کراچی پولیس چیف کی تعیناتی کے 25 دن میں ڈی ایس پی اور اے ایس آئی سمیت 6 سمیت اہلکار قتل

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 12 اگست 2017
شہریوں سے روزانہ کی بنیاد پرگاڑیاں، رقم اورموبائل فون چھین لیے جاتے ہیں، بڑھتی بدامنی پرکوئی جواب دہ نہیں۔ فوٹو: فائل

شہریوں سے روزانہ کی بنیاد پرگاڑیاں، رقم اورموبائل فون چھین لیے جاتے ہیں، بڑھتی بدامنی پرکوئی جواب دہ نہیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو شہر میں پولیس افسران واہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے میں بری طرح سے ناکام ہوگئے۔

کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو کی تعیناتی کے صرف 25 روز میں ڈی ایس پی اور اے ایس آئی سمیت 6 پولیس اہلکاروں کو سر راہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کے علاوہ 4 بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ایک بینک منیجر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

غلام قادر تھیبو شہر میں امن و امان کے قیام اور ماتحت پولیس افسران و اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پیشہ وارانہ حکمت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہے، شہریوں سے روزانہ کی بنیاد پرگاڑیاں،رقم اورموبائل فون چھین لیے جاتے ہیں، بڑھتی بدامنی پرکوئی جواب دہ نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیس کلنگز، بینک ڈکیتیوں اور دیگر قتل و غارت گری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اہم حکومتی شخصیات کی جانب سے نیاکراچی پولیس چیف لائے جانے پر غورکیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ موجودہ کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو اس سے قبل بھی کراچی پولیس چیف کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، اس تعیناتی کے دوران ان کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش تھی۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ نے انھیں دوسری بار موقع دیا تھا کہ وہ شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں مزید بہتری لائیں گے،وہ اپنی تعیناتی کے ابتدائی چند روز میں ہی اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے جس کی ان سے امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔