دیر ہوچکی ہوگی

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 19 اگست 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

1973ء کا آئین پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر بنایا تھا۔ آئین بنانے والوں میں دائیں اور بائیں بازوکی تمام جماعتیں شامل تھیں۔ ولی خان، غوث بخش بزنجو، مفتی محمود، پروفیسر غفور، شاہ احمد نورانی اور مولانا ظفر احمد انصاری جیسی شخصیتیں آئین سازی کے عمل میں شریک تھیں۔

جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی بصیرت پروفیسر غفور کے لیے گائیڈ لائن تھی۔ مولانا ظفر احمد انصاری کراچی سے جماعت اسلامی کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ اخبارات گواہ ہیں کہ مولانا ظفر احمد انصاری نے ذوالفقار علی بھٹو اور حزب اختلاف کے درمیان مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1973ء کا آئین اسلامی وفاقی  سب کچھ تھا۔ اس آئین کی بناء پر ایک ٹوٹا ہوا پاکستان پھر جڑ گیا تھا۔

اس آئین کی عملداری سے عسکری اسٹیبلشمنٹ کا کردار محدود ہوگیا تھا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پہلے اسلامی ممالک کو متحد کرنے اور پھر تیسری دنیا کا رہنما بننے کا جنون پیدا ہوگیا۔ ان کے ذہن میں قرونِ وسطی کی سلطنت تھی جس کا دنیا میں پھیلاؤ بڑی فوج کی بناء پر ہوا تھا۔ یوں انھوں نے مسلسل سفارتی کوشش کر کے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو معاہدہ شملہ پر تیار کیا اور اندرا گاندھی کو آمادہ کرنے کے لیے ان کے والد پنڈت نہرو کے دوست شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کو بھی اپنے ساتھ شملہ لے جا کر ڈپلومیسی کے لیے استعمال کیا، اس طرح 90 ہزار فوجی رہا ہوئے۔ انھوں نے دو ڈویژن فوج تیار کی اور ایٹم بم کی تیاری شروع کردی۔

امریکا کو بھٹو کی ایٹم بم بنانے اور تیسری دنیا کے ممالک کو متحد کرنے کی پالیسی پسند نہ آئی۔ امریکا کے ایماء پر  ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا اور اپنے اقتدار کو آئینی تحفظ دینے کے لیے  نظریہ ضرورت کے تحت اپنے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔ ایم آر ڈی کی 1983ء کی تحریک کے نتیجے میں ان پر بین الاقوامی دباؤ پڑا تو ضیاء الحق نے پہلے اسلامی نظام کی حمایت کے نام پر ریفرنڈم کرایا اور اس ریفرنڈم کے نتائج سے یہ مطلب نکالا کہ وہ اگلے پانچ سال کے لیے صدرکے عہدے کے اہل ہوگئے ہیں۔

اس ریفرنڈم میں عوام نے ووٹ نہیں دیے۔ بہرحال پھر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے۔ضیاء الحق نے پیر پگارا کے مشورے پر ایک کمزور سیاستدان محمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کیا۔ جب قومی اسمبلی متحرک ہوئی تو سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں اور محمد خان جونیجو نے مارشل لاء کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ اب ایوانِ صدر اور قومی اسمبلی میں کشمکش پیدا ہوئی۔

ضیاء الحق نے طاقت کی بنیاد پر8ویں ترمیم کروائی اور آئین میں آرٹیکل 62,63 اور 84 شامل کیے گئے، یوں آئین کا تشخص غیر جمہوری ہوگیا۔ ضیاء الحق نے 8ویں ترمیم کی شق 58(2)B کے تحت اپنے نامزد کردہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف کردیا۔ غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو برطرف کیا۔

بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے رہنما اس وقت کے صدر فاروق لغاری دباؤکا شکار ہوئے اور انھوں نے اپنی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا۔ جب میاں نواز شریف دوسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو آصف زرداری گرفتار تھے اور کراچی میں پولیس تشدد کا شکار ہوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو کو اسلام آباد اور لاہور کی عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس کا سامنا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس وقت کی قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو کو پیشکش کی کہ اگر وہ تعاون کریں تو صدر کے قومی اسمبلی کو توڑنے کی شق ختم کر نے کے لیے آئینی ترمیم کرنے کو تیار ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کی پیشکش قبول کرلی، یوں پارلیمنٹ مستحکم ہوگئی۔

میاں نواز شریف اس وقت آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے نقصانات کا اندازہ  نہ لگاسکے۔ جب بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر اتفاق ہوا تو اس تاریخی میثاق پر دستخط کر کے دونوں رہنماؤں نے عہد کیا کہ وہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد آمر کی آئین میں کی گئی ترامیم کو ختم کریں گے، عوام کے ریاست کے معاملات کے بارے میں جاننے کے حق کی توثیق کریں گے اور صوبائی خودمختاری دینے کے لیے آئین میں ترامیم کریں گے۔

صدر زرداری اور میاں صاحب کی کوششوں سے آئین میں 18ویں ترمیم ہوئی۔ صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہوا، صوبوں کو خودمختاری ایک حد تک ملی، عوام کے جاننے اور ریاست کے ہر شہری کو تعلیم دینے کے فریضے کے لیے آرٹیکل 19-A اور 25-A شامل ہوئے۔ آئین کی شقیں 62 اور 63 موجود رہیں۔ اس ترمیم سے ملک کا مجموعی طور پر فائدہ ہوا۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جب پختون خواہ کے وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت پختون خواہ کو بجلی پیدا کرنے کی رائلٹی دی جائے اور صوبے کو ملنے والی گرانٹ بڑھائی جائے۔جب 2013 کے انتخابات ہونے والے تھے تو  آرٹیکل 62 اور 63 پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے ریٹرننگ افسروں نے عوام کے سامنے جانے والے امیدواروں کا احتساب شروع کردیا۔

یہ احتساب اسلامیات کے مضمون سے متعلق سوالات کے حوالے سے تھا۔ معروف صحافی ایاز امیر کے خلاف ان کے مخالف امیدوار نے یہ عرضداشت داخل کی کہ ایاز امیر نے اپنے ایک کالم میں بالواسطہ طور پر شراب نوشی کا ذکر کیا ہے۔ ریٹرننگ افسر نے ایاز امیر کو انتخاب کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ یہی صورتحال مختلف حلقوں میں ہوئی۔

یہ دنیا کا واحد انتخاب تھا جہاں انتظامی افسروں کو ممکنہ امیدواروں کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کا اختیار تھا۔ بہرحال قومی ذرایع ابلاغ اور بین الاقوامی سطح پر جب ان شقوں کے استعمال سے عوام کے امیدواروں کے انتخاب کے حق کو سلب کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مبصرین یہ کہنا شروع ہوگئے کہ الیکشن کے بجائے سلیکشن ہے تو پھر متاثرہ امیدواروں کی اپیلیں منظور ہوئیں۔

میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ میاں صاحب اپنی نااہلی کے بعد اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور لوٹے تو انھوں نے داتا دربار کے جلسے میں یہ تجویز پیش کی کہ آئین میں کی گئی آمر کی ترامیم ختم ہونی چاہیئیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو، ولی خان، غوث بخش بزنجو، مفتی محمود، پروفیسر غفور، شاہ احمد نورانی اور شیر باز مزاری کا بنایا ہوا آئین بحال ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے نواز شریف کی تجویز کو مسترد کردیا۔ عمران خان اس وقت نواز شریف فوبیا کا شکار ہیں اور عوامی طاقت حاصل کرنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی کھچی ہوئی لکیر پر چلنے کو اقتدار حاصل کرنے کا راستہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے یہ اعلان کردیا کہ وہ ایک آمر کی نافذ کردہ ترامیم کے لیے لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کریں گے۔

شاید سراج الحق نے یہ تصور کرلیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی نااہلی کے بعد ملک کرپشن سے پاک ہونے والا ہے اور ان کے ذہن میں سعودی عرب یا طالبان جیسی حکومتوں کا تصور ہے۔ اس بناء پر انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ان شقوں کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے مگر مولانا فضل الرحمن ان ترامیم پر بحث کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان اور بلاول بھٹو اور آصف زرداری اس حقیقت کو نظرانداز کررہے ہیں کہ آمر کی نافذ کردہ یہ شقیں ہمیشہ منتخب نمایندوں کی گردنوں کو قلم کرنے والی تلواریں ہیں۔ جب بھی اسٹیبلشمٹ کسی منتخب نمایندے کو سیاست سے باہر کرنا چاہے گی تو یہ شقیں متحرک ہوجائیں گی۔

میاں نواز شریف اپنی سیاست کے 32 برسوں کے بعد یہ حقیقت سمجھ سکے، بلاول اپنی والدہ کی سیاست سے سیکھ نہیں پارہے اور عمران کو اقتدار میں آنے کی جلدی ہے، یوں جب یہ سب مستقبل میں میاں صاحب جیسی صورتحال کا شکار ہونگے تو اس وقت پھر بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔