گیارہ اگست، قائد اعظم کا خطاب ا ور ہماری اقلیتیں

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 11 اگست 2017
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

چند ایک واقعات و سانحات کو چھوڑ کر،کسی جانبداری اور تعصب کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ہماری تمام اقلیتیںمحفوظ بھی ہیں اور انھیں آئین میں دیے گئے تمام حقوق بھی میسر ہیں۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح ایسا عظیم المرتبت رہبر ملا جو غیر متعصب بھی تھا اور فرقہ پرستانہ جذبات سے بھی بالاتر۔ آزاد دنیاؤں کے نقشوںمیں پاکستان کا نقشہ واضح ہوتے ہی قائد اعظم نے پاکستان کی تمام اقلیتوں کے جملہ حقوق کا بھی تعین کر دیا تھا اور غیر مبہم الفاظ میں یہ بھی ارشاد فرما دیا تھا کہ پاکستان کی اقلیتوں کا ہر فرد پاکستانی اکثریت کے ہر فرد کے برابر حقوق کا مالک ہے۔

کسی میں کوئی امتیاز نہیں۔ اپنی اس بات کو تاریخ کے صفحات میں نقشِ دوام دیتے اور ریکارڈ کرواتے ہُوئے بانیِ پاکستان نے 11اگست1947ء کو، کراچی میں، مجلسِ دستور ساز پاکستان سے خطاب فرماتے ہُوئے کہا : ’’…یہ جو زبردست انقلاب رُونما ہُوا ہے، اِس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔جہاں کہیں بھی ایک قوم اکثریت میں ہے اور دوسری اقلیت میںتو ان دونوں کے مابین پائے جانے والے جذبات و احساسات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ کیا گیا، اس کے علاوہ کوئی اور اقدام ممکن اور قابلِ عمل تھا؟اب تقسیم عمل میں آ چکی ہے…متحدہ ہندکا تخیل قابلِ عمل نہیں تھا اور میری رائے میں یہ ہمیں خوفناک تباہی کے دہانے پر لے جاتا…بایں ہمہ اس تقسیم میں کسی ایک مملکت میں یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا۔اس سے مفر نہیں تھا۔‘‘

جناب قائد اعظم نے مزید فرمایا:’’ …آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری، سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔قطعِ نظر اس کے کہ کس کا کس فرقے سے تعلق ہے…اب آپ آزاد ہیں۔اِس مملکت ِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیںیا کسی اور عبادت گاہ میں۔آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں…ہم اِ س بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کر رہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت(پاکستان) کے یکساں شہری ہیں…‘‘

راقم نے( پاکستان کی اقلیتوں کے حوالے سے خصوصاً) قائد اعظم علیہ رحمہ کے یہ الفاظ حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے ایک شعبے(DEMP)کی زیرنگرانی شایع ہونے والے ایک کتابچے سے لیے ہیں۔ گزشتہ برس اِسے Golden Words of QUAID E AZAMکے زیرِ عنوان اُس وقت شایع کیا گیا تھا جب ’’ڈیمپ‘‘کے سربراہ جناب محمد سلیم بیگ تھے جو آجکل وزارتِ اطلاعات میں پرنسپل انفرمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔انھوں نے پاکستان کی اقلیتوں کے بارے میں بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح علیہ رحمہ کے تاریخی اور تاریخ ساز الفاط شاندار کتابچے (اردو اور انگریزی) میں شایع کرکے اسے زیادہ احسن انداز میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ ہماری عدلیہ کی تاریخ ہی کا احوال دیکھ لیجئے، کئی غیر مسلم جج حضرات بلند ترین عہدوں پر فائز ہُوئے۔

مثال کے طور پر: جسٹس اے آر کارنیلئس صاحب جو پاکستان کے چیف جسٹس رہے اور انھیں ’’ہلالِ پاکستان‘‘ کا تمغہ بھی دیا گیا۔ جسٹس رانا بھگوان داس صاحب، جسٹس رستم سہراب جی سدھوا صاحب، جسٹس دراب پٹیل صاحب ایسے عظیم لوگ بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ سب ہمارا فخر ہیں۔ مثال کے طور پر:ائر کموڈور بلونت کمار داس، میجر جنرل کے مانک سپاری والا، ائر کموڈور ڈبلیو جے ماریان، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری،ائر وائس مارشل جوزف، ونگ کمانڈرکیلاہن، ونگ کمانڈر انتھونی چوہدری، ننکانہ صاحب(شیخوپورہ) کے میجر ہرچرن سنگھ ۔ پاکستانی سپاہ اور پاکستان فضائیہ کے ان سب اقلیتی افسروں کو ہمارا سیلوٹ۔کئی ایک نے 65ء اور 71ء کی جنگوں میں پاکستان کے دفاع اور تحفظ کے لیے بھارت کے خلاف جرأت و شجاعت کی انمٹ داستانیں رقم کیں۔سیاسی میدان میں بھی ہماری اقلیتی برادری کے افراد نے بڑا نام کمایا ہے۔ مثلاً : جوگندر ناتھ منڈل، پاکستان کے پہلے وزیر قانون۔ رانا چندر سنگھ، وفاقی وزیر رہے۔

جمشید مہتہ، پاکستان بننے کے بعد کراچی کے پہلے مئیر منتخب ہُوئے۔ انھیں ’’ معمارِ کراچی‘‘ کے باعزت نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔جمشید مارکر، پاکستان کے محترم ترین سفارتکار۔ انھیں دنیا میں سب سے زیادہ ممالک میں سفیر رہنے کا بھی اعزاز ملا ہے۔ ہلالِ امتیاز بھی پایا۔ کئی معرکۃ آرا اور معتبر کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جے سالک، رکن اسمبلی بھی رہے اور مرکزی وزیر بھی۔ احتجاج کرنے کا منفرد انداز بھی رکھتے ہیں اورپُر جوش عاشقِ پاکستان بھی ہیں۔منو چہر بھنڈارا، رکن اسمبلی رہے۔شہباز بھٹی، ایم این اے بھی بنے اور وفاقی وزیر کا عہدہ بھی پایا۔ شعبہ تعلیم میں تو ہماری اقلیتی برادری کا نہایت شاندار اور بے مثل کردار ہے۔ ان کے بنائے گئے تعلیمی اداروں کی وقعت اور معیار کو ہمیشہ بہترین قرار دیا گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اقلیتی برادری کی کئی شخصیات نے بلند کارہائے نمایاں انجام دے کر ہمارے دلوں میں انمٹ مقام حاصل کیا ہے۔ انھیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے ستارئہ قائد اعظم بھی دیا گیا۔دینا ایم مستری، کراچی میں پچاس کے عشرے کے دوران انگریزی زبان و ادبیات کی تعلیم دینے والا اہم نام  تھا۔ دینا صاحبہ نے مسلسل 55 سال کسی مذہب، نسل اور مسلک کے امتیاز کے بغیر تعلیم کا نور پھیلایا۔ ہماری نامور ماہرِ تعلیم۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے تین سال پہلے انھیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ ریورنڈ ڈاکٹر خوشنود مسرت نے پاکستان میں اسپیشل ایجوکیشن کو متعارف کروانے اور پڑھانے میں پہلا منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون پادری ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔

لاہور میں کنیرڈ کالج کی سابق پرنسپل اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر میرا فیلبوس کو ہم بھلا کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟ اُن کی شاندار علمی خدمات کو تسلیم کرتے ہُوئے انھیں وزیر تعلیم و اقلیتی امور بھی بنایا گیا۔ مانی شیرئر کنٹریکٹر نے کراچی کے ’’ ماما پارسی اسکول‘‘ میں مسلسل پچاس سال بچیوں کو پڑھا کر منفرد مقام حاصل کیا۔ہِلڈا سعید کی تعلیم خدمات کو بھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ لاہور میں32سال ڈاکٹر الیگزینڈر جان صاحب نے مسلسل بشپ رہ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ انھوں نے کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی سے اسلام پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

اُن کے علاوہ مائیکل جیمز نذیراورراجہ تری دیو رائے بھی محترم اقلیتی مذہبی رہنما رہے۔ آرٹ اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں پاکستان کی اقلیتوں نے جو بڑے نام پیدا کیے ہیں، اں پر بھی ہم بجا فخر کرتے ہیں۔مثال کے طور پر :  اداکارہ شبنم، جمی انجنیئر، مسٹر اینڈ مسز گھنشام، نوین تاجک، پیرین کوپر بوگا،دیپک پروانی، ایمی منوالا، ڈاکٹر دردانہ بٹ،اے نیّر، آئرین پروین،کولن ڈیوڈ،اِندو مٹھا،بنجمن سسٹرز،سنیتا مارشل، ستیش آنند،سنی بنجمن جان !!ہماری قومی اسپورٹس کے افق پر بھی اقلیتی برادری نے پاکستان کا نام روشن کرنے میں جان لڑا دی ہے۔ مثلاً: ویلس متھیاس، دانش کنیریا، انیل دلپت سونو واریا،اے ڈی سوزا وغیرہ۔ ادبیات کے میدان میں جگن ناتھ آزاد، انتھونی تھیوڈر لوبو، کامریڈ سوبھو گیان چندانی اور بپسی سدھوا کی عظیم خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔ ناول نگار بپسی سدھوا کی تخلیقات کی بدولت پاکستان کا نام امریکا اور مغرب کی ادبی دنیا میں گونج رہا ہے۔ پاکستان نے ان کی بے مثال ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہُوئے انھیں قومی ایوارڈز سے بھی نوازا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔