70 واں یوم ِ آزادی؛ ملکی کھیل سیاسی چیرہ دستیوں سے آزاد نہ ہو سکے

میاں اصغر سلیمی  اتوار 13 اگست 2017
پاکستان کرکٹ کو صحیح معنوں میں عروج 1970ء کی دہائی میں حاصل ہوا۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ کو صحیح معنوں میں عروج 1970ء کی دہائی میں حاصل ہوا۔ فوٹو: فائل

قوم کل پاکستان کا 70 واں یوم آزادی منا رہی ہے، شہری گھروں، گلی کوچوں اور بازاروں میں بھرپور طریقے سے آزادی کی خوشیاں منا رہے ہیں، سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر بڑے بڑے سبز ہلالی پرچم لہرا کر وطن سے اظہار محبت کیا جا رہا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر ملک وقوم کی نیک نامی کی بات آئی تو ہاکی، کرکٹ، اسکواش سمیت دوسرے کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ ایک وقت تو ایسا تھا کہ انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کی اصل پہچان کھلاڑی بالخصوص ہاکی پلیئرز بنے، کہا جاتا ہے کہ کھلاڑی کسی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اورکھیلوں میں کامیابی کسی بھی ملک کی شہرت کا سب سے اچھا اور آسان ذریعہ ہوتی ہے، 14 اگست 1947ء کو پاکستان بنا تو ہمارے قومی پلیئرز نے آغاز ہی میں کھیلوں کے میدانوں میں اپنی برتری قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب 1994ء میں پاکستان کو بیک وقت چار کھیلوں ہاکی، کرکٹ، اسکواش اور سنوکر میں ورلڈچیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔

پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیئے کہ دنیا دنگ رہ گئی، پاکستانی کھلاڑیوں کی عالمی مقابلوں میں شرکت ہی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی، ہاکی کے بارے میں تو دنیا یہ تک کہتی نظر آئی کہ اگر ہاکی سیکھنی ہے تو پاکستان جاؤ، قومی کھیل میں گرین شرٹس شرٹس نے کم و بیش50برس تک راج کیا۔

1948 ء میں پہلی مرتبہ علی سردار شاہ دارا کی قیا دت میں اولمپکس گیمز میں حصہ لینے والی پاکستان ہاکی ٹیم نے بین الاقوامی ہاکی میں اپنی آمد کے محض چار سال بعد 1952 ء میں پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں سلور میڈل حاصل کر کے ایشیائی ہاکی پر اپنی حکمرانی قائم کی، پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958 ء میںٹوکیو ایشین گیمز میں گولڈ میڈ ل جیتا، تین مرتبہ 1960ء کے روم اولمپکس، 1968ء کے میکسیکو اولمپکس اور 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں چیمپئن بننے کا شرف حاصل ہوا جس وقت پاکستان نے جکارتہ ایشین گیمز 1962ء گولڈ میڈل جیتی تو پاکستان نے ہاکی کا گرینڈ سلام مکمل کر لیا اور پاکستانی ٹیم یہ اعزاز حاصل کرنے والی دنیا کی پہلی ہاکی ٹیم بن گئی۔

اسی طرح پاکستان کو بارسلونا میں 1971ء میں ہونے والے افتتاحی ورلڈکپ، 1978ء میں بیونس آئرس میںمنعقدہ تیسرے ورلڈکپ، 1982ء میں ممبئی میں ہونے والے چوتھے ورلڈکپ اور 1994ء میں سڈنی میں شیڈول ساتویں ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹس جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پاکستان نے1994ء میں آخری بار 2 قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی تھیں۔

ایک سڈنی ورلڈ کپ کی فتح اور دوسری 16ویں چیمپئنز ٹرافی ورلڈ ہاکی ٹورنامنٹ کی لاہور میں جیت۔ اگر پاکستان ہاکی ٹیم کی اولمپکس مقابلوں میں کارکردگی پر نظر دوڑائیں توروم اولمپکس میں کامیابی حاصل کرنے والی پاکستان ہاکی ٹیم سب سے مضبوط دکھائی دیتی ہے، روم اولمپکس 1960ء میںگولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کے منیجر کرنل علی سردار شاہ دارا اور کوچ نیاز خاں تھے۔ ٹیم کی قیادت عبدالحمید(بریگیڈیئر حمیدی) کے پاس تھی۔ ان کے علاوہ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں۔

عبدالرشید اے آر گارڈنر، منیر ڈار، ایم ایچ عاطف، خورشید عالم، بشیر احمد، ڈاکٹر غلام رسول چودھری، انوار احمد خاں، ظفر حیات، حبیب علی کیڈی، نور عالم، ذکاء الدین، عبدالوحید، ظفر علی خاں، نصیر بندہ، مطیع اللہ اور مشتاق احمد، گرین شرٹس نے سیمی فائنل میں سپین کو 1-0 سے شکست دیتے ہوئے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو بھی صفر کے مقابلے ایک گول سے روند کر عالمی ہاکی پر اس کی 32سالہ برتری کا خاتمہ کردیا، بھارت کے خلاف واحد گول کرنے والے نصیر بندہ تھے۔ میکیسیکو اولمپکس گیمز 1968ء میں دوسری مرتبہ طلائی تمغہ حاصل کرنے والی پاکستانی ٹیم کے منیجر بریگیڈئر ایم ایچ عاطف تھے جبکہ کوچ کے فرائض عبدالشکور نے ادا کیے۔

ڈاکٹر طارق عزیز نے کپتانی کی ان کے علاوہ ٹیم میں شامل دیگر کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں۔ ذاکر حسین، قاضی صلاح الدین، تنویر ڈار، ریاض الدین، سعید انور، ریاض احمد، گلریز اختر، فضل الرحمن، انورشاہ، خالد محمود، اشفاق احمد، عبدالرشید جونیئر، جہانگیر بٹ، فاروق خاں، لیئق احمد، طارق نیازی۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 9 میچ کھیلے اور سارے کے سارے جیتے۔ اس نے مجموعی طور پر26 گول کیے اور5 گول اس کے خلاف ہوئے۔

فائنل میں پاکستان کا فیصلہ کن گول اسد ملک نے کیا۔پاکستان نے 1984ء کی لاس اینجلس میں ہونے والی اولمپکس گیمز میں تیسری بار گولڈ میڈل جیتا۔ ان گیمز میں شرکت کرنے والی قومی ہاکی ٹیم کے منیجر بریگیڈیئر منظور حسین عاطف اور کوچ ذکاء الدین تھے۔ ٹیم کی قیادت منظور حسین (منظور جونیئر) نے کی تھی، جنہیں گولڈن پلیئر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ ٹیم جن کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، ان کے نام یہ ہیں۔ جی معین الدین، شاہد علی خاں، قاسم ضیاء، ناصر علی، توقیر ڈار، رشید الحسن، ایاز محمود، نعیم اختر، اشتیاق احمد، کلیم اللہ، حسن سردار، حنیف خاں، خالد حمید، سلیم شیروانی اور مشتاق احمد ۔ پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں 7 میچ کھیلے جن میں سے 4 جیتے اور3 برابر ہے۔ پاکستان نے 19 گول کیے اور 7 اس کے خلاف ہوئے۔ گزشتہ23 برس سے پاکستانی ٹیم نہ صرف عالمی میڈلز سے محروم ہے بلکہ گرین شرٹس کو تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ 2014ء اور اولمپکس2016ء میں شرکت سے بھی محروم ہونا پڑا۔

ہاکی کی طرح کرکٹ میں بھی پاکستانی کھلاڑی کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں اور پاکستان کو اب تک ون ڈے اور ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے، 1952ء میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کا درجہ ملنے کے بعد سے پاکستان کا شمار ہمیشہ سے ہی دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا رہا ہے۔ پاکستان ٹیسٹ کھیلنے والا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ہر ملک کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابیاں حاصل کیں۔

1952ء میں بھارت کی سرزمین پر پاکستان نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی تو اس وقت دنیا میں کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ ایک نو وارد کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی، شائقین کرکٹ کی حیرت اس وقت یقین میں تبدیل ہوئی جب پاکستان نے انگلینڈ کو اوول کے تاریخی میدان پر شکست کا مزہ چکھایا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے اس ٹیم میں نذر محمد ، فضل محمود اور حنیف محمد جیسے با صلا حیت کھلاڑی موجود تھے جنہوں نے جلد ہی پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔

پاکستان کرکٹ کو صحیح معنوں میں عروج 1970ء کی دہائی میں حاصل ہوا، 1970ء کی دہائی میں محدود اوورز کی کرکٹ کا آغاز ہوا تو پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی طرح یہاں بھی اپنی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا، 1975ء میں کرکٹ کا پہلا ورلڈکپ انگلینڈ میں ہوا جہاں پاکستانی ٹیم آخری لمحات میں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی۔ اس کے بعد 1983,ء 1979 اور 1987ء کے ورلڈکپ کرکٹ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کا شکار ہوئی، ایک بات جو کہ پاکستانی شائقین کرکٹ کے لیے فخر کا باعث رہی وہ یہ تھی کہ ہر ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم فیورٹس میں شامل رہی۔

1987ء کے بعد پانچ سال کے وقفے سے پہلی مرتبہ ورلڈکرکٹ کے مقابلے آسٹریلوی سرزمین پر 1992ء میں منعقد ہوئے۔ 1987ء کے ورلڈکپ کے بعد پاکستانی ٹیم عمران خان کی قیادت میں آسٹریلیا پہنچی تو ہر کوئی ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ہی فیورٹ قرار دے رہا تھا۔ اس مرتبہ پہلے ورلڈکپ مقابلوں کی نسبت پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد یوں لگ رہا تھا جیسے پاکستان اس مرتبہ بھی ورلڈکپ میں کامیابی حاصل نہ کر پائے مگر اس مرتبہ حالات نے کروٹ بدلی۔

ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے ایسے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا کہ پاکستان کی کامیابیوں کا سلسلہ ورلڈکپ فائنل میں کامیابی پر رکا، 25 مارچ 1992ء کا دن پاکستان کرکٹ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا، اس دن پاکستان کرکٹ ٹیم نے میلبورن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر عالمی چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا، ورلڈکپ میں کامیابی کے بعد پاکستانی ٹیم نے 1999ء کے ورلڈکپ فائنل تک رسائی حاصل کی مگر آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد 2003ء اور 2007ء ورلڈکپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم پہلے راؤنڈ ہی سے باہر ہو گئی۔

2007ء میں کرکٹ میں ون ڈے کرکٹ سے بھی مختصر کرکٹ کا آغاز ہوا، اس کو ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کا نام دیا گیا، مختصر طرز کی کرکٹ کے پہلے ورلڈکپ میں پاکستان کو فائنل میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر 2سال بعد دوسرے ایونٹ میں پاکستان نے یونس خان کی قیادت میںکامیابی حاصل کر کے ٹوئنٹی20 میں بھی عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ سانحہ لبرٹی کے بعد اپنی ملکی سرزمین پر انٹرنیشنل کرکٹ کو ترسنے والی پاکستانی ٹیم نے مصباح الحق کی قیادت میں اگست 2016ء میں دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا اعزاز اپنے نام کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

حال ہی میں گرین شرٹس نے نوجوان کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں انگلینڈ میں شیڈول آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل پہلی بار اپنے نام کر کے شائقین کو خوشیاں دیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں ملک وقوم کا نام روشن کرنے والے کھلاڑیوں میں عبدالحفیظ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، نذر محمد، مدثر نذر، مشتاق محمد، سرفراز نواز، آصف اقبال، ظہیر عباس، عبدالقادر، عمران خان، جاوید میانداد،محسن حسن خان، وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق، شاہد آفریدی، محمد یوسف، شعیب اختر قابل ذکر ہیں۔

اسکواش کی بات کی جائے تو قیام پاکستان کے بعد سے لے کر 1997ء تک کسی نہ کسی طرح اس کھیل پر پاکستان کی حکمرانی قائم رہی۔ پشاور کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک غریب نوجوان ہاشم خان کی برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں کامیابی سے دنیائے اسکواش پر قائم ہونے والی یہ حکمرانی 1997 ء میں جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ تک قائم رہی۔ ہاشم خان سے لے کر جان شیر خان تک سب نے پاکستان کے لیے ان گنت اعزازات حاصل کیے۔

پاکستان کو عالمی اسکواش میں اصل عروج 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ملا جب ہاشم خان کا نوجوان بیٹا جہانگیر خان بین الاقوامی اسکواش کورٹ میں اترا۔ اس نوجوان نے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کر کے دنیائے اسکواش میں اپنی شاندار آمد کا اعلان کر دیا۔ جہانگیر خان نے اس کامیابی کے بعد نہ صرف اسکواش کورٹس میں بلکہ دنیائے کھیل میں ایسی کامیابیاں حاصل کیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ جہانگیر خان مسلسل 5 سال تک ناقابل شکست رہے، اس دوران انہوں نے 584 میچوں میں کامیابی حاصل کی، جہانگیر خان کا یہ ریکارڈ توڑنا دنیائے کھیل میں تقریباً ناممکن ہے۔

آج بھی انفرادی کھیلوں کے بہت سے کھلاڑی اس ریکارڈ کو توڑنے کے خواب دیکھتے ہیں مگر ان کھلاڑیوں کے یہ خواب حقیقت میں بدلنا انتہائی مشکل ہے۔جہانگیر خان نے ا پنے کیریئر میں مسلسل 10مرتبہ برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ اور6مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتیں، اس کے علاوہ بھی دنیائے اسکواش کا کوئی ایسا ٹورنامنٹ نہیں ہے جس میں انہوں نے کم از کم 2 مرتبہ کامیابی حاصل نہ کی ہو۔ دنیا کے کئی ممالک میں لوگ آج بھی پاکستان کو صرف جہانگیر خان کا ملک ہونے کی وجہ سے جانتے ہیں اور ان کو جہانگیر خان کے شاندار کارناموں کے علاوہ پاکستان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

جہانگیر خان ابھی اسکواش کورٹس پر حکمرانی کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک اور خان نوجوان ابھر کرسامنے آیا اور اس نے نہ صرف دنیا کے تمام کھلاڑیوں بلکہ جہانگیر خان کو بھی شکست سے دو چار کیا، یہ نوجوان جان شیر خان تھا، جہانگیر کی عالمی اسکواش سے ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا میں اسکواش کے حوالے سے پاکستان کا پرچم جان شیرخان نے بلند کیے رکھا اور وہ اعزازات جو پہلے جہانگیر خان جیتا کرتے تھے، اب جان شیر خان پاکستان لانے لگے۔ مگر 1997ء میں جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی اسکواش پر حکمرانی ختم ہو گئی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے جہانگیر خان اور جان شیر خان کی صلاحیتوں سے دنیا کے دوسرے ممالک تو استفادہ کر رہے ہیں لیکن ہماری اسکواش فیڈریشن ان عظیم کھلاڑیوں کے نام لینا بھی پسند نہیں کرتی۔اسکواش کے عالمی میدانوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والوں میں ہاشم خان، روشن خان، رحمت خان، گوگی علاؤ الدین، فخر زمان جبکہ موجودہ کھلاڑیوں میں ماریہ طور پیش پیش ہیں۔

ہاکی، کرکٹ اور اسکواش کے میدانوں سے نکل کر سنوکر کا ذکر کیا جائے تو اس کھیل میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی عمدہ کارکردگی سے دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم لہرانے کا سلسلہ جاری رکھا، سنوکر ایک ایسا کھیل ہے، جس عام طور پر یورپین ملکوں میں زیادہ کھیلا اور پسند کیا جاتا ہے لیکن 1994-95ء میں پاکستان کے ایک کھلاڑی محمد یوسف نے اس کھیل میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔

محمد یوسف نے اسنوکر کی عالمی چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کی تو ساری دنیا حیرت زدہ ہو گئی۔ ان کی اس کامیابی کے بعد پاکستان میں اس کھیل کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی، محمد یوسف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیصل آباد کے محمد آصف نے بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں شیڈول ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ 2012ء جیت کرپاکستان کو دوسری بار عالمی چیمپئن بنا دیا۔

حال ہی میں مصر میں منعقدہ آئی بی ایس ایف ورلڈ ٹیم سنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل پاکستانی کھلاڑیوں بابر مسیح اور محمد آصف نے اپنے نام کیا ہے، پاکستانی پلیئرز کی عمدہ کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چیمپئن شپ میں 19 ممالک کی 36 ٹیموں نے حصہ لیا اور فائنل میں مقابلہ پاکستان ہی کی دونوں ٹیموں کے مابین ہوا۔یہ رواں سال پاکستانی سنوکر کھلاڑیوں کا تیسرا ٹائٹل ہے جہاں اس سے قبل نسیم اختر نے پاکستان کو انڈر 18 ورلڈ چیمپئن شپ اور محمد سجاد نے ایشین 6 ریڈ بال اسنوکر چیمپئن شپ جتوائی تھی۔

پاکستان کی عالمی کھیلوں کے میدانوں میں کامیابیوں کا سلسلہ صرف کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور سنوکر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹینس میں ومبلڈن تک رسائی حاصل کی جن میں ہارون رحیم اور اعصام الحق قریشی قابل ذکرہیں۔

اعصام الحق وہ واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہیں 2010ء میں گرینڈ سلام کے ڈبلز مقابلوں کا اعزاز حاص ہوا، اس طرح پاکستانی باکسر محمد وسیم بھی عالمی سطح پر فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں اولمپکس کا ذکر کیا جائے تو پاکستان کو 1948 کے لندن گیمزسے2016 کے ریو اولمپکس تک سوائے ایک ایڈیشن کے باقاعدگی سے شرکت کا اعزاز حاصل ہے، واحد عدم شرکت افغانستان میں روسی موجودگی کے خلاف بطور احتجاج تھی جب متعدد دیگر ممالک کے ہمراہ 1980 کے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا، اولمپکس میں پاکستان نے اب تک 11 گیمز میں حصہ لیا اور 3 کھیلوں ہاکی، باکسنگ اور ریسلنگ میں10تمغے جیتے ، ان میں 3 گولڈ، اتنے ہی سلور اور4 برانزمیڈلز شامل ہیں، ہاکی میں پاکستان نے3 سلور اور2 برانز میڈلزبھی حاصل کیے،دیگر2 برانز میڈلز ریسلنگ اور باکسنگ میں جیتے، ریسلر محمد بشیر نے 1960کے روم اولمپکس میں 73 کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

1988 کے سیول اولمپکس میں باکسر حسین شاہ مڈل ویٹ کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ پانے میں کامیاب ہوئے۔ شبانہ اختر اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ انھوں نے اٹلانٹا اولمپکس میں لانگ جمپ میں حصہ لیا تھا۔ان کے بعد شازیہ ہدایت، سمیرا ظہور اور صدف صدیقی کو ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کا موقع ملا۔ 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں رباب رضا اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون تیراک بنیں، 4 سال بعد کرن خان نے بیجنگ اولمپکس میں شرکت کی۔

دنیائے کھیل پر سالہا سال سے راج کرنے والے پاکستانی کھلاڑی بدقسمتی سے کچھ عشروں سے انٹرنیشنل سطح بالخصوص اولمپکس مقابلوں میں بڑی کامیابیاں سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، جس کی بہت ساری وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کھیلوں سے منسلک عہدیداروں نے فتح کے نشے میں گذشتہ کئی عشروں سے خاطر خواہ حکمت عملی ترتیب نہیں دی، حکومتوں نے بھی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، پی سی بی، پی ایچ ایف، پی ایف ایف سمیت دوسری کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے اعلی عہدوں پر میرٹ کی بجائے من پسند کی بنا پر فیصلے کئے، فیڈریشنز میں سیاسی مداخلت نے تنزلی کی رفتار تیز کردی، زیادہ تر کرکٹرز پر ہی اپنی نوازشات کی بارش کئے رکھی، اس حکومتی دوہری پالیسی کی وجہ سے باصلاحیت کھلاڑی اپنے کھیلوں سے منہ موڑ رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اورآفیشلز کو 25کروڑ کی انعامی رقم دی جا سکتی ہے تو باکسنگ میں عالمی چیمپئن محمد وسیم اور حال میں ورلڈ ٹیم سنوکر چیمپئن کے فاتح محمد آصف اور بابر مسیح کو ایوان وزیر اعظم بلا کر پرکشش انعامات سے کیوں نہیں نوازا جا رہا؟ کھیلوں کے عالمی فتح وکامرانی کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر کھیلوں میں تفریق کرنے کی بجائے سب کھلاڑیوں کے ساتھ یکساں سلوک روا کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔