کراچی میں ایک قوت شہر کی ترقی اوردوسری اسے تباہ کرنا چاہتی ہے، فاروق ستار

ویب ڈیسک  اتوار 13 اگست 2017
 اگر کراچی موئن جو دڑو بنا تو اس کے ذمے دار فیصلے کرنے والے ہوں گے، ڈاکٹر فاروق ستار : فوٹو : فائل

اگر کراچی موئن جو دڑو بنا تو اس کے ذمے دار فیصلے کرنے والے ہوں گے، ڈاکٹر فاروق ستار : فوٹو : فائل

کراچی: ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار کا کہنا ہے کہ کراچی میں دو قوتیں ہیں ایک قوت شہر کی ترقی چاہتی ہے اور دوسری قوت اس کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔

کراچی میں ایکسپو آباد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی شہر ملک کو 70 فیصد ٹیکس دیتا ہے جب کہ وفاق سے صرف 5 فیصد ٹیکس واپس ملتا ہے گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ کراچی چلتا ہے تو پورا ملک چلتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: مہاجر قومی موومنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں

فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں دو قوتیں آباد ہیں ایک قوت اس شہر کو تباہ کرنا چاہتی ہیں جب کہ ایک اس شہر کی ترقی چاہتی ہے اور اس وقت وہ قوت متحرک ہے جو اس شہر سمیت ملک دشمن بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  بڑے بڑے عہدوں پر فائز اربوں روپے کا کمیشن کھا رہے ہیں اور زمینوں کی بندر بانٹ کی جارہی ہے شہر کے باسیوں نے برداشت کیا اور اب تک سڑکوں پر نہیں آئے لیکن اب بتا دیا جائے کہ کراچی والوں کوکتنا برداشت کرایا جائے گا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا فیصلہ احتساب کے عمل کا آغازہے

سربراہ ایم کیوایم پاکستان کا کہنا تھا کہ کراچی کچی آبادیوں پرمشتمل دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے یہاں  کے لوگوں کو کم لاگت گھروں کی ضرورت ہے لیکن حکومت وقت نے عوام کو چھت فراہم نہیں کی، اس شہر میں کسی بھی وقت پانی کی وجہ سے فسادات پھوٹ سکتے ہیں اگر کراچی موئن جو دڑو بنا تو اس کے ذمے دار فیصلے کرنے والے ہوں گے، پاکستان 70 سالوں میں  تعمیر و ترقی کی راہ پر اس لئے گامزن نہیں ہوسکا کیوں کہ درست پالیسیاں نہیں بنائی گئیں وفاقی اور صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے کہ کراچی کے لیے کام کریں اورعوام کے ساتھ مل کر ترقیاتی کام شروع کئے جائیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔