تقسیم کے وقت ہندو، مسیحی اور سکھ مسلمانوں کے خلاف متحد تھے

رانا نسیم  اتوار 13 اگست 2017
 فیروز پور سے پاکستان آنے والے بزرگ باغ علی ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ فوٹو : فائل

فیروز پور سے پاکستان آنے والے بزرگ باغ علی ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ فوٹو : فائل

تاریخِ عالم میں سب سے بڑی انسانی ہجرت ہندوستان سے برطانوی راج کے خاتمے اور بھارت و پاکستان کے نام سے بننے والے دو ممالک کے قیام کے وقت ہوئی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ مسلمانوں، ہندوں اور سکھوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر نئی جگہ کو اپنا مسکن بنایا، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ آزادی کی نعمت سے فیض یاب ہونے کے لئے کی جانے والی ہجرت میں جو قربانی مسلمانوں نے دی، وہ بھی اس سے قبل کبھی نہیں دی گئی تھی۔

پاک سرزمین کا قیام برصغیر میں بسنے والے ہر مسلمان کا خواب تھا، جس کو حقیقت بنانے کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ہزاروں مسلم خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ تقسیم ہند کے وقت ظلم و ستم کی جو داستانیں رقم ہوئیں، ان کے راوی آج بھی جب ماضی میں جھانکتے ہیں تو بے اختیار ان کی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔ ایسے ہی راویوں میں ایک راوی 80 سالہ باغ علی بن دین محمد بھی ہیں، جن کی بینائی تو کمزور ہو چکی ہے، لیکن یاداشت نہیں۔ ’’ایکسپریس‘‘ نے تقسیم کے وقت، اس سے پہلے اور بعد کے حالات و واقعات جاننے کے لئے بابا جی سے ایک نشست کا اہتمام کیا، جو نذر قارئین ہے۔

اپنے خاندان کے بارے میں بابا جی نے بتایا ’’ میری پیدائش وسّی ممنے والی (فیروز پور شہر) میں ہوئی۔ ہم چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ فیروز پور ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ہی ہماری زمینیں اور حویلی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ فیروز پور شہر آج بھی ایک اہم علاقہ ہے، لیکن تقسیم ہند سے قبل تو اس کی بہت زیادہ اہمیت تھی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور فیروزپور کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، لوگوں کی نہ صرف معاشی حالت اچھی تھی بلکہ تعلیم کا بھی اہتمام تھا۔ ہماری اپنی زمینیں تھیں، پختہ حویلیاں تھیں، لیکن جب پاک سرزمین کا قیام عمل میں آیا تو ہم بغیر کوئی سامان اٹھائے صرف ایک کپڑوں کے ٹرنک کے ساتھ جان کے تحفظ کے پیش نظر یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے کہ ہم چھوٹی عید کے لئے قصور (میری والدہ قصور کی رہنے والی تھی) جا رہے ہیں، جلد واپس آ جائیں گے، ہماری والدہ اور والد نے مال و دولت سے بھری حویلی کو یوں تالا لگایا کہ جیسے ابھی کچھ دیر بعد ہم واپس آ جائیں گے، لیکن ہم نے واپس جانا تھا نہ گئے۔‘‘

تحریک آزادی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے گویا ہوئے ’’ میں نے جب کچھ ہوش سنبھالا تو اس وقت آزادی کی تحریک کی لہر پورے ہندوستان میں پھیل چکی تھی اور آزادی کا سحر پوری مسلمان قوم کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ایک فضا تھی، اس وقت، گھروں میں ہر وقت باتیں ہی مسلمانوں کے الگ دیس کی ہوا کرتی تھیں، بڑوں کے عملی اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہم نے بھی پاکستان کے لئے گلی محلے میں نعرے لگائے، چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالیں۔ تقسیم سے پہلے 1946ء میں جب الیکشن ہوئے تو اس وقت ہمارے علاقے سے مسلم لیگ کے امیدوار نواب افتخار حسین خان ممدوٹ (قیام پاکستان کے بعد پاکستانی پنجاب کے پہلے وزیر اعلی) واضح لیڈ سے جیت رہے تھے۔

جو وہاں آباد ہندوؤں اور سکھوں کے لئے ناقابل برداشت تھا، جس کی وجہ سے جلسوں میں بدنظمی پیدا ہو جاتی تھیں، سکھوں اور ہندوؤں نے مل کر کئی بار نواب ممدوٹ کے جلسوںکو منتشر کرنے کی کوشش کی تو ایک بار ہمارے لوگوں نے بھی ریلوے اسٹیشن کے قریب ہونے والے جلسے کو تتر بتر دیا۔ اس وقت جلسوں کو توڑا ہی جاتا تھا، کیوں کہ ایسا کرنے کے لئے ڈنڈوں اور لاٹھیوں کا سہارا لیا جاتا تھا، آتشیں اسلحہ اتنا عام نہیں تھا، زیادہ سے زیادہ ایک بندے کے پاس بندوق ہوتی، اس جلسے میں ان کا کچھ نقصان بھی ہوا، لیکن بعدازاں اس کو بہت زیادہ بڑھ چڑھا کر بیان کرکے ہمیں بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں، اور جو لوگ بظاہر خود کو غیرجانبدار کہہ رہے تھے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کو پس پشت ڈال کر اس ایک چھوٹے واقعہ کو بہت بڑا قرار دے کر مسلمانوں کو سیاسی میدان میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن ان تمام تر سازشوں کے باوجود نواب ممدوٹ فیروز پور سے جیت گئے۔

ہجرت کیسے ہوئی؟ کہ سوال پر باغ علی کی آنکھیں بھر آئیں، پھر کپکپاتے  ہونٹوں کو ہلانے پر مجبور کرتے ہوئے بولے’’ ہجرت کے وقت بہت زیادہ حالات خراب ہو چکے تھے، جہاں کبھی  کوئی بندوق ڈھونڈے سے نہیں ملتی تھی، وہ علاقہ ہر وقت گولیوں کی آواز سے گونجنے لگا، جب حالات انتہائی خراب ہو گئے، یعنی وہ لوگ (ہندو) جن کے ساتھ ہمارا خاندان صدیوں سے رہتا آیا تھا، انہوں نے  آنکھیں پھیر لیں، تو ایسے خوف کے حالات میں ہم نے وہاں سے ہجرت کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اور کرتے بھی کیوں نہ،  پاکستان وہ پاکیزہ خواب تھا جس کو حقیقت میں بدلنے کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ہزاروں، لاکھوں بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہو گئیں یا وہ آج بھی سکھوں کے گھروں میں گردوارے کا لنگر کھانے پر مجبور ہیں۔ وہ رات مجھے اچھی طرح یاد ہے، جس کی سیاہی اترنے سے کچھ دیر پہلے ہم نے وہاں سے ہجرت کرنا تھی۔

ساری رات ہماری والدہ ہمیں اپنی ساتھ چمٹائے بیٹھی رہیں۔ پھر ’’منہ اندھیرے‘‘ ہم وہاں سے نکلے اور چند میل کے فاصلے پر واقع گاؤں میں اپنے قریبی عزیزوں کے گھر پناہ لے لی۔ ہم جب اپنے رشتہ داروں کے پاس پہنچے تو والد نے میرے بڑے بھائی کو کہا کہ یار! ہم تو گھر سے کچھ بھی لے کر نہیں آئے، چلو دیکھتے ہیں، کچھ تھوڑا بہت سامان ہی لے آتے ہیں، لیکن والد اور بھائی ابھی کچھ دور ہی گئے تھے کہ سامنے سے ہمارے شہر کے ایک درویش آ رہے تھے، انہوں نے میرے والد کو پکارا ’’دین محمد کہاں جا رہے ہو؟‘‘ گھر کی طرف مت لوٹنا وہاں اب کچھ نہیں بچا، تمھارے گھر بار کو جلا دیا گیا ہے، تمہارے بچے تو محفوظ ہیں، اسی کو غنیمت جانو اور واپس لوٹ جاؤ، تو میرے والد واپس لوٹ آئے۔

اس وقت حالات یہ تھے کہ ہمارے بڑے ایک ڈنڈے پر کپڑا باندھ کر اسے آگ لگاتے اور پھر اس کے ذریعے ساری رات گاؤں کی چوکیداری کرتے، کیوں کہ ہندو اور سکھ ہلا بول کر مسلمان مردوں کو قتل جبکہ خواتین کو اٹھا کر لے جاتے تھے۔ اپنے رشتہ داروں کے گاؤں میں ایک رات گزارنے کے بعد ہمارا خاندان ایک ہو کر بیل گاڑیوں پر نکلا تو شکر ہے اس پاک ذات کا کہ ہمارے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا، جیسا اس وقت عام تھا، یعنی قتل و غارت گری، لوٹ مار وغیرہ۔ دوران سفر ہم نے جابجا جلے گھر اور انسانی لاشیں دیکھیں۔

ایک واقعہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو میرا دل دہل گیا، وہ واقعہ مجھے آج تک نہیں بھولا۔ ہوا کچھ یوں کہ جس راستے سے ہم پاکستان جا رہے تھے، اس کے ساتھ نہر بہہ رہی تھی، نہر میں ایک خاتون ڈوبتے ہوئے چلا رہی تھی، اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی اسے بچانے کی کوشش کرتا، وہاں ایک فوجی گاڑی آکر رکی، اس میں سے کچھ فوجی اترے جنہوں نے رسہ پھینک کر اس خاتون کو باہر نکال لیا، لیکن اگلے ہی لمحے خوف سے ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، جب ان فوجیوں نے خاتون کے کانوں، گلے اور ہاتھوں سے سونے کے زیورات اتار کر اس کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا۔ دیگر مسلمانوں کے برعکس ہماری ہجرت کا سفر بہت زیادہ نہیں تھا، کیوں کہ فیروز پور قصور سے قریب ہی پڑتا ہے، لیکن یہ چند میل کا سفر طے کرنے کے لئے ہمیں صدیوں جیسا صبر کرنا پڑا، تاہم لٹنے پٹنے کے باوجود ہم بحفاظت گنڈا سنگھ بارڈر (قصور) کے راستے پاکستان پہنچ گئے۔‘‘

آپ کے خیال میں پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’ پاکستان اس واسطے بننا ضروری تھا کہ وہاں موجود ہندو، سکھ اور اہل مسیح ہمیں کبھی بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے، انگریز کے دور حکومت کے باوجود وہ ہم پر اپنی برتری قائم کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کبھی ہمیں پسند نہیں کیا۔ ہندو، سکھ اور اہل مسیح آپس میں جیسے بھی رہیں، لیکن مسلمان کے خلاف یہ تینوں متحد ہو جاتے تھے، یہ ہمیں بہت زیادہ تنگ کرتے تھے، مسلمانوں پر معاشی، سماجی، تعلیمی غرض ہر اعتبار سے یہ تینوں مل کر زمین تنگ کرنا چاہتے تھے۔

لہذا یوں مسلمانوں نے اپنے اللہ تعالی سے دعا کی کہ ہمیں ان سے بچا لے، ہمارے بزرگوں، نیک لوگوں نے دعائیں کیں تو اس کا ثمر ہمیں اس پاک سرزمین کے قیام کی صورت میں ملا، جس میں بلاشبہ قائد اعظمؒ نے کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ میں تو پڑھا لکھا نہیں لیکن جب آج کوئی بہت پڑھا لکھا قائداعظمؒ کے بارے میں کوئی غلط بات کرتا یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوتا ہے، کیوں کہ اس جیسا دیانت دار، ایماندار اور مخلص بندہ ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، برصغیر کے مسلمانوں کے لئے تو وہ شخص فرشتہ بن کر آیا، جس نے ہندو بنیے سے ہماری جان چھڑائی، کیوں کہ ہندو بنیے کی ایما پر سکھوں  نے مسلمانوں کے پورے کے پورے گاؤں تک جلا ڈالے، غریب مسلمانوں کی خواتین کو دن دیہاڑے اٹھا کر لے جاتے۔ ہم وہ وقت کیسے بھول سکتے ہیں جب مسلمانوں کو ایک لائن میں لگایا جاتا، پھر ایک ایک کو آگے بلا کر سکھ اپنی کرپانوں کے ذریعے شہید کر دیتے‘‘

آج بھی یاد آتی ہیں، ان کھیتوں کھلیانوں اور حویلی کی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے باغ علی نے بحیثیت پاکستانی دل باغ باغ کر دیا، کہا’’ یاد کیا آنی ہے؟ یاد تو یہ ہے کہ ہم کس طرح اور کیوں وہاں سے نکلے تھے؟ پاکستان سے محبت نے سب کچھ بھلا دیا، اس سر زمین پاک کے لئے اپنا گھر بار، کھیت کھلیان، مال و دولت اور سب سے بڑھ کر اپنے آباؤ اجداد کی یادیں تک قربان کر دیں، اور اس پر ہمیں کوئی رنج بھی نہیں ہے۔ میں تو  چلو اتنا بڑا نہیں تھا، لیکن میری ماں اور باپ نے بھی کبھی کسی پچھتاوے کا تاثر نہیں دیا اور نہ کبھی دوبارہ وہاں گئے، ہمیں کسی قسم کا کوئی افسوس نہیں۔ میرا خاندان ہجرت کرکے یہاں آیا تو ہم نے یہاں پڑی کسی چیز کو مال غنیمت تصور نہیں کیا، وہ بھی کیا لوگ تھے؟ اپنا سب کچھ پیچھے دوسروں کے لئے چھوڑ کر یہاں خالی ہاتھ آ گئے، لیکن مجال ہے جو یہاں پڑی چیزوں کو ہاتھ لگایا ہو، والد صاحب نے کہا کہ یہ لوٹ مار کا سامان ہے، ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے، جو اللہ تعالی نے مقدر میں لکھا ہے، وہ مل جائے گا‘‘

پاکستان پہنچنے کے بعد کہاں قیام ہوا اور کیا ملا؟ بولے’’ پاکستان میں میرے خاندان نے قصور کے ایک علاقہ ٹوڈے پور میں پڑاؤ ڈالا، سرکار کی طرف سے وہ کچھ تو نہیں ملا ، نہ مل سکتا تھا جو ہم چھوڑ آئے تھے، لیکن پھر بھی گھر کا چولہا جلانے کے لئے کچھ تھوڑی بہت زمین مل گئی، جس پر کھیتی باڑی کرکے اچھا گزارہ ہو رہا تھا، لیکن پھر تقسیم ہند سے صرف 6 سال بعد یعنی 1953ء میں سیلاب آگیا، جو ہمارے بچے کھچے مال کو بھی بہا لے گیا، پھر کیا کرتے؟ ساری زندگی محنت مزدوری، مشقت اور زمیندارے میں گزر گئی‘‘

کیسا پاکستان چاہتے تھے، اور اب کیسا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے بابا جی نے کہا کہ ’’ ایک ایسا ملک جس میں ایمان، دیانت، اخوت اور اتحاد ہو گا، صدیوں سے ظلم کا شکار مسلمان قوم کو امان ملے گی، اس خطہ میں ان کی ایک الگ پہچان اور عزت ہو گی، جہاں کوئی خوف و ڈر نہیں ہو گا، مگر افسوس ایسا مکمل طور پر ہو نہیں سکا، لیکن بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے بارے میں آج بھی جب اطلاعات موصول ہوتی ہیں تو پھر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جیسا بھی ہے، یہ میری سوہنی پاک دھرتی ہے، میرے لئے یہ ملک ہی سب کچھ تھا، ہے اور رہے گا، اس کا کوئی نعم البدل نہیں، اس کی کوئی قیمت نہیں، اس کے لئے پہلے بھی سب کچھ قربان کر دیا تھا، ضرورت پڑی تو آج بھی کردوں گا‘‘



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔