بینکوں سے ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی میں 3 فیصد کمی، ایف بی آر پریشان

ارشاد انصاری  اتوار 13 اگست 2017
کمی کارجحان برقراررہنے سے ٹیکس ہدف پرمنفی اثرات،ریونیوشارٹ فال بڑھنے کے خدشات کااظہار۔
 فوٹو؛ فائل

کمی کارجحان برقراررہنے سے ٹیکس ہدف پرمنفی اثرات،ریونیوشارٹ فال بڑھنے کے خدشات کااظہار۔ فوٹو؛ فائل

اسلام آباد: بینکوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ہونے والی وصولیوں میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی) کے دوران 3 فیصد کمی کا انکشاف ہوا ہے جس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بینکوں سے ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی سخت مانیٹرنگ کرنے کے احکام جاری کر دیے ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بینکنگ سیکٹر سے گزشتہ ماہ(جولائی) انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت کٹوتی کیے جانے والے ود ہولڈنگ ٹیکس ریونیو کے موازنے پر مبنی موصول ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اس تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بینکنگ سیکٹر سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے ریونیو سے متعلق گزشتہ ماہ کے عبوری اعدادوشمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جولائی 2016 کے مقابلے میں جولائی 2017 کے دوران سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت بینکوں سے حاصل ہونے والے ود ہولڈنگ ٹیکس ریونیو میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں جس پر ایف بی آر نے ایکشن لیتے ہوئے ملک کے 18 سے زائد ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) اور کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز (سی آرٹی اوز) کے علاوہ لارج ٹیکس پیئر یونٹس (ایل ٹی یوز) کے چیف کمشنرز کو لیٹر ارسال کردیے ہیں جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ بینکوں سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 231 اے اور 231 ڈبل اے کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی سخت مانیٹرنگ کی جائے کیونکہ اگر بینکنگ سیکٹر سے مذکورہ شقوں کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی مد میں ہونے والی وصولیوں میں کمی کا یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو اس کے ٹیکس وصولیوں کے مجموعی ہدف پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اور رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف متاثر ہوں گے اور شارٹ فال بڑھ جائے گا لہٰذا صورتحال کو ابھی سے کنٹرول کیا جائے لہٰذا فیلڈ فارمشنز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ بینکوں سے گزشتہ ماہ ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں آنے والے ریونیو شارٹ فال کو سنجیدگی سے لیا جائے اور آنے والے مہینوں میں اس شارٹ فال کو پورا کیا جائے اور اس ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔