قندیل بلوچ کیس ایک بار پھر پولیس کی نااہلی ثابت کر گیا

محمد مظہر چوہدری  اتوار 13 اگست 2017
ایک سال بعد بھی حتمی چالان پیش نہ ہو سکا، پولیس اور پراسکیویشن میں اختلافات کی اطلاعات۔ فوٹو:فائل

ایک سال بعد بھی حتمی چالان پیش نہ ہو سکا، پولیس اور پراسکیویشن میں اختلافات کی اطلاعات۔ فوٹو:فائل

ملتان: سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کو ایک سال گزر چکا ہے، مگر اس کے قاتل تاحال انجام کو نہیں پہنچ سکے۔

مقتولہ کی پہلی برسی توقع کے مطابق خاموشی سے گزر گئی، کسی تقریب کا اہتمام ہوا نہ کسی کی طرف سے بدنصیب ماڈل کے حق میں کوئی آواز اٹھی۔ قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا اور ایسے کیسز میں عمومی طور پر ہمارے ہاں ملزم سزا سے بچ جاتے ہیں، کیوں کہ ان کیسز میں مدعی ہی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ ایک سال کے دوران قندیل کے قتل کے مقدمے کی تفتیش پر پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے تفتیش کو نقصان پہنچا‘ بعض پولیس افسران نے بھی اس مقدمے میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کی اور بلاوجہ مقدمے کو الجھائے رکھا۔

قندیل بلوچ کے والد عظیم بلوچ نے بیٹی کے قتل کے مقدمے کو بلیک میلنگ اور اپنے مخالفین کو اس مقدمے میں نامزد کروانے کی کوشش کی۔ مقدمے میں نامزد افراد کو بلیک میل کرکے رقوم ہتھیانے کے الزام میں پولیس نے قندیل بلوچ کے والد عظیم بلوچ کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا۔

ڈیرہ غازی خان کے پسماندہ علاقے شاہ صدر دین میں پیدا ہونے والی فوزیہ عظیم نے شہرت حاصل کرنے کیلئے کٹھن سفر طے کیا۔ فوزیہ عظیم نے قندیل بلوچ کے نام سے شہرت حاصل کی۔ قندیل بلوچ ماڈلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے نہ صرف اپنے والدین کی خدمت کر رہی تھی بلکہ وہ اپنے ایک بے روزگاری بھائی وسیم کی بھی مالی مدد کرتی تھی۔

مقتولہ ماڈل کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد وہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگی تھی۔ ان تصاویر کی وجہ سے نہ صرف قندیل بلوچ کو شہرت ملی بلکہ مفتی عبدالقوی بھی پاکستان بھر میں موضوع بحث بن گئے۔ شائد یہی وہ ’’شہرت‘‘ تھی جو ڈیرہ غازیخان کے پسماندہ علاقے شاہ صدر دین تک پہنچی تو رشتہ داروں اور علاقے کے لوگوں نے قندیل بلوچ کے بھائیوں سے سوالات شروع کر دیئے اور انہیں بدنامی کے طعنے دیئے، جس پر انہیں علاقے میں اپنی بدنامی محسوس ہوئی تو قندیل کے بھائی اور رشتہ داروں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

قندیل نے ملتان کے علاقے مظفرآباد میں ایک مکان کرایے پر حاصل کرکے اس میں رہائش اختیار کررکھی تھی، جہاں اس کے والدین بھی اس کے ساتھ رہائش پذیر تھے، قندیل کا بھائی وسیم کبھی کبھار اس گھر میں آیا کرتا تھا۔ وقوعہ کے روز وسیم نے ڈیرہ غازیحان سے ایک کار کرایے پر حاصل کی اور اپنے ایک رشتہ دار کے ہمراہ مظفرآباد پہنچا، وہ ملاقات کے بہانے اپنی بہن قندیل کے گھر آیا اور رات کو اس کے گھر قیام کیا۔ عظیم بلوچ اور اس کی بیوی رات کے وقت چھت پر جبکہ قندیل بلوچ اپنے کمرے میں سوگئی۔ صبح کے وقت عظیم بلوچ اور اس کی بیوی چھت سے نیچے اترے تو انہوں نے دیکھا کہ کمرے میں اس کی بیٹی کی نعش پڑی ہے اور اس کا بیٹا وسیم غائب ہے۔

عظیم بلوچ نے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی جس پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں۔ پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور قتل کی تفتیش کا آغاز کردیا گیا ۔ اس اہم مقدمے میں پولیس افسران کی ضرورت سے زیادہ مداخلت کی وجہ سے تفتیشی ٹیم دباؤ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ سے تفتیش کے آغاز سے بے شمار خامیاں سامنے آئیں۔ پولیس ایف آئی آر میں قندیل بلوچ کا اصل نام لکھنے میں بھی ناکام رہی۔ قندیل بلوچ کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا یہی نام اس کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات پر درج ہے مگر ایف آئی آر میں مقتولہ کا نام قندیل بلوچ لکھا گیا۔

ایف آئی آر کی تحریر میں بھی واضح تضاد ہے۔ مدعی کی طرف سے ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ اس کا بیٹا وسیم اکثر قندیل کو ماڈلنگ سے روکتا تھا‘ اس نے میری بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے جبکہ اس کے ساتھ مزید یہ درج ہے کہ وسیم نے پیسے ہتھیانے کی خاطر قتل کیا ہے۔ عظیم بلوچ نے کراچی میں رہائش پذیر اپنے دوسرے بیٹے اسلم شاہین کو بھی اس مقدمے میں نامزد کیا کہ وسیم نے اسلم شاہین کے کہنے پر قندیل کو قتل کیا ہے‘ پولیس نے مقدمہ کے اندراج کے چند گھنٹوں بعد ڈیرہ غازی خان میں چھاپہ مار کر ملزم وسیم کو گرفتار کر لیا.

گرفتاری کے بعد وسیم نے اعتراف جرم بھی کر لیا اور بتایا کہ اس نے اکیلے اپنی بہن کو قتل کیا ہے‘ کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ ملوث نہیں ہے‘ اس نے غیرت کی وجہ سے اپنی بہن کو قتل کیا کیونکہ وہ ان کی بدنامی کا باعث بن رہی تھی تاہم دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ قتل کی اس واردات میں وسیم کا کزن حق نواز بھی ملوث ہے۔ وسیم اپنے کزن حق نواز اور ٹیکسی ڈرائیور کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان سے ملتان پہنچا تھا۔ وسیم نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور باہر گلی میں موجود رہا‘ اس نے اور حق نواز نے مل کر قندیل کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔

پولیس نے اس مقدمہ میں قندیل کے متعدد رشتہ داروں کو گرفتار کیا‘ جن میں خواتین بھی شامل تھیں مگر بعد میں بے گناہ ثابت ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے اس اہم مقدمہ کی تفتیش کو غیرضروری طور پر لٹکائے رکھا اور ایک سال گزرنے کے باوجود اس کا حتمی چالان عدالت میں پیش نہیں کیا‘ قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بار بار تفتیش کے باوجود مفتی عبدالقوی کے اس قتل میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں مل سکے۔

اس کے باوجود پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور مفتی عبدالقوی کے کردار کا حتمی تعین نہ کیا‘ قانون کے مطابق پولیس ہر مقدمے کا چالان 14 روز کے اندر عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے‘ مگر پولیس نے قتل کے اس اہم مقدمے میں مرکزی ملزم کی پہلے ہی روز گرفتاری کے باوجود حتمی چالان مکمل نہ کیا‘ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت اس میں گواہوں کا ذکر بھی نہیں کیا۔ یوں ناقص تفتیش اور غیر ضروری طوالت سے ملزموں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے ایک سابقہ رکن اے ایس آئی بشیر احمد نے بتایا کہ وسیم اور حق نواز قتل کے مرکزی ملزمان ہیں‘ سعودی عرب میں مقیم قندیل بلوچ کے بھائی عارف نے وسیم کو قتل کرنے کی ہدایت کی تھی‘ عارف کے اکسانے پر وسیم نے قتل کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفتی عبدالقوی اور قندیل کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد قندیل کے بھائیوں نے اسے اپنی بدنامی سمجھا‘ تاہم مفتی عبدالقوی اس قتل کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔