اسپین میں داعش کی دہشت گردی

ایڈیٹوریل  ہفتہ 19 اگست 2017
 بارسلونا میں دہشتگردی کے2 واقعات ہوئے جس میں 13 افراد ہلاک اور خواتین بچوں سمیت 64 افراد زخمی ہوگئے ۔ فوٹو : فائل

بارسلونا میں دہشتگردی کے2 واقعات ہوئے جس میں 13 افراد ہلاک اور خواتین بچوں سمیت 64 افراد زخمی ہوگئے ۔ فوٹو : فائل

داعش کے عفریت نے اسپین کو شکار کرلیا۔ یہاں بھی اس کے کارندوں نے وہی انسانیت سوز طریقہ اختیار کیا کہ ایک گاڑی کا ڈرائیور بن کر واردات کرلی اور بیگناہ اسپینی شہریوں اور راہگیروں کو موت کی نیند سلادیا، اسپین میں اس سے پہلے بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے مگر اتنی سرعت کے ساتھ داعش کی طرف سے ذمے داری قبول کرنے کا مطلب صاف یہ ہے کہ اس نے عالمی حملوں کی حکمت عملی پر شدت کے ساتھ عمل شروع کردیا ہے اور اس کا یہ نعرہ کہ دنیا موت کے کلچر کا سبق جلد سیکھ جائے گی طاقت سے کچلے جانے کے قابل ہے۔

جمعرات کو ہونے والے سانحہ میں لندن کے مماثل اسٹرٹیجی اختیار کی گئی ، اسپین کے سدا بہار شہر بارسلونا میں دہشتگردی کے2 واقعات ہوئے جس میں 13 افراد ہلاک اور خواتین بچوں سمیت 64 افراد زخمی ہوگئے، دہشتگرد حملے سے پورے ملک کا سکتے میں آجانا فطری تھا، ہدف دہشتگرد نے بارسلونا کے سٹی سینٹر لاس ریمبلاس کا منتخب کیا جہاں ایک ڈرائیور نے وین راہگیروں پر چڑھا دی، جس میں ہلاکتیں ہوئیں جب کہ بارسلونا میں ہی ایک ریسٹورنٹ میں2 دہشتگردوں نے لوگوں کو یرغمال بنا لیا جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشتگرد کو مار دیا اور دوسرے کو گرفتار کر لیا۔ پاکستان ،امریکا، برطانیہ، یورپی یونین سمیت دنیا بھر نے دہشتگردی کے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پولیس کے مطابق وین کو ایک مراکشی باشندے ا دریس بو کبیر نے کرائے پر حاصل کیا تھا۔ اسی علاقے میں 2 دہشتگردوں نے ایک ریسٹورنٹ میں کئی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک دہشتگرد کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تو اس نے فائرنگ کردی، جوابی فائرنگ میں مارا گیا اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا، واقعہ کے بعد میٹرو اور ریلوے اسٹیشن بند کر دیے گئے۔ ہسپانوی پولیس کے مطابق وین کا واقعہ دہشتگردی ہے اور وین ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔

برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ گرفتار دہشتگرد کا نام ادریس بوکبیر ہے۔ داعش نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ’’سپاہیوں ‘‘ نے بارسلونا میں حملے کیے ہیں، حملہ آوروں کے نام بتائے بغیر داعش کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق اور شام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ان کے جہادیوں کو نشانہ بنانے کا رد عمل ہے۔ پاکستانی قونصل خانے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بارسلونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بالکل محفوظ ہے، تاہم بارسلونا میں موجود پاکستانیوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے قونصل خانے کی تمام ٹیلی فون لائنیں رات بھر کھلی رہیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے داعش کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی نئی نسل کو تلقین کی ہے کہ ہمارے نوجوان داعش سے منسلک تنظیموں سے بہت زیادہ محتاط رہیں کیونکہ پڑھے لکھے نوجوان داعش کا بڑا ہدف ہیں،آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا ، آرمی چیف نے آئی ایس پی آر میں انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں سے ملاقات کی اور مبارک باد دی،اس موقع پر ان کا کہنا تھا پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے، نوجوان طلباء سوشل میڈیا پر معاندانہ بیانیہ سے چوکس رہیں، داعش سے خبردار رہنے کا انتباہ بروقت ہے، داعش کے عالمی حملوں میں شدت آرہی ہے، جرمن ٹیلی وژن ووکس کے مطابق داعش نے خلافت کے قیام کے لیے جو جنگ عراق و شام میں شروع کی تھی وہاں اسے بدترین ہزیمت اور شامی و عراقی فوج کی پیشقدمی اور امریکی و اتحادی فورسز کی بمباری کے باعث رقہ ، موصل اور دیگر مورچوں سے پسپائی کا سامنا ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق داعش کا شہ رگ کی حیثیت رکھنے والے علاقوں سے انخلا اسے یورپی ملکوں پر شدید حملوں پر اکسا رہا ہے اس لیے پاکستان اور افغانستان سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کو داعش سے نمٹنے میں مشترکہ تدابیر اور دہشتگردی مخالف حکمت عملی وضع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، ادھر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں گزشتہ روز امریکی بمباری میں داعش کے45 شدت پسند ہلاک ہوگئے جب کہ جھڑپوں کے دوران ایک امریکی فوجی اور7 افغان پولیس اہلکار بھی مارے گئے، امریکی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی حصے میں داعش خراسان کے خلاف امریکی و افغان فورسز کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی سطح پر داعش کے بارے میں بیانیہ واضح ہو، جنرل باجوہ کی نوجوانوں سے اپیل ایک معنی رکھتی ہے،داعش ایک تنظیمی عفریت ہے، اس کا القاعدہ سے تقابل بھی درست نہیں، وہ وحشیانہ طرز عمل کے ساتھ پوری دنیا کو بدامنی اور دہشتگردی کے ذریعے مرعوب کرنے پر تلی ہوئی ہے، داعش نے سب سے پہلے صدام حسین کی انٹیلی جنس اور ابو غریب جیل کے قیدیوں تک رسائی حاصل کی اور ان کی ریکروٹنگ کی، عسکری تنظیمی ڈھانچہ کی استقامت کو ہولناک حملوں سے دہشت انگیز بنانے اور دنیا بھر سے نوجوان مسلم مرد و زن کی بھرتی شروع کی اور اسلام کی سربلندی کا عالمی ڈھونگ رچایا ، جس سے نمٹنے کے لیے خطے کے تمام ممالک اس عفریت کا مل کر مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔