ہم محسنوں کو نہیں بھولتے

جاوید چوہدری  اتوار 13 اگست 2017
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

نوٹ:میں نے یہ کالم 14 اکتوبر 2012ء کو تحریر کیا تھا‘ ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال کے بعداس میں تھوڑی سی ترمیم کر کے دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

وہ دو تھیں‘ ایک میکسیکو میں پیدا ہوئی اور دوسری جرمنی کے شہر لائزگ میں۔ ایک نن تھی اوردوسری ڈاکٹر۔ سسٹربیرنس کا تعلق میکسیکو سے تھا جب کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ جرمنی کی رہنے والی تھی‘ یہ دونوں انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر روتھ نے 1958ء میں پاکستان میں کوڑھ (جذام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔

کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔ پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں۔

یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جذام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ اس وقت تیس سال کی جوان خاتون تھیں‘ یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھیں اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھیں‘ زندگی کی خوبصورتیاں ان کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن انھوں نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘ ڈاکٹر روتھ جرمنی سے کراچی آئیں اور انھوں نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئیں‘ انھوں نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی۔

ڈاکٹر روتھ نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘ کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اللہ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ڈاکٹر روتھ اور سسٹر بیرنس کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘ انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

ڈاکٹر روتھ اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔ ڈاکٹر روتھ کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء دے دی‘ یہ مریضوں کا علاج کرتیں اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا تھا‘ اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘ ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔

ڈاکٹر روتھ نے جذام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام بھی شروع کیا‘ ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘ ڈاکٹر روتھ واپس جرمنی گئیں اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئیں‘ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جذام کے خلاف انقلاب آ گیا۔ ڈاکٹر روتھ پاکستان میںجذام کے سینٹر بناتی چلی گئیں یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 170 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی‘ یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔

ڈاکٹر روتھ کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جذام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جذام کنٹرول ہوا تھا‘ ڈاکٹر روتھ فاؤ قبائلی علاقوں اور ہزارہ میں بھی جذام کا پیچھا کر رہی تھیں اور ان کا خیال تھا اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جذام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے لیکن ڈاکٹر روتھ فاؤ10 اگست کو کراچی میں انتقال کر گئیں‘ان کی عمر 88 برس تھی اور یہ 57 برس تک پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل رہیں۔

حکومت ڈاکٹر روتھ فاؤ کی ان خدمات سے واقف تھی چنانچہ حکومت نے 1988ء میں ڈاکٹر روتھ کو پاکستان کی شہریت دے دی تھی‘ انھیں ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور انھیں نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا تھا۔ آغا خان یونیورسٹی نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا تھا۔ جرمنی کی حکومت نے بھی انھیں آرڈر آف میرٹ سے نوازا تھا اور اب وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ سپرد خاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ’’ڈیزرو‘‘ کرتی ہیں‘انھوں نے جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دیا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور یہ اس ملک میں آگئیںجہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے‘ جس میں بے ایمان سے بے ایمان مسلمان بھی جنت کا حقدار ہے اور دیانتدار سے دیانتدار عیسائی‘ یہودی‘ پارسی‘ بودھ اور ہندو کافر۔

جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں‘ جس میں لوگ آج بھی کینسر کا علاج پھونکوں‘ شوگر کا علاج پانی اور نفسیاتی عارضوں کا علاج عاملوں کے ڈنڈوں سے کرتے ہیں اور جس میں ہم بغیر کسی وجہ کے ہر گورے کے خلاف ہیں اور ہم سیم باسیل جیسے بیمار ذہنیت کے لوگوں کی حرکتوں کی سزا پاکستانی چرچوں‘ پاکستانی اے ٹی ایم مشینوں‘ پاکستانی پٹرول پمپوں اور پاکستانی گاڑیوں کو دیتے ہیں اور جس میں اسکول کھولنے کا مطالبہ کرنے پر ملالہ یوسف زئی جیسی بچیوں کو گولی مار دی جاتی ہے اور جس میں وہ لوگ پورا معاشرہ ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو میٹرک تک تعلیم حاصل نہیں کر پاتے اور جو عملی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔

جس میں لوگ معاشرے کے انتہائی برے‘ نالائق ‘کرپٹ اور بے ایمان لوگوں کو پہلے پارلیمنٹ میں بھجواتے ہیں اور پھر ان کے خلاف جلوس نکالتے ہیں اور جس میں مارشل لاء اور جمہوریت کھیل بن چکی ہے اور جس میں آج تک کسی سیاستدان (عمران خان کے علاوہ)‘ کسی بڑے عالم کو کسی بیماری کے خلاف جہاد کی توفیق نہیں ہوئی‘ جس میں لوگ قربانی کی کھالیں جمع کر کے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے بجائے مساجد اور مدارس پر لگا دیتے ہیں اور جس میں لوگ تعلیم‘ صحت اور صاف پانی کا بجٹ بھی کھا جاتے ہیں اور جس میں آج بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنا نہیں آتا۔ ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میںجرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی کے 57 سال اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے تھے واقعی کمال ہے بلکہ اگر میں یہ لکھتے ہوئے دائرہ اسلام سے خارج نہ ہو جاؤ ںیا میرے ملک کے علمائے کرام مجھے معاف کر دیں تو یہ جہاد اکبر ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی اس ملک سے محبت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ انھوں نے زندگی ہی میں پاکستان میں تدفین کی وصیت کی تھی۔ ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون‘ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شائد ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔

میری درخواست ہے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں ڈاکٹر روتھ کا پروفائل چھوٹے بچوں کے سلیبس میں شامل کر لیں‘ یہ وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں مرکزی جگہوں پر ڈاکٹر روتھ کی یادگار بھی بنوائیں‘ ڈاکٹر روتھ کی تصویر کنندہ کی جائے‘ اس کے ساتھ ان کا پروفائل تحریر کیاجائے اور عوام اور اسکولوں کے بچوں کو تحریک دی جائے‘ یہ ڈاکٹر روتھ کی یادگار پر آئیں اور یہاں موم بتی جلا کر پاکستان کی اس محسنہ کا شکریہ ادا کریں۔ ہمارا سی ڈی اے پہل کر سکتا ہے‘ یہ شاہراہ دستور یا بلیو ایریا کے کسی نمایاں مقام پر ڈاکٹر روتھ کی یادگار بنا دے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤہی کے کسی ٹیم ممبرکو بلوا کر اس یاد گار کا افتتاح کروائے اور ہمارا میڈیاڈاکٹر روتھ کو خراج تحسین پیش کرے تا کہ جرمنی سمیت یورپ اور امریکا کے لوگوں کو علم ہو سکے ہم جہاں سیم باسیل جیسے شیطانوں کی مذمت کرتے ہیں ہم وہاں ڈاکٹر روتھ جیسی فرشتہ صفت خواتین کی عظمت کا احترام بھی کرتے ہیں‘ ہم انھیں اپنے دل اور دماغ دونوں میں جگہ بھی دیتے ہیں اور‘ اور ‘ اور ہم احسان فراموش نہیں ہیں‘ ہم اپنے محسنوں کوکبھی نہیں بھولتے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔