میاں صاحب! سچ بتائیے عوام کی توہین کون کررہا ہے؟

عاطف اشرف  ہفتہ 12 اگست 2017
میاں صاحب آپ لاہور کے حلقے این اے 120 کو ہلکا نہ لیں، عوام کو تنگ کرکے آپ عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اِس بھول میں نہ رہیں کہ آپ اِس عوام کو چاہے جتنی اذیت دے دیں، یہ ووٹ آپ کو ہی دیں گے۔

میاں صاحب آپ لاہور کے حلقے این اے 120 کو ہلکا نہ لیں، عوام کو تنگ کرکے آپ عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اِس بھول میں نہ رہیں کہ آپ اِس عوام کو چاہے جتنی اذیت دے دیں، یہ ووٹ آپ کو ہی دیں گے۔

گھر سے دفتر جاتے ہوئے مینارِ پاکستان کا آزادی چوک اور داتا دربار میرے راستے میں پڑتے ہیں۔ یہ کل یعنی 11 اگست کی بات ہے جب میں معمول کے مطابق صبح نو بجے گھر سے نکلا تو آزادی چوک انٹر چینج کو بیرئیرز لگا کر بند کردیا گیا۔ داتا صاحب جانے والا راستہ بالکل بلاک تھا۔ لوگ ٹریفک وارڈن سے بحث کر رہے تھے۔ جیسے جیسے لوگوں کی تکرار بڑھتی جارہی تھی ویسے ویسے پیچھے سے آنے والی ٹریفک بڑھتی جارہی تھی۔ لیکن ڈیوٹی پر معمور ٹریفک وارڈن کا ایک ہی جواب تھا کہ میاں صاحب کی ریلی کے لئے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ سچ پوچھیے تو یہ سن کر تشویش کی لہر دوڑ گئی کیونکہ جس وقت لاہور کی سڑکیں بند کی جارہی تھیں اُس وقت تو سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی ریلی جہلم میں تھی اور میاں صاحب جہلم کے ہوٹل میں آرام فرما رہے تھے، اور جس رفتار سے اُن کی ریلی چل رہی تھی اُس کو دیکھتے ہوئے خیال یہی تھا کہ ریلی ہفتے کی رات یا اتوار تک لاہور پہنچے گی، تو ایسی صورت میں دو یا تین دن پہلے لاہور کی سڑکیں بند کرنے کا جواز نہ تو پولیس وارڈن دے سکے اور نہ میں اب تک یہ سب سمجھ سکا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم جیسے ووٹر کی یہی عزت ہے کہ اُن کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیرِاعظم نااہلی کے بعد فاتحانہ انداز میں اسلام آباد سے لاہور کے تمام راستے میں لوگوں کا سڑکوں پر مذاق اڑائیں؟ اِن ووٹرز کو بتایا جائے کہ اُن کی اصلیت کیا ہے؟ یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ جہلم میں اپنی آرام گاہ سے پورے 180 کلومیٹر دور لاہور کا آزادی چوک فلائی اوور نواز شریف کے پروٹوکول کی وجہ سے بند کردیا جائے؟ اور پروٹوکول کس کا؟ کیونکہ پروٹوکول تو وزیرِاعظم کے عہدے کا ہوتا ہے، اور ویسے بھی پاکستان کے آئین میں تو اِس قدر بڑے قافلوں کے ذریعے عوام کے راستے بند کرنے کی اجازت کے بارے میں، میں نے نہیں پڑھا، اگر آپ کو کچھ اِس بارے میں علم ہو تو ہمیں بھی آگاہ کیجیے۔

آپ ذرا اندازہ کیجیے کہ میاں صاحب نے اپنے پورے سفر میں نااہلی کا فیصلہ دینے والے ججز پر تو خوب تنقید کی اور کہا کہ انہیں نااہل کرکے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی، لیکن وہ یا تو بہت زیادہ معصوم ہیں یا پھر معصوم بننے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اُن کو اِس بات کا علم نہ ہو کہ اُن کی حفاظت کی خاطر دو دن سے لاہور کی آزادی چوک اور دیگر داخلی راستوں کو محض اُن کی سیکورٹی کی خاطر بند کردیا گیا ہے، اور اِس تکلیف کی وجہ سے اُن کے ووٹر کی جو توہین ہورہی ہے وہ اُس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ صرف آزادی چوک ہی بند نہیں بلکہ داتا صاحب کے سامنے بھاٹی چوک کو بھی سرخ رنگ کا کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا کہ میاں صاحب کی ریلی کی سیکورٹی کے لئے آٹھ (8) ہزار پولیس اہلکار اور دو (2) ہزار ٹریفک وارڈن تعینات کئے جارہے ہیں۔ مجھے تو یہ ساری صورتحال دیکھ کر آمریت، بادشاہت اور جمہوریت میں کوئی فرق نظر نہیں آیا، ہاں کچھ نظر آیا تو صرف پولیس کی صورت میں لاٹھی اور ذلیل و خوار ہوتی عوام نظر آئی۔

یہ صورتحال دیکھ کر نواز شریف کی طرف سے ووٹر کی توہین کا بیان بار بار ذہن میں آیا، اور ٹریفک میں رسوا ہوتے ہوئے مستقل یہی سوچتا رہا کہ عوام کے ووٹ کی توہین ججز نے کی یا خود نواز شریف کررہے ہیں؟ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بننے والی سڑکیں عوام کے لئے ہی بند کردی گئیں کیا یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین نہیں؟ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے پنجاب بھر کے وسائل ایک نااہل وزیراعظم کے پروٹوکول پر جھونک دیے گئے، کیا یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہیں نہیں؟ ہم عوام کے جن پیسوں سے ترقیاتی کام ہونے تھے، گٹر صاف ہونے تھے، وہ سارا پیسہ تو نواز شریف صاحب کے خیر مقدمی پوسٹرز پر لگائے جارہے ہیں، کیا یہ ووٹر کی توہین نہیں؟ نواز شریف تو اب وزیرِاعظم بھی نہیں پھر بھی اُن کی اسلام آباد سے لاہور آمد تک عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والی سرکاری مشینری کو استعمال کیا جارہا ہے، کیا یہ عوام کی توہین نہیں؟ ملک میں بجلی نہیں لیکن ریلی کے راستے میں لگی فلڈ لائٹس دن کو بھی روشن ہیں، کیا یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی توہین نہیں؟ نااہل تو وزیرِاعظم ہوئے لیکن سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے؟

نواز شریف تو اب بھی گجرانوالہ میں ہیں، لیکن اب بھی لاہور بند کیوں ہے؟ لاہور کے صرف راستے نہیں بلکہ نااہل وزیرِاعظم کے روٹ پر آنے والی دکانیں بند، ہوٹل بند، ورکشاپ بند، راستے بند اور نظام زندگی بند کرکے بھی کہا جارہا ہے کہ عوام کے دلوں میں حکومت ہے۔ اِس اذیت کے بعد بھی میں میاں صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا آپ دلوں پر حکومت کرلیجیے لیکن لاہوریوں کی جان چھوڑیں۔ اگر آپ اب بھی پارٹی پر گرفت رکھتے ہیں تو فوری طور پر حکم جاری کریں کہ لاہور کے راستوں اور کاروبارِ زندگی کو فوری طور پر کھولا جائے۔

آخری بات یہ کہ میاں صاحب آپ لاہور کے حلقے این اے 120 کو ہلکا نہ لیں، عوام کو تنگ کرکے آپ عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اِس بھول میں نہ رہیں کہ آپ اِس عوام کو چاہے جتنی اذیت دے دیں، یہ ووٹ آپ کو ہی دیں گے۔ یاد رکھیے کہ عزت صرف آپ کی ہی نہیں ووٹر کی بھی ہے۔ چونکہ راستے میں آپ کے پاس سوچنے کے لیے بہت وقت ہے اِس لیے ذرا سوچیے گا کہ راستے بند کرکے آپ عوام کی کیا خدمت کررہے ہیں؟ اگر پاور شو دکھانا ہے تو اُن کو دکھائیں جن کے پاس پاور ہے، عوام تو بیچاری ویسے ہی کمزور ہے۔ راستے بند کرنے سے کتنی اذیت ہوتی ہے اِس کا اندازہ آپ کو پروٹوکول میں خوش آمدی حمایتی کی جھڑمٹ میں قطعی طور پر نہیں ہوسکتا۔ اِس کو سمجھنے کے لیے آپ کو عوام کے بیچ میں آنا ہوگا۔ اگر آپ کو لوگوں کے دلوں میں حکومت کرنی ہے تو عوام کے دل جیتیے، راستے بند کرنے کے بجائے عوام کی سہولت کے لیے راستے کھولے جائیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ دل کا دروازہ باہر سے نہیں اندر سے کھلتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریراپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک و ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کیساتھ   [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس بھی
عاطف اشرف

عاطف اشرف

عاطف اشرف میڈیا سٹڈیز میںPhDاسکالرہیں جوپچھلے 10 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مصنف ایکسپریس نیوز میں بطور پڑوڈیوسر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔تحریر،تحقیق اور ویڈیوپروڈکشن میں گہری دلچسپی رکھنے والے یہ طالب علم میڈِیا کے موضوع پر جرمنی میں چھپنے والی ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ عاطف سے ٹویٹر پر#atifashraf7 جبکہ [email protected] پر آن لائن رابطہ کیا جا سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔