14 اگست اور ریاستی نظام

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  پير 14 اگست 2017
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

ہمارے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ جب بھی 14 اگست آتی ہے ان کی آنکھوں میں غم اور خوشی کے آنسو آجاتے ہیں، انھیں وہ وقت یاد آجاتا ہے کہ جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوتے ہی پورے ہندوستان میں جگہ جگہ قتل و غارت گری شروع ہوگئی تھی، نہ ہجرت کرنے والے مسلمان محفوظ تھے، نہ اپنے گھروں میں دروازے بند کرکے بیٹھنے والے مسلمان محفوظ تھے، قتل ہونے والے لوگوں کی نعشوں سے دور دور تک تعفن اور بدبو پھیلی ہوئی ہوتی تھی اور ان پر گدھ منڈلاتے تھے۔

جان و عزت محفوظ نہ تھی، ہر طرف خوف و خطرہ کی فضا تھی۔ بس خوشی تو اس بات کی تھی کہ بحثیت مسلمان ہم نے اپنا ایک علیحدہ وطن حاصل کرلیا تھا اور یہ اس روئے زمین پر مدینہ کے بعد دوسری ریاست تھی جو مسلمانوں نے اسلام کے نام پر قائم کی تھی۔

ہمارے بہت سے بزرگوں کا یہی نظریہ ہے، اس نظریے سے کچھ لوگ اختلاف بھی کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے معاشی تحفظ کے لیے تھا، کچھ کہتے ہیں کہ یہ انگریزوں کی سازش تھی کہ وہ یہاں پھوٹ ڈال کر جائیں اور بعد میں اپنے مفادات پورے کریں، کچھ کہتے ہیں کہ جواہر لال نہرو کی آخر میں غلط حکمت عملی کے باعث قائداعظم کو موقع ملا کہ وہ الگ وطن کے قیام کا مطالبہ کریں۔

ایک مرحوم محققق کا خیال تھا کہ یہ ’سیلریا‘ (تنخواہ دار سرکاری ملازمین) کے کردار کے سبب ہوا، جس کو انگریزوں نے استعمال کیا۔قیام پاکستان کی مخالفت ایک بہت بڑے عالم مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی کی، ان کا موقف تھا کہ مستقبل میں قوم پرستی کا دور دورہ ہوگا اور محض دین کے نام پر اس ریاست کا ایک اچھے طریقے سے چلنا آسان نہ ہوگا، خاص کر ہجرت کرکے پاکستان جانے والے مسلمان بے زمین ہوں گے، ایسے میں قوم پرستی کے مسائل اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مولانا نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ یہ ملک قیام کے بعد لسانی مسئلے پر دو ٹکڑے ہوجائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا، اور مشرقی پاکستان لسانی بنیادوں پر پاکستان سے الگ ہوگیا۔ (راقم نے مولانا کی یہ پیش گوئی کئی لوگوں سے سنی ہے، جلسوں میں مقررین کی زبانی بھی سنی ہے، لیکن فی الوقت راقم کے پاس کسی کتاب کا مستند حوالہ نہیں)۔

بہرحال یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد مسلمانوں کے بہت بڑے خیرخواہ تھے اور جب پاکستان بن گیا تو انھوں نے نہ صرف اس کو کھلے دل سے تسلیم کیا بلکہ ایک مرتبہ جب دوران سفر ان کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کچھ گھنٹوں کے لیے رکا تو مولانا نے قائداعظم کے مزار پر آکر حاضری دی، حالانکہ قیام پاکستان سے قبل قائداعظم ایک مرتبہ مولانا کو کانگریس جماعت کا ’شو بوائے‘ کہہ چکے تھے۔

مولانا نے قیام پاکستان کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے تحفط کے لیے بے پناہ کام کیا، جلسے جلوس کیے، خوف زدہ مسلمانوں کی ہمت بندھائی اور کہا کہ مسلمان صدیوں سے ہندوستان میں رہتے چلے آرہے ہیں، کوئی انتہاپسند ہندو زبردستی انھیں یہاں سے نکلنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایک مرتبہ مسلمان امراء کے ایک گروپ نے مولانا کو خط لکھا کہ انتہاپسند ہندوؤں نے انھیں دھمکیاں دی ہیں کہ اگر ان مسلمانوں نے ہجرت کرکے علاقہ خالی نہیں کیا تو وہ علاقے کے تمام مسلمانوں کو قتل کردیں گے۔

مولانا کو جب یہ خط موصول ہوا تو انھوں نے (اس خط پر یہ تحریر کرکے کہ اگر یہ مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہجرت کرکے بھارت سے چلے جائیں گے) یہ خط جواہر لال نہرو کو بھیج دیا، جس پر نہرو نے فوراً کارروائی کا حکم دیتے ہوئے یہ خط ریاست کے گورنر کو بھیج دیا۔ (بعض لوگ کہتے ہیں کہ نہرو نے بھی اس خط میں یہ لکھ دیا تھا کہ اگر مولانا نے ہجرت کی تو وہ بھی ساتھ ہجرت کرجائیں گے۔ واﷲ اعلم)۔

بہرکیف کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی، انھوں نے بھی مسلم قوم کی بہتری کا سوچا تھا، ایسا نہیں تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کا کسی کو خیال نہ آیا ہو۔ یوں دیکھا جائے تو تقسیم کے معاملے پر رائے میں اختلاف بھی اس مسلمان قوم کے حقوق کا ہی معاملہ پیش نظر تھا۔ قابل غور بات اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مسلمان قوم ایک نظریاتی قوم ہے، جس کا نظریہ ہے کہ زمین پر تمام زندگی وہ خدائے واحد کے احکامات کے تحت ہی گزاریں گے۔

ایک مسلمان اﷲ کے احکامات کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے جو اس کی نجی زندگی ہوتی ہے، جس میں حقوق اللہ یعنی ذاتی عبادات اور حقوق العباد شامل ہوتے ہیں، لیکن حقوق اللہ کا ایک حصہ وہ بھی ہوتا ہے کہ جس کے تحت ایک مسلمان کو جب کسی خطہ زمین پر اقتدار ملتا ہے تو وہ اس خطہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق قانون نافذ کرتا ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد صرف مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں کی، بلکہ ایک اسلامی نظام قائم کیا۔

ریاست کے تمام قوانین و معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو عملاً نافذ کیا، اور ایسا کرنا مسلمانوں کے ایمان کا حصہ بھی اور عقلاً درست بھی ہے کہ دنیا بھر میں تمام قومیں اپنے اپنے نظریات کے مطابق ریاست کا نظام ترتیب دیتی ہیں، مثلاً سابق امریکی صدر اوباما نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے کہا کہ ہمارے نظریے کے مطابق ہر شخص کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے خواہ حضرت عیسیٰ کی ہی توہین کیوں نہ کی جائے، لہٰذا مسلمانوں کو بھی حضورﷺ کی توہین پر برداشت و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے عمل کی آزادی دینی چاہیے۔ امریکا میں امریکی پرچم کی توہین پر سزا ہے لیکن توہین حضرت عیسیٰ یا کسی مذہبی شخصیت کی توہین پر کوئی سزا نہیں، بلکہ یہ توہین کرنے والے کی آزادی رائے کا حق ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا بھر کی قومیں اپنے نظریہ حیات کو ریاست کا، قانون کا حصہ بنا سکتی ہیں تو ہم مسلمان جنھوں نے اگر اسلام کے نام پر نہ سہی، مسلمان ہونے کے نام پر جو ملک حاصل کیا ہو، وہ کیوں نہ ریاستی سطح پر بھی اسلام کے احکامات کو نافذ کرنے کا حق نہ رکھیں؟ جب کہ مسلمانوں کے نظریہ دین کی ایک بہت بڑی بنیاد یہ شامل ہے کہ جب انھیں زمین پر اقتدار ملے گا تو وہ اللہ کے احکامات کے مطابق نظام قائم کریں گے۔

جو لوگ جمہوری اصولوں کی بات کرتے ہیں دیکھا جائے تو جمہوری اصول کے تحت بھی چونکہ یہ ملک مسلمانوں کی اکثریت نے حاصل کیا ہے اور اکثریت بھی مسلمانوں کی ہے تو یہاں جہاں تک ممکن ہو اسلامی احکامات ہی ریاستی سطح پر نافذ ہونے چاہئیں۔ جمہوری اصولوں کی بات کرنے والوں کو اس پر معترض نہیں ہونا چاہیے۔

یہ سیدھا سا اصول ہے، مگر افسوس ہم نے اس کو نظر انداز کیا ہوا ہے اور مختلف قسم کی آراء اور منطق پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کو شش کرتے ہیں کہ اس ریاست میں اسلامی قوانین کا کیا کام؟ یا یہ کہ عہد جدید میں یہ کام ممکن نہیں یا اتفاق رائے ممکن نہیں۔ یہ سب ’میں نہ مانوں‘ والی باتیں ہیں۔

آج جو 14 اگست پھر سے ہماری زندگی میں آرہی ہے، ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس ملکی کی بہتری کے لیے کام کریں، نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے۔ ریاستی سطح پر حکومت سمیت تمام اداروں کے سربراہوں کو اور ایک عام فرد کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کس حد تک ایمانداری سے کام کر رہا ہے؟ اور اسے کس حد تک کرنا چاہیے کہ یہ ملک کسی سے تحفے میں نہیں ملا، لاکھوں لوگوں کی عزتوں اور جانوں کی قربانیاں اس میں شامل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔