑھوتری کی خدمت میں جُتے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم آپ اپنے بچوں کو تعلیم کیوں دِلواتے ہیں؟ آج جسے دیکھیں بچے کو اچھے سے اچھے اسکول میں داخل کروانے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔

(اور اچھے سے اچھے اسکول کا مطلب ہے مہنگے سے مہنگا اسکول) والدین بچوں کو اچھے اور مہنگے اسکول میں تعلیم دلوانے کے لیے طرح طرح کے مصائب جھیلتے ہیں۔ اکثر بڑے جوکھم میں پڑ کر اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ خود بچوں کا حال بھی دِگرگوں ہوتا ہے۔ بڑے شہروں اور قُرب و جوار میں۔ صبح سویرے، علی الفجر سوتے جاگتے، گرتے پڑتے معصوم بچے نِنداسی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھتے چھوٹی بڑی اسکول کی گاڑیوں میں ٹُھنسے چلے جا رہے ہیں۔ کئی گھنٹوں کے سفر اور ہچکولوں کے بعد کہیں جا کر اسکول گیٹ نصیب ہوتا ہے۔ یہ ہی مشقت بے چاروں کو چار و ناچار دمِ واپسیں بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں؟ کِس لیے؟ مختلف والدین سے یہ سوال کیا گیا۔ سوال سُن کر اکثر چہروں پر حیرت کے آثار بھی نظر آئے۔ گویا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔

جوابات کو تین بڑے گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر والدین کا جواب تھا کہ ہم بچوں کو علم حاصل کرنے کے لیے اسکول بھیجتے ہیں۔ کچھ والدین نے جواب دیا کہ تعلیم سے بچوں کے ذہن کھلتے ہیں، وہ روشن خیال ہوتے ہیں۔ اُنھیں زندگی گزارنے کا سلیقہ آتا ہے۔ معدودے چند والدین نے کہا کہ ہم بچوں کو روشن مستقبل کے لیے اسکول بھیجتے ہیں۔ مزید ایک ایک سوال کیا گیا۔ جن والدین نے کہا تھا کہ وہ بچوں کو علم حاصل کرنے اسکول بھیجتے ہیں اور دوسرے گروپ نے روشن خیالی کے لیے اسکول بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔ دونوں کو پہلے تو ایک فرضی صورت حال میں لے گئے۔ فرض کریں آپ کا بچہ اسکول ’’الف‘‘ کا طالب علم ہے۔ یہ اسکول معلوم طور پر پاکستان کا سب سے معیاری اسکول بن جاتا ہے۔ یہاں کی تما م تر فیِس ختم کر دی جاتی ہے۔ اُلٹا بچے کو ماہانہ وظیفہ ملنے لگتا ہے۔

آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟ اکثر والدین نے ہنس کر کہا کہ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ جی ہاں یہ ممکن نہیں لیکن فرض کر لینے میں کیا حرج ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہی سہی یہ دِل خوش کُن تصور باندھ لیا جائے تو کیا حرج ہے، کیا آپ اِس مفروضہ اسکول میں اپنے بچے کی تعلیم جاری رکھنا پسند کریں گے؟ ’’ارے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، کیوں نہیں بھیجیں گے ضرور بھیجیں گے۔‘‘ ایک والدہ نے تنک کر جواب دیا۔ کم و بیش سب کا یہ ہی جواب تھا۔ لیکن سوال ابھی جاری ہے میرے دوست… اگر حکومت یہ اعلان کر دے کہ ہمارے مفروضہ ’’الف‘‘ اسکول سے تعلیم پانے والے طلبا کسی بھی قسم کی سرکاری اور نجی ملازمت کے لیے اپنی سند پیش نہیں کر سکیں گے، کیا اب بھی آپ اپنے بچے یا بچی کو اسی بہترین اسکول میں تعلیم دلوانے پر اصرار کریں گے؟ قارئینِ کرام آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا جواب ملا ہو گا۔ آخری گروپ سے، جِس نے بچوں کے روشن مستقبل کا جواب دیا تھا سوال پوچھا گیا کہ روشن مستقبل سے آپ کی مراد اچھی ملازمت، اچھا عہدہ یا دوسرے الفاظ میں اچھے پیسے ہی ہیں نا؟ جو جواب ملا ظاہر ہے کہ وہ بھی دہرانے کی ضرورت نہیں۔ گویا ہم سب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ تعلیم کے نام پر آج ہونے والی تمام تر مشقت اور بھاگ دوڑ صرف اور صرف پیسے کے لیے ہے، نہ کہ کسی اعلیٰ مقصد و آدرش کے لیے۔

سائنسی تعلیم کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ یہ عقائداتی نہیں ہے۔ سائنسی تعلیم سے ذہن سائنسی طرزِ فکر اپناتے ہیں، انسان روشن خیال ہوتا ہے۔ جب کہ حقیقتِ حال اِس کے بالکل بر عکس ہے۔ سائنسی تعلیم کے نام پر کیا کچھ پڑھایا جاتا ہے یہ سب طے شدہ ہے۔ کہیں یہ طے ہو چکا ہے۔ آپ کو اِس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی آزادی نہیں۔ یہاں تک کہ آپ تحقیق کے لیے بھی کچھ سوالات شامل کرنے کے مجاز نہیں۔ یہ صریحاً خود سائنس کے اپنے طے کردہ اصولوں اور مروجہ علمی معیارات کے خلاف ہے، لیکن سچ یہ ہی ہے۔

سائنسی نصاب اور پیمانے مذہبی عقائد کی طرح حتمی طور پر رائج ہیں۔ اُن پر سوالات اُٹھانے کی بھی اجازت نہیں۔ جدید نظامِ تعلیم حصولِ علم کے لیے قطعی نہیں، اگرچہ اِسی التباس میں رکھا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ طریقہ طالب علم میں چند مہارتیں پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر پڑھنا، لکھنا، اپنا مافی الضمیر خوب صورت اور ملفوف الفاظ میں بیان کرنا، کچھ حسابات کر لینا، سائنس و سماجیات کے کچھ حوالے از بر کر لینا۔ بس۔ ایک خاص نصاب کا ایک وقت مقرر گزرنے کے بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ یہ امتحان کیا ہے؟ رٹائی گئی معلومات کا اُگل دینا۔ سند حاصل کرنا اور کوئی ملازمت پکڑ لینا۔ یہاں سے ملٹی نیشنلز کی براہِ راست اجارہ داری اور عمل داری کا آغاز ہوتا ہے۔

اسکول، کالج اور یونی ورسٹیز سے فارغ ہونے والے ہر ہر طالب علم کو ملازمت مِل جائے یہ کسی بھی ملک اور معاشرے میں ممکن نہیں۔ ایک بڑی تعداد اپنے ہدف یعنی ملازمت کے حصول میں ناکام رہتی ہے۔2010میں بے روزگاری 8.3 فی صد تھی جو 2011 میں بڑھ کر 9.1 فی صد ہو گئی۔ ملازمت نہ ملنے پر اِن نوجوانوں اور اِن کے والدین کے دل پر کیا گزرتی ہے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ نوجوان بچے ملازمت کے علاوہ کسی بھی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ مارے باندھے کچھ نہ کچھ کر بھی لیں تو ملازمت نہ ملنے کی کسک تا عمر دل کے نہاں خانوں میں ڈیرے ڈالے رہتی ہے۔ بے روز گاری کے مارے کچھ غلط راہوں پر چل نکلتے ہیں اور معاشرے کا ناسور بن جاتے ہیں۔

یہ ہے جدید تعلیم جس کے نتیجے میں دنیا کے کچھ اداروں اور افراد کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ باقی انسان دن رات کام کر رہے ہیں۔ جو جتنا زیادہ کام کرے گا وہ اتنا ہی وفادار اور شان دارغلام ہو گا۔ اُسے اتنی ہی زیادہ شاباش ملے گی۔ یہ شاباش چند ہندسوں کی صورت میں اُس کے نام کر دی جاتی ہے۔ وہ خوش ہوتا رہتا ہے۔ کام کام اور بس کام۔ کسِ لیے؟ وہ نہیں جانتا ۔ کس کے لیے؟ وہ نہیں جانتا۔ اُسے بس کام کرتے رہنا ہے۔ یہ ہی جدید دور کے انسان کا المیہ ہے اور یہ ہی اُس کی تقدیر بھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔