قید جیسی آزادی!!

شیریں حیدر  اتوار 13 اگست 2017
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

تمام اہل وطن اور دیار غیر میں بسنے والے صرف محب وطن پاکستانیوں کو، اس قید جیسی آزادی کی سترویں سالگرہ مبارک ہو!! صرف محب وطن اس لیے خاص طور پر منتخب کیے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو غیر ممالک میں جا کر بسے، اپنے قول و فعل سے انھوں نے ملک کی نیک نامی کو وہ ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے ہیں کہ ان کا ازالہ ہم نہیں کر سکتے- کتنا دکھ ہوتا ہے جب ہم کسی کو اپنی شناخت بتاتے ہیں اور ان کے چہرے کا تاثر گرم جوشی سے سرد مہری میں بدلتا ہے- ان جیسے لاکھوں تارکین وطن، ہمارے اپنے ملک کے سرکردہ افراد، حکمران ، طبقہء اشرافیہ اور ہمارے سفارت کار ایک ذریعہ ہیں ہماری اس ’’ نیک نامی‘‘ کا-

یہ وہ آزادی ہے جسے قید نما کہنے کی وجوہات ہیں، اس آزادی کے ’’ ثمرات ‘‘ کو ہم اور ہم سے پہلے کی نسل بھگت چکیں اور اب ہمارے بچے اس کے ثمرات سے مستفیض ہو رہے ہیںــ- آزادی… جسے ہمارے آباواجدا د نے بہت محنت سے حاصل کیا مگر افسوس صد افسوس کہ کوئی ان کے بعد آنے والا اس نعمت کی قدر نہ کر سکا- ابتدا سے ہی اس ملک کا سیاسی نظام اتار چڑھاؤکا شکار رہا ہے، آزادی دلانے والا ہیرو کن سازشوں کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوا، ان کی محترمہ بہن… کن سازشوں کا شکار وہ کر انتخابات میں ہاریں، ملک کا پہلا وزیر اعظم کس طرح قتل ہوا اور اس کے بعد ملک کس طرح طوفان میں پھنسی کشتی کی طرح کبھی کسی طرف ڈولتا اور کبھی کسی طرف جھکتا ہوا چلتا رہا- ہم پر قائد کے بعد سے مسلط ہونے والا ہر حکمران اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات سے اہم گردانتا رہا اور اس کا نتیجہ یہ ہواکہ اس ملک میں چند خاندان تو زمین سے اٹھ کر عرش تک پہنچ گئے مگر عوام زمین میں نیچے ہی نیچے گڑتے چلے گئے-

پردیس میں لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک میں بہت اسکوپ ہے۔ یہ ہم بھی جانتے ہیں، ہم نے بھی نصف صدی کا سفر طے کر کے یہی جانا ہے اور دیکھا ہے کہ اسی اسکوپ کی وجہ سے جو کرسی پر بیٹھ جاتا ہے وہ اترنا نہیں چاہتا کہ سب سے زیادہ اسکوپ ہی کرسی پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے ہے- جن خاندانوں نے اس ملک پر راج کیا ہے، دنیا بھر کے بینکوں میں ان کے خفیہ خزانوں کی بابت جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ سارا اسکوپ ان ہی لوگوں نے پہچانا اور جس کو جب موقع ملا ، اس نے اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے-

’’ وزیر اعظم فارغ ہو گیا ہے… ‘‘ عبداللہ نے ائیر پورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے بتایا، وہ سمجھا ہو گا کہ کوئی چھوٹی سی خبر ہے-

’’ اچھا ‘‘ میں نے مسکرا کر کہا، ’’ اسی لیے تو ہم یہاں کے منظر نامے سے غائب ہوئے تھے کہ ہم پر الزام نہ لگے!‘‘ اب ہنسنے کی باری اس کی تھی- انتظار گاہ میں لگے ہوئے ٹیلی وژن پر معزول وزیر اعظم کی ریلی کو دیکھتے ہوئے میں بہت کچھ سوچ رہی تھی کہ کب ہمیں عقل آئے گی-

بد قسمتی سے ہم پر ملک کے دس سے بھی کم خاندانوں کے ایک ٹولے نے مل جل کر حکومت کی ہے، اس میں سے اقتدار اعلی تک تین چار کی رسائی ہے جو تین تین باریاں لے چکے اور ابھی ان کے دل بھرے ہیں نہ پیٹ- اگر ان خاندانوںمیں سے کوئی خاندان نہیں ہو گا تو پھر ایک فریق رہ جاتا ہے جس نے اس ملک میں گزشتہ ستر سالوں میں سے بیشتر عرصہ حکومت کی ہے- ہر بار فوجی حکمران اس وقت میدان میں کودے جب بقول ان کے ، ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہوتا ہے… ہر فوجی حکمران اس عہد کے ساتھ آیا کہ وہ جلد سے جلد شفاف الیکشن کروا کر واپس چلا جائے گا۔ مگروہ جلد از جلد ہر بار کتنے ہی سالوں تک محیط ہو جاتا ہے۔

ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے اپنے حکمرانوں کو عزت دینا ہی نہیں سیکھا۔ ہم کیوں سوچ لیتے ہیں کہ ہمارے حکمران فرشتے ہو سکتے ہیں؟ وہ ویسے ہی ہوں گے جیسے ہم ہیں، انا پرست، ضدی، لالچی، بے وقوف، ذاتی مفادات کے پجاری، بے حس اور ظالم- اس لیے کہ ہم سب بھی ایسے ہی ہیں، خود کو آئینے میں دیکھیں، جو اوصاف میں نے اوپر گنوائے ہیں اس میں سے کم از کم کوئی تین تو ہم سب میںپائے جاتے ہوں گے- یہ وہ اوصاف ہیں جو ماضی کے حکمرانوںمیں بھی رہے ہیں۔

بیرونی ممالک ( کینیڈا، امریکا اور ترکی) میںدو ماہ گزار کر واپس لوٹ کر دکھ اور بھی بڑھ گیا کہ ہم کیا قوم ہیں۔ وہاں کیا حالات ہیں اور ہمارے ہاں کیا- ہمارے عوام ابھی بھی، جی ٹی روڈ پر ایسے لوگوں کے پیچھے مجمع لگائے ہوئے ہیں جنھیں عدالت، تمام تحقیقات کے بعد، ثبوتوں کے ساتھ عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ پردے کے سامنے چہرے بدلے جا رہے ہیں، پس پردہ وہی کردار ہیں، وہ ملبوس اور وہی آوازیں- حق ہاہ… ہمارے نصیب۔

ان کا جرم ثابت ہو چکا، ماضی میں، دوسرے وزراء اعظم سے عدالتی تحقیقات کے دوران، ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے مطالبات کرنیوالے ، صاحب نے خود کیوں ایسی مثال قائم نہیں کی؟ جب عدالت کا فیصلہ آچکا تو اس کے بعد بھی ان کی ضد چہ معنی دارد؟ ارے صاحب اس جی ٹی روڈ پر جو آپ اپنے دور حکومت میں کبھی ایک بار بھی سفر کرلیتے… اندازہ کر لیتے کہ عام آدمی کس طرح آپ کی لاپروائیوں کو بھگتتا ہے تو آج آپ کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا-

اپنے جمہوری سفر کے آغاز پر اپنے دکھ کی داستان میں پہلے پانچ ججوں کو ان کی بے قصوری پر سزا دینے کی کہانی سناتے سناتے… انھیں کسی ’’ عقل مند ‘‘ نے مشورہ دیا کہ انھیں جج کہنے کی ضرورت نہیں… تو ایک دن کے بعد انھوں نے معزز عدالت عظمی کے ججوں کو پانچ اشخاص کہنا شروع کر دیا- وہ سوال کرتے ہیں… ’’ میرا قصور کیا ہے؟؟‘‘ تو مجھے پرانی فلموں کے وہ کردار یاد آ جاتے ہیں، جو عدالت میں کھڑے ہو کر چلا چلا کر پوچھتا ہے… ’’ جج صاحب! میرا قصور کیا ہے آخر؟ ‘‘

ان کے اس قافلے کی ایک گاڑی کے نیچے کسی ماں کاپلا پلایا، بارہ سالہ لال آگیا… پہلے تو اسے یوں ہی چھوڑ کر قافلہ آگے بڑھ گیا، جب میڈیا میں شور مچا تو اسے اس نام نہاد جمہوری قافلے کے ’’پہلے شہید‘‘ کا لقب نوازا، آخری نہیں۔

ٹیلی وژن اسکرین پر اس بچے کی بلکتی ہوئی ماں کی حالت کو دیکھ کر کچھ اندازہ ہوا کہ وہ بچہ کس قسم کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو گا- ان کے لیے قتل چھوٹے جرائم میں آتا ہے اور انھیں علم ہے کہ اس ملک میں انسانوں کے کیا ریٹ ہیں، ووٹ کے، مقتولوں کے لواحقین کے۔ انھیں معلوم ہے کہ غریب ہر آن بکتا ہے، اس کے ہر مطالبے کی کوئی نہ کوئی قیمت ہے- اسی کو تو انھوں نے اتنے عرصے سے exploit کیا ہے-

ماضی میں بھی یہی ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی ہو گا… ہم اسی طرح مرتے،سسکتے،ایڑیاں رگڑتے، بھگتتے، لٹتے اوربکتے رہیں گے، کیونکہ یہی ہمارا مقدر ہے- معزول وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کی پرچی کو پیروں تلے روند دیا گیا ہے… عرض ہے جناب کہ جنھوں نے آپ کو ووٹ دئے … آپ نے تو ان کو پیروں تلے روند دیا، مسل دیا- ووٹ کی پرچی بہر حال ان سے کم اہم ہے-

ایک بارہ سالہ بچے کا سر عام قتل کر کے وہاں سے بے حسی سے روانہ ہو جانے پر اور اس کے بعد کئی مزید کے زخمی ہونے پر… بعد ازاں غالبا احساس دلایا گیا کہ انسان کا بچہ مارا گیا ہے، کتے بلی کا نہیں تو انھوں نے تاریک راہ میں مارے جانے والے اس بچے کی لاش پر سیاست شروع کردی! اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہماری سزاؤں میں تخفیف کردے، آمین، ثم آمین!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔