مجھے اب ’’محمد‘‘ کے نام سے پکارا جائے، محمد فاراح

اسپورٹس ڈیسک  منگل 15 اگست 2017
محمد فرح نے اپنے ناقدوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ فوٹو : فائل

محمد فرح نے اپنے ناقدوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ فوٹو : فائل

 لندن:  شہرۂ آفاق برطانوی ایتھلیٹ اور طویل دوڑوں کے بادشاہ کہے جانے والے سر مو فرح نے کہا ہے اب انھیں ’’محمد‘‘ کے نام سے پکارا جائے۔ 

برطانوی اخبار دا گارڈین کے مطابق انھوں نے کہا کہ میرا روڈ کا نام محمد ہے، مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ مو کا کام پورا ہوگیا، میں نے کیا حاصل کیا اور کیا کارنامے انجام دیے مجھے اب اسے بھول جانے کی ضرورت ہے۔ مو فاراح پر ان کے کوچ البرٹو سلیزر کے ساتھ ساز باز کا الزام ہے اور سلیزر کے خلاف امریکہ کی ڈوپنگ مخالف ایجنسی جانچ کر رہی ہے۔ فاراح کبھی ڈوپنگ کی جانچ میں پکڑے نہیں گئے ہیں، ان پر دو مرتبہ ڈوپنگ کے الزامات لگے ایجنسی الزامات کو ثابت نہیں کرسکی اور انھوں نے بھی ان الزامات کی تردید کی۔

محمد فرح نے اپنے ناقدوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ جھوٹ نہیں بولتی۔ میں نے اپنے کریئر میں جو حاصل کیا ہے لوگوں کو اس پر فخر ہے۔ آپ جو چاہیں لکھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا ہے، میں نے ملک کیلیے کارنامہ انجام دینے کی خاطر جان کی بازی لگادی۔

ایتھلیٹ نے مزید کہاکہ کبھی کبھی مجھے عجیب لگتا ہے بعض لوگ کچھ چیزیں اپنے حساب سے لکھنا چاہتے ہیں اور طرح طرح کی کہانیاں گھڑتے ہیں، 34 سالہ ایتھلیٹ 24 اگست کو زیورچ میں ہونے والی5 ہزار میٹر کی آخری دوڑ کے بعد میراتھن پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں، مو فاراح نے بین الاقوامی میگا ایونٹس میں 10طلائی اور 2 نقرئی تمغوں کے ساتھ اپنے کریئر کا خاتمہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ محمد فاراح بھی یوسین بولٹ کی طرح کھیل کے میدانوں سے رخصت ہوگئے ہیں تاہم آخری ریس میں ان کی رخصتی یوسین بولٹ کے مقابلے میں مختلف تھی، وہ 5 ہزار میٹر ریس میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے نقرئی تمغے کے حقدار ٹھہرے، انھوں نے برطانیہ میں جاری ورلڈ چیمپئن شپ کا آغاز10ہزار میٹر ریس میں طلائی تمغہ حاصل کرکے کیا تھا۔ اب وہ سڑک پر ہونے والی میراتھن ریس سے نیا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلیے انھوں نے اپنا برانڈ نام ‘مو’ کی جگہ اپنے پورے نام ‘محمد’ کو منتخب کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔