سندھ ہائی کورٹ کا نیب کو صوبے میں کام جاری رکھنے کا حکم

ویب ڈیسک  بدھ 16 اگست 2017
کیا خصوصی عدالتوں کو تالا لگادیں، نارکوٹکس اور دیگر عدالتیں بند کردیں؟، چیف جسٹس کا استفسار۔ فوٹو؛ فائل

کیا خصوصی عدالتوں کو تالا لگادیں، نارکوٹکس اور دیگر عدالتیں بند کردیں؟، چیف جسٹس کا استفسار۔ فوٹو؛ فائل

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو صوبے میں کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کرپشن کیسز میں ملوث ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی فہرست طلب کرلی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں صوبے میں نیب قوانین کی منسوخی کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے آئندہ سماعت تک نیب کو سندھ میں بھی کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے نیب انکوائریز کا سامنا کرنے والے ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی فہرست طلب کرلی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت محکموں کو خط لکھ رہی ہے کہ اب نیب کے ساتھ تعاون نہیں کیا جائے۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کے قانون سے ہمارا کام متاثر ہورہا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیے: سندھ میں نیب آرڈیننس منسوخی کا بل منظور 

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کے قوانین کا اطلاق اب سندھ پر نہیں ہوسکتا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس  دیے کہ کیا خصوصی عدالتوں کو تالا لگادیں؟ نارکوٹکس اور دیگر عدالتیں بند کردیں؟۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سندھ اسمبلی سے منظور کردہ نیب آرڈیننس منسوخی کا بل غیر آئینی قرار

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ میں نیب آرڈیننس منسوخ کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائے گا؟، جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے مابین تنازعہ ہو تو معاملہ سپریم کورٹ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی نیب آرڈیننس کی منسوخی کا بل دوبارہ منظور؛ اپوزیشن کا شدید احتجاج

ایڈیشنل اٹارنی جنرل  نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہونے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار نے بھی کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے اس حوالے سے کوئی کاپی نہیں ملی ہے۔

عدالت نے درخواستوں کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے عارف علوی، سول سوسائٹی اور دیگر کی درخواستوں پر بھی فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔