پی اے سی کا کامسیٹس انسٹیٹیوٹ اور این ٹی ایس کے خصوصی آڈٹ کا حکم

نمائندہ ایکسپریس  جمعـء 18 اگست 2017
این ٹی ایس بہت بڑا فراڈ ہے، کنوینر کمیٹی، این ایچ اے کو کرپٹ ترین ادارہ کہنے پر اعظم سواتی اور چیئرمین شاہد اشرف میں جھڑپ۔ فوٹو: فائل

این ٹی ایس بہت بڑا فراڈ ہے، کنوینر کمیٹی، این ایچ اے کو کرپٹ ترین ادارہ کہنے پر اعظم سواتی اور چیئرمین شاہد اشرف میں جھڑپ۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے کامسیٹس انسٹیٹیوٹ کا 5 سال کا خصوصی آڈٹ کرنے اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے فنڈز کا آڈٹ کر کے 2ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی سردار عاشق گوپانگ کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آڈٹ اعتراضات 2009-10 کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کنٹریکٹ ملازمین کیلیے39لاکھ روپے کے آڈٹ پیرازپراعتراضات ختم کر دیے گئے۔ رکن اعظم سواتی نے اس موقع پر کہا کہ این ٹی ایس کی بھی آڈٹ رپورٹ دی جائے۔

کنوینر کمیٹی نے کہا کہ این ٹی ایس بہت بڑا فراڈ ہے، اس سے متعلق بہت سی شکایات ہیں۔ کمیٹی نے این ٹی ایس کے فنڈزکامکمل آڈٹ کرنے کی ہدایت بھی کردی ،اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایاکہ این ٹی ایس سے متعلق ہمیں ہدایات ہیں، خصوصی آڈٹ ہوچکا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں خصوصی آڈٹ رپورٹ کمیٹی میں پیش کردی جائے گی۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کامسیٹس میں گاڑیوں کی خریداری پر21لاکھ روپے بجٹ سے اضافی خرچ کیے گئے، کامسیٹس انتظامیہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ21لاکھ روپے گاڑیوں کی لیزنگ میں شرح منافع کی مدمیں ادا کرنا پڑے جس پرکمیٹی نے کہاکہ لیزنگ پر پیسے اضافی دینا پڑتے ہیں۔

بعدازاں کمیٹی نے یہ معاملہ نمٹادیا، ذیلی کمیٹی نے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی منظوری سے5کروڑ روپے کی تارکول ایڈوانس میں دینے کامعاملہ بھی زیر غور لایا۔ آن لائن کے مطابق اجلاس میں نیشنل ہائی ویزاتھارٹی کوکرپٹ ترین محکمہ قرار دینے پرسینیٹراعظم سواتی اورچیئرمین این ایچ اے شاہداشرف تارڑکے مابین شدید جھڑپ ہوئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔