دو کروڑ پولی تھن تھیلیاں روزانہ

سید معظم حئی  جمعرات 17 اگست 2017
moazzamhai@hotmail.com

[email protected]

آپ ذرا ایک روز کی دوکروڑ پولی تھن کی تھیلیاں ایک جگہ جمع کیجیے۔ جی ہاں، استعمال شدہ پولی تھن کی تھیلیاں ذرا سی دیر میں آپ پھولی پھیلی، میلی چیکٹ تھیلیوں کا ایک پہاڑکا پہاڑ اکٹھا کرلیں گے۔ اب ذرا ان دو کروڑ تھیلیوں کو مہینے کے 30 دنوں سے ضرب دیجیے، یہ لیجیے یہ ہوگئیں ایک مہینے کی 60 کروڑ پولی تھن کی تھیلیاں جو ایک سال کی بنتی ہیں 720کروڑ یعنی سات ارب بیس تھیلیاں یہ ہم تقریباً دوکروڑ آبادی والے لاوارث شہرکراچی کی بات کررہے ہیں۔ ہم میں سے تقریباً ہر آدمی کو پولی تھن کی ان تھیلیوں سے مریضانہ حد تک عشق ہے۔

لوگ دکانداروں سے باقاعدہ فرمائش کرکے الگ الگ چیزوں کے لیے الگ الگ پولی تھن کی تھیلیاں لیتے ہیں اور دونوں ہاتھوں میں کئی کئی پولی تھن کی تھیلیاں لادے گھر پہنچتے ہیں جہاں چیزیں نکالنے کے بعد پولی تھن کی یہ تھیلیاں کوڑے میں پھینک دی جاتی ہیں اور یہ کوڑا گلیوں، محلوں، سڑکوں پر پھیلے کوڑے کا حصہ بن جاتا ہے، گو کہ پولی تھن کی یہ تھیلیاں گھروں، دفتروں، اسکول،کالجوں، سیرگاہوں ہر جگہ بے دریغ استعمال کی جاتی ہیں مگر ہم پھر بھی حساب سادہ رکھنے کے لیے کراچی کے کوئی بیس لاکھ گھر لے لیتے ہیں، ہر گھر میں صبح سے شام تک چھوٹی بڑی کم از کم دس پولی تھن کی تھیلیوں کا اوسط بھی لگالیے تو یہ روزکی بنتی ہیں کوئی دو کروڑ تھیلیاں، شہر میں ہر طرف بکھرے کوڑے کا زیادہ تر حصہ ان پولی تھن تھیلیوں پر مشتمل ہے جس میں کم ازکم روز تقریباً دو کروڑ مزید تھیلیوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

اب آپ ایک لمحے کو ذرا فرض کرلیجیے کہ اگرکراچی کا سارا کوڑا روز کے روز اٹھا بھی لیا جائے تو یہ کوڑا جس کا زیادہ تر حصہ پولی تھن کی تھیلیوں پر مشتمل ہے کہاں پھینکا جائے گا؟ جی نہیں، ان کو جلانا کوئی حل نہیں۔ ان تھیلیوں کو جلانے سے انتہائی زہریلی کیمیکل گیس مثلاً ہائیڈروجن سائنائیڈBenzo (A) Pyrene (BAP) اور دوسرے پالی اپرومیٹک ہائیڈرو کاربنز (PAHs) وغیرہ فضا میں پھیلتے ہیں جن سے انسانوں کوکینسر ہوسکتا ہے اور صرف یہی نہیں کہ یہ تھیلیاں جلائے جانے سے پیدا ہونے والے انتہائی زہریلے Dioxins کے فضا میں پھیلنے سے انسانوں کے لیے کینسر کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے بلکہ یہ انسانی جسم میں ہارمون پیدا کرنے والے Endocrine گلینڈ سسٹم کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، اس کے علاوہ یہ انسانی جسم کے بیماریوں کے خلاف قدرتی مدافعاتی نظام اور تولیدی نظام کوبھی متاثر کرتے ہیں۔ چلیے آپ اس کوڑے کو جلاتے نہیں ہیں بلکہ زمیں دفن کردیتے ہیں تو آپ آخر کتنی زمین کھود کھود کر یہ پولی تھن تھیلیاں دفن کریں گے؟ ویسے بھی یہ پولی تھن تھیلیاں نہ صرف مٹی بلکہ زیر زمین پانی کو بھی آلودہ کریں گی۔

آپ انھیں گٹر لائنوں اور ندی نالوں میں پھینکیں گے تو یہ گٹر لائنوں کو چوک کرکے جگہ جگہ سیوریج کی غلاظت کو اوور فلو کریں گی اور دوسری طرف ندی نالوں کے ذریعے سمندر میں پہنچ کر نہ صرف پانی کو آلودہ کریں گی بلکہ چھوٹے ٹکڑوں اور ذرات کی صورت میں مچھلیوں کے پیٹ میں پہنچ کر مچھلیوں کا گوشت بھی ہمارے لیے زہریلا بنائیں گی اس کے علاوہ آلودہ سمندر ہمارے موسم کے بگاڑ میں اہم حصہ لیتا ہے۔ پھر شاید ہم یہ سوچیں کہ کیوں نہ ہم کوڑے سے بجلی پیدا کرنے والے WEE پلانٹ لگالیں، ضرور لگایے مگر یہ یاد رکھیے کہ یہ پلانٹ کوڑا جلاکر بجلی پیدا کرتے ہیں اور جدید ترین پلانٹ بھی کسی نہ کسی حد تک فضا میں مختلف ذرات اور بخارات خارج کرتے ہیں۔ چنانچہ اب اگر کوڑا پولی تھن کی تھیلیوں سے بھرا ہوگا تو یہ ذرات اور بخارات انتہائی زہریلے ہوجائیں گے، جی نہیں، آپ ان پولی تھن تھیلیوں کو کسی بھی طرح محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہیں لگا سکتے، یہ ممکن نہیں ہے۔

ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ مسئلوں کے حل کے بجائے مسئلوں پر محض چیخ و پکار مچانے میں ماہر ہیں۔ ہم مسائل کے بنیادی اور مستقل حل کے بجائے عارضی چٹکلوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے اختیارات سے محروم کراچی کے میئر شہریوں میں کچرا پھینکنے کے لیے قدرتی طور پر تحلیل ہوجانے والے یعنی Biodegradable بیگز تقسیم کرتے ہیں۔ چلیے بہت اچھی بات ہے۔ سمجھے کہ شہریوں نے کوڑا ان بیگز میں بھر کر پھینک دیا پھر؟ آنے والے دنوں کے مزید کوڑے کا کیا ہوگا؟ اور کوڑے میں سب سے زیادہ شامل پولی تھن کی تھیلیوں کا کیا ہوگا؟ ایک اور مثال دیکھیے بحریہ ٹاؤن والے پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی خوشی میں پورے کراچی کا کوڑا اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہیں، بہت اچھا فیصلہ ہے۔ چلیے آپ نے پورے کراچی کا کوڑا اٹھا دیا، پھر دو چار ہفتوں میں پھر ہر طرف کوڑے کے انبار لگے ہوںگے کیونکہ یہاں تو ہر روز کروڑوں پولی تھن کی تھیلیاں پھینکی جاتی ہیں۔

آپ ان تھیلیوں کا مسئلہ حل کردیں تو کراچی کا ستر اسی فی صد شہری کوڑا ویسے ہی ختم ہوجائے گا اور ان پولی تھن کی تھیلیوں کا استعمال ختم یا بہت زیادہ کم کرنے کا صرف ایک ہی اور آسان ترین حل یہ ہے کہ لوگوں میں روز مرہ کا سودا سلف لانے کے لیے کپڑے کے تھیلے تقسیم کیے جائیں اور لوگوں کو پولی تھن کی تھیلیوں کے بجائے سودا ان کپڑے کے تھیلوں میں روزانہ ڈال کر لانے کی عادت پیدا کرنے کے لیے آگاہی اور تربیتی مہم میڈیا پر چلائی جائے۔

مختلف کنزیومر کمپنیاں، این جی اوز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز شہریوں میں کپڑے کے شاپنگ بیگز تقسیم کرسکتی ہیں جن کے ایک طرف ان کی برانڈنگ اور دوسری پولی تھن کی تھیلیوں کے نقصانات اور کپڑے کے شاپنگ بیگز استعمال کرنے کے فوائد دیے گئے ہوں۔ یہ میڈیا کے ساتھ مل کر آگہی مہم بھی چلاسکتے ہیں جس سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے مگر افسوس کہ یہ سب ایسا کچھ نہیں کرتے۔ لگتا ہے کہ حکومتوں اور سرکاری اداروں کی طرح اکثر نجی اداروں میں بھی تخلیقی سوچ اور کچھ ہٹ کر کرنے کی صلاحیتوں سے قدرتی طور پر محروم لکیر کے فقیر افراد فیصلہ ساز عہدوں پر براجمان ہیں آپ یقین جانیے جب تک اس طرح کے لوگ اس طرح کی جگہوں پر جمے بیٹھے ہیں اس شہر، اس ملک کا کچھ خاص بہتر نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ ہم کف افسوس ملتے رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔