اپنے آپ پر قابو رکھیں

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 16 اگست 2017

ہماری ملکی سیاست کے اہم کردار زندگی کے اہم ترین اور بنیادی اسباق کہ (1) ہم میں سے بھی کوئی ناگزیر نہیں ہے(2) قانون کی حکمرانی کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا (3) انسان ٹانگوں کے سہارے نہیں بلکہ کریکٹر کے سہارے کھڑا ہوتا ہے (4) آپ دلیل کو نہیں جیت سکتے (5) ہر کام سوچ و بچار سے کرنا چاہیے ۔کو کبھی یاد نہیں رکھتے ہیں اس لیے وہ بھی پریشان رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن خود نیا سبق بن جاتے ہیں۔

امریکا کے عظیم سابق صدر لنکن نے ایک مرتبہ ایک فوجی افسرکو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ دنگا کرنے پر بڑی سخت تنبیہ کی تھی۔ اس نے کہا تھا ’’جو آدمی اپنے منصبی فرائض سے کما حقہ عہدہ برا ہونا چاہے اس کے پاس ذاتی لڑائی جھگڑے کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ کبھی ایسا اقدام نہیں کرتا جس کی سزا خود اسے بھگتنا پڑے وہ اپنے مزاج کو بگڑنے نہیں دیتا اور اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے، غلطیوں کو بھی تسلیم کرلیجیے خواہ اپنے آپ کو بے قصور سمجھتے ہوں ہر چھوٹی سے چھوٹی خطا کو بھی مان لیجیے جو بظاہر آپ ہی سے سر زد ہوئی ہو‘‘ یاد رکھیے آپ دلیل کو نہیں جیت سکتے اگر آپ دلیل کو جیت بھی جائیں پھر بھی یہ سمجھیے کہ آپ ہار گئے۔

دانش مند فرینکلن کہا کرتے تھے ’’آپ دلیل بازی، جھگڑے اوردوسرے کی مخالفت سے بھی بعض اوقات کامیابی حاصل کرلیں گے لیکن آپ کی یہ فتح بالکل بے معنی ہوگی کیونکہ آپ کو اپنے حریف کی خوشنودی کبھی حاصل نہ ہوسکے گی ‘‘ اس لیے آپ اچھی طرح سو چ لیں آپ کو کس قسم کی فتح کی ضرورت ہے علمی یاڈرامائی فتح یا انسان کی خوشنودی۔ آپ بیک وقت دونوں حاصل نہیں کرسکتے۔ امریکی رسالہ بوسٹن ٹرانسکرپٹ میں ایک مرتبہ یہ مزاحیہ شعر چھپے تھے ’’یہاں ولیم جے آرام فرمار ہے ہیں۔ جو اپنے آپ کو راہ راست پر ثابت کرتے ہوئے ختم ہوگئے جو صحیح، بالکل صحیح راستے پر چل رہے تھے، لیکن اب وہ ہمیشہ کے لیے یوں چپ ہیں۔ گو یا وہ ہمیشہ سے غلطی پر تھے‘‘

سوچ بچار ایک تکلیف دہ عمل ہے تھامس ایڈیسن نے سر جو شوار نیلڈ کا یہ اقتباس اپنی تجربہ گاہ کی ایک دیوار پر چسپاں کررکھا تھا۔ ’’ایسا کام کرنے سے ہر شخص گر یزکرتا ہے جس میں حقیقی سوچ بچارکو دخل ہو‘‘ آپ کے خیال میں میاں نوازشریف نے نااہلی سے پہلے اور نااہلی کے بعد جو رویہ اپنا رکھا ہے کیا اسی میں حقیقی سوچ بچار شامل ہے؟

ظاہر ہے آپ کا جواب ’’ نہ ‘‘ میں ہوگا اگر وہ ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچ بچار کرتے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کر لیتے اور اپنے مزاج کو بگڑنے نہ دیتے تو پھر ان کا رویہ اس رویے سے بالکل مختلف ہوتا کیونکہ آپ دلیل کوکبھی نہیں جیت سکتے ثبوت کو آپ کبھی نہیں مٹاسکتے ہیں شور شرابا، الزامات، ٹکراؤ سے آپ اپنے لیے آسانی نہیں پیدا کررہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو مزید دلدل میں دھنسا رہے ہوتے ہیں۔

ہنری فورڈ نے کہا تھا ’’میں حالات و واقعات کا رخ بدل نہیں سکتا، میں انھیں خود اپنا رخ بدلنے دیتاہوں‘‘۔ جب ہم سازشوں کا تانا بانا بنتے رہتے ہیں توہم چارلس ڈراون کے ’’مہیب اژدہوں کے ریوڑ پیدا کرنے کے سواکچھ اورنہیں کر سکیں گے اور یہ اژدہے ہمیں کھوکھلا کردیں گے اور ہماری قوت ارادی اور قوت عمل کو تباہ کردیں گے۔ یاد رکھیں سازشوں، الزامات، شورو غوغا، برا بھلا کہنے سے آپ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہوتے ہیں بلکہ یہ سب کچھ کرکے آپ اپنے کو نئی نئی مصیبتوں، پریشانیوں، اذیتوں اور بیماریوںمیں مبتلا کررہے ہوتے ہیں۔

ولیم جیمز لکھتا ہے ’’خدا ہمارے گنا ہ بخش سکتاہے لیکن اعصابی نظام کبھی معاف نہیں کرتا ‘‘ یہ ایک بوکھلا دینے والی اور تقریباً ناقابل یقین حقیقت ہے کہ بیماریوں سے ہر سال اتنے امریکی نہیں مرتے جس قدر کہ وہ پریشانیوں اور الجھنوں سے مرتے ہیں ذرا اس بات پر دھیان دیجئے کہ آپ کے پاس بڑکیں مارنے او غروروتکبر کرنے کو آخر ہے ہی کیا، کیاآپ کو معلوم ہے کہ آپ کو پاگل بننے سے کیا چیز بچائے ہوئے ہے؟

وہ بہت ہی معمولی شے ہے آپ کے ایک غدود میں خشخاش برابرآیوڈین! اگر کوئی ڈاکٹر آپ کے گردن والے غدود کو چیر ے اور ان میں جو ذراسی آیوڈین ہے نکال لے تو آپ فوراً پاگل ہوجائیں گے آپ اور پاگل خانے کے درمیان ذراسی آیوڈین حائل ہے جو ہر بازار کے دو ا فروش سے چند پیسوں میں خریدی جاسکتی ہے وہ آیوڈین جس کی قیمت تابنے کاایک ادنی سکہ ہے۔

حضرت عیسیٰ کو صلیب پر چڑھانے کے علاوہ تاریخ میں سقراط کی موت کا منظر مشہور ترین ہے۔ آج سے دس ہزار صدیاں بعد بھی لوگ افلاطون کے اس بیان کو پڑھیں گے اور اس سے لطف اٹھائیں گے جو ادبیا ت عالم ایک بے حد مو ثر اور خوبصورت پیرا گراف ہے ننگے پاؤں والے سقراط سے حسد کرنے اور جلنے والے ایتھنز کے بعض لوگوں نے اس کے خلاف الزامات عائد کیے اس پر مقدمہ چلایا گیااور اسے موت کی سزا دی گئی۔

جب سقراط کو زہر کا پیالہ پینے کے لیے دیا تو اس نے سقراط سے کہا ’’جو ہوکر رہے گا اسے سکون کے ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کرو‘‘ سقراط نے ایسا ہی کیا۔ اس نے سکون اور اطمینان کے ساتھ موت کا سامنا کیا جس نے دیو تاؤں کے بھی دل ہلا دیے ’’جو ہوکر رہے گا اسے سکون کے ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ یہ الفاظ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 399 سال قبل (ق م میں) کہے گئے تھے۔

جو مشورہ سقراط کو دیاگیا تھا وہ ہی مشورہ میاں صاحب آپ کے لیے بھی ہے کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے چاہے ریاست کا قانون ہوچاہے قدرت کا قانون ہو۔ ووٹ لینے والے پر بھی وہ ہی قانون لاگو ہوتا ہے جوووٹ دینے والے پر لاگو ہوتا ہے اگر آپ اسی طرح سے بے سکونی پیدا کرتے رہیں گے توسب سے زیادہ بے سکونی کاشکار آپ خود ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ بے سکونی کسی بھی ریاست کوقابل قبول نہیں ہوسکتی۔ آپ کے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ آپ کچھ دن اکیلے گزاریے اور اپنے رویے اور طرز عمل پر خوب سوچ بچار کیجیے۔

دنیا کی تاریخ کے تمام اہم کرداروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی سیاست کے اہم کرداروں کے آغاز اور انجام کا بھی بغور مطالعہ کیجیے جب آپ یہ سب کچھ کرچکے ہونگے تو امید ہے کہ آپ اپنے رویے اور طرز عمل میں مثبت تبدیلی لے آئیں گے۔ اور جو ہورہا ہے اسے سکون کے ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ اس کے ذمے دار آپ خود ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔