جہیز کی لعنت

 جمعـء 11 اگست 2017
 اس کے برعکس جتنی نمود و نمائش کی جائے گی اتنی ہی بے برکتی بھی ہوگی۔ فوٹو: فائل

 اس کے برعکس جتنی نمود و نمائش کی جائے گی اتنی ہی بے برکتی بھی ہوگی۔ فوٹو: فائل

ہمارے معاشرے میں جہیز کا اطلاق اُس سامان پر ہوتا ہے جسے دلہن میکے سے اپنے ساتھ لاتی ہے۔

یہ ایک خالص ہندوانہ رسم ہے جس کا مقصد رخصتی کے وقت بچی کو اتنا کچھ دے دینا ہے کہ وہ وراثت میں اپنا حصہ نہ مانگ سکے لیکن اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جہیز کی رسم کی وجہ سے کتنی بچیوں کے بالوں میں چاندی آجاتی ہے، لیکن وہ پیا دیس نہیں سدھار پاتیں۔ اسلامی احکام کے مطابق جو نکاح جتنا زیادہ آسان ہوگا، اتنا ہی بابرکت ہوگا۔ اس کے برعکس جتنی نمود و نمائش کی جائے گی اتنی ہی بے برکتی بھی ہوگی۔ چناں چہ کتنے ہی نکاح ایسے ہوئے کہ دلہن شادی کے چند دنوں بعد ہی طلاق کا داغ لیے اپنے باپ کے گھر آبیٹھی یا پھر جہیز کم لانے کی وجہ سے اُس کی زندگی کا چراغ ہی گُل کر دیا گیا۔

آخر لوگ کیوں جہیز کا لین دین کرتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ معاشرے میں اپنی عزت و وقار برقرار رکھنے کے لیے جہیز دینا، اپنے مال کی تشہیر کرنا، دولت کی نمود و نمائش، شان و شوکت اور شہرت کا اعزاز حاصل کرنا ہے۔ بعض اوقات ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بھی جہیز دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تعاون، ہدیے اور صلۂ رحمی کے لیے بھی جہیز دیتے ہیں۔ خواہ اس کے لیے انہیں قرض اور سود ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

جہیز کی رسم کئی ایک مفاسد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مثلا مال کا ضیاع، گھر کی تباہی، جنسی بے راہ روی، عورتوں کی حقِ وراثت سے محرومی، کثرت طلاق اور دلہن کی موت وغیرہ۔ اور یہ مفاسد کیوں نہ ہوں جب کہ جہیز کا مال اکثر اوقات خوش دلی سے دیا ہوا نہیں ہوتا (الاماشااﷲ) اور ایسے مال کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’خبردار! کسی پر ظلم نہ کرو اور کان کھول کر سن لو! کسی کا مال (تمہارے لیے) حلال نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ خوش دلی سے راضی نہ ہوجائے۔‘‘

ایسے مال میں برکت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے درج بالا مفاسد اکثر اوقات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ حضرت فاطمہؓ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی جناب فاطمہؓ کو جہیز عنایت فرمایا تھا۔ یہ استدلال درست نہیں ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جہیز نہیں دیا تھا بل کہ اپنے زیرِ کفالت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو سامان عنایت فرمایا تھا جن کا کوئی گھر نہ تھا اور حضور ﷺ ہی ان کے مربی تھے۔ آپؐ نے انہیں ذرہ بیچ کر سامان مہیا کرنے کی تاکید فرمائی۔

جہیز جیسی لعنت پر قابو پایا جا سکتا ہے اگر درج ذیل باتوں پر عمل کر لیا جائے۔ نمود و نمائش سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ شادیوں کے دوران غرباء کی حالت بھی پیش نظر رہے۔ محض جہیز کے لیے قرض نہ لیا جائے۔ رشتہ کرتے وقت مال و دولت کے بہ جائے دین داری کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ کیوں کہ حدیث مبارکہ کی رُو سے دین داری والی شادی عنداﷲ مقبول و ماجور ہوتی ہے۔

نیز اجتماعی طور پر جہیز سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ علمائے کرام اور دانش ور حضرات عوام میں شعور بیدار کریں۔ حکومت اس بارے میں ٹھوس قانون سازی کرے جس پر عمل درآمد بھی ہو۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کو جہیز کے مضمرات سے آگاہ کیا جائے اور اس لعنت سے دور رہنے کی تدابیر بتائی جائیں۔ تعلیمی نصاب میں اس موضوع پر مواد شامل کیا جائے۔ عوامی سطح پر خطبات و مواعظ اور پمفلٹس کے ذریعے سے رائے عامہ ہم وار کی جائے۔ نیز طلبہ کے مابین اس عنوان کو لے کر مضمون نویسی کے مقابلے کرائے جائیں تاکہ نوجوان نسل میں شعور بڑھے اور معاشرے سے حرص و لالچ کے سائے ختم ہوسکیں۔

(عبدالصبور شاکر)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔