حمایت علی شاعر بانوے برس کے ہوگئے (حصہ سوم)

یونس ہمدم  ہفتہ 19 اگست 2017
hamdam.younus@gmail.com

[email protected]

فلم دامن کا گیت میڈم نور جہاں کی آواز میں تھا اور پھر سونے پہ سہاگہ منجھی ہوئی اداکارہ صبیحہ خانم کی خوبصورت اداکاری نے حمایت علی شاعر کے اس گیت کی ہر طرف دھوم مچا دی تھی اور خوش قسمتی یہ کہ دامن کے اس گیت پر پھر حمایت علی شاعر کو بہترین گیت نگار کے ایوارڈ نگار فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس فلم میں احمد رشدی کی آواز میں گایا ہوا ایک اور گیت بڑا مشہور ہوا تھا جس کے بول تھے:

واللہ سر سے پاؤں تلک موجِ نور ہو
قدرت کا شاہکار ہو تم رشکِ حور ہو

اور اسی فلم میں حمایت علی شاعر نے ایک بہت ہی اثرانگیز نعت بھی لکھی تھی۔ جس کے بول تھے:

اے حبیب کبریا اے رحمت للعالمین
آپ کے در کے سوا میرا یہاں کوئی نہیں

یہ نعت بھی فلم میں بڑی پسند کی گئی تھی اور اس طرح فلم ’’دامن‘‘ کی کامیابی نے حمایت علی شاعر کے دامن کو شہرت کے موتیوں سے بھردیا تھا۔ اب لاہور کی فلم انڈسٹری میں ان کا بھی ایک بڑا مقام بن گیا تھا۔ اسی دوران ترقی پسند مصنف ریاض شاہد کی لکھی ہوئی ایک فلم ’’خاموش رہو‘‘ کو ہدایت کار جمیل اختر ڈائریکٹ کر رہے تھے۔ اس فلم میں حبیب جالبؔ کے گیت بھی تھے جیسے ایک گیت تھا ’’جاگنے والو جاگو‘ مگر خاموش رہو‘‘ یہ فلم کا تھیم سانگ تھا۔ اس فلم کے ہدایت کار جمیل اختر اور موسیقار خلیل احمد تھے۔ ہدایت کار جمیل اخترکی خواہش پر حمایت علی شاعر سے بھی ایک گیت لکھوایا گیا جس کے بول تھے:

محبت تیری بک جائے گی دولت مند کے ہاتھوں
سپاہی لوٹ کر آ جا میں نے تو پریت نبھائی
سانوریا رے نکلا تو ہرجائی

یہ گیت گلوکارہ مالا نے گایا تھا اور یہ بھی مذکورہ فلم کا سپرہٹ گیت تھا۔

اب حمایت علی شاعر ایک معتبر نغمہ نگار بھی تھے اور مقبولیت میں بھی آگے آگے تھے۔

اسی دوران فلم ’’مجاہد‘‘ کے لیے حمایت علی شاعر نے ایک رزمیہ گیت بھی لکھا تھا یہ فلم 3 ستمبر 1965ء کو نمایش کے لیے پیش ہوئی تھی اور 6 ستمبر 1965ء کو ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی جنگ چھڑ گئی تھی ہندوستان کی جارحیت کے خلاف ساری قوم متحد ہوگئی تھی حمایت علی شاعر کا لکھا ہوا رزمیہ گیت اس وقت ایک جنگی ترانے کی صورت میں ڈھل گیا تھا جسے گلوکار مسعود رانا نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ گایا تھا۔ جس کے بول تھے:

ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن
آج مظلوم ظالم سے ٹکرائیں گے
اپنی طاقت زمانے سے منوائیں گے
سامراجی خداؤں پہ چھا جائیں گے
ساتھ ہیں مرد و زن سر پہ باندھے کفن
ساتھیو‘ مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن

اس جنگی نغمے کی دھن موسیقار خلیل احمد نے بنائی تھی اور یہ نغمہ جنگ کے دنوں میں پابندی کے ساتھ پاکستان کے ہر ریڈیو اسٹیشن سے بار بار نشر ہوتا تھا اور ساری قوم کے جذبہ ایمانی کو تازہ کرتا تھا اور سرحد پہ لڑتے ہوئے صف شکنوں اور مجاہدوں کے حوصلوں کو بھی خوب گرماتا تھا، اس ترانے نے ساری قوم کے دل جیت لیے تھے۔

اب میں آتا ہوں پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’’نائلہ‘‘ کی طرف جسے مشہور ایور نیو اسٹوڈیو لاہور کے مالک آغا جی۔اے گل نے پروڈیوس کیا تھا اور فلم کے ہدایت کار شریف نیئر تھے اس فلم کے گیت نگار قتیل شفائی تھے اور وہ کئی گیت بھی لکھ چکے تھے مگر ہدایت کار شریف نیئر کے کہنے پر حمایت علی شاعر نے ’’نائلہ‘‘ کے لیے ایک گیت لکھا تھا۔ جو ڈوئیٹ کی صورت میں تھا جسے مسعود رانا اور مالا نے گایا تھا۔ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے مرتب کی تھی اور گیت کے بول تھے:

دور ویرانے میں ایک شمع ہے روشن کب سے
کوئی پروانہ ادھر آئے تو کچھ بات بنے

اس گیت کے حسن میں اداکارہ شمیم آرا اور سنتوش کمار کے فنکارانہ جلووں نے بھی اور اضافہ کردیا تھا پھر اسی زمانے میں مشہور ادیب، صحافی علی سفیان آفاقی نے ’’کنیز‘‘ کے نام سے اپنی ذاتی فلم کا آغاز کیا تھا۔ آفاقی صاحب سے میری ان دنوں کی بڑی خوشگوار ملاقاتیں رہی ہیں جب میں نگار ویکلی کے شعبہ ادارت میں شامل تھا اور لاہور سے علی سفیان آفاقی کراچی میں نگار ویکلی کے دفتر واقع نزد میٹروپول ہوٹل آتے رہتے تھے اور ان کی شگفتہ گفتگو اور ادبی انداز کے لطیفوں سے میں اور نگار کے معاون ایڈیٹر بشیر نیاز بھی بڑا لطف لیتے تھے۔

ایڈیٹر الیاس رشیدی کے دفتر میں علی سفیان آفاقی اور ابراہیم جلیس کی دلچسپ گفتگو کے ساتھ دونوں کے خوب قہقہے بھی گونجتے تھے اور زیادہ جاندار قہقہے ابراہیم جلیس کے ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں علی سفیان آفاقی لاہور میں نگار ویکلی کے نمایندہ خاص بھی ہوا کرتے تھے۔ اب میں پھر آفاقی صاحب کی فلم ’’کنیز‘‘ کی طرف آتا ہوں۔ کنیز کے مصنف اور فلمساز علی سفیان آفاقی تھے اور اس کی ہدایت کاری کے فرائض حسن طارق کے سپرد تھے۔ فلم کے موسیقار خلیل احمد تھے اور ان دنوں، خلیل احمد موسیقار اور حمایت علی شاعر کی جوڑی کی بھی بڑی مقبولیت تھی۔ کنیز میں حمایت علی شاعر نے بڑے خوبصورت گیت لکھے تھے۔ جو احمد رشدی، مسعود رانا اور مالا کی آوازوں میں ریکارڈ کیے گئے تھے چند مشہور گیتوں کے مکھڑے درج ذیل ہیں:

٭پیار میں ہم اے جانِ تمنا‘ جان سے جائیں تو مانو گے
٭دونوں طرف ہے آج برابر ٹھنی ہوئی
٭جب رات ڈھلی تم یاد آئے‘ ہم دور نکل آئے
اس یاد کے سائے سائے

علی سفیان آفاقی کی فلم ’’کنیز‘‘ نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور زیبا کے ساتھ وحید مراد ہیرو تھا۔ اب میں آتا ہوں اقبال شہزاد کی شہرہ آفاق فلم ’’بدنام‘‘ کی طرف۔ ’’فلم ’’بدنام‘‘ سے پہلے فلمساز و ہدایت کار اقبال شہزاد نے ’’سفر‘‘ کے نام سے ایک فلم کا آغاز کیا تھا۔ مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ فلم نہ بن سکی تھی اس فلم کے لیے اقبال شہزاد نے حمایت علی شاعر سے ایک گیت لکھوایا تھا، جس کے بول تھے:

ہم بھی مسافر تم بھی مسافر
کون کسی کا ہوئے
کاہے چپ چپ روئے

پھر جب اقبال شہزاد نے فلم ’’بدنام‘‘ بنائی تو انھوں نے بدنام کے سارے گیت مسرور انور سے لکھوائے مگر اقبال شہزاد نے حمایت علی شاعر کا مذکورہ یہ گیت بھی فلم ’’بدنام‘‘ میں شامل کردیا تھا اور اس گیت کو بھی بڑی شہرت ملی تھی۔ حمایت علی شاعر نے اور بھی بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے تھے۔ فلم ’’میرے محبوب‘‘ اور ’’تصویر‘‘ کے نام شامل ہیں۔ فلم ’’تصویر‘‘ کے مکالمے بھی لکھے تھے۔ اب یہاں سے حمایت علی شاعر ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ اور پھر فلمسازی کے میدان میں خم ٹھونک کر اتر جاتے ہیں۔ حمایت علی شاعر کی لیجنڈ ہیرو محمد علی کے ساتھ بڑی بے تکلف دوستی اور بڑے گہرے اور پرانے مراسم تھے۔ یہ اس وقت کے مراسم تھے جب حمایت علی شاعر حیدرآباد میں ریڈیو سے وابستہ تھے۔

محمد علی بھی ریڈیو پر پروگرام کرتے تھے اور جب حمایت علی شاعر نے حیدرآباد میں اسٹیج ڈرامہ کیا تو محمد علی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اداکارہ زیبا اب علی زیب ہو چکی تھیں اور حمایت علی شاعر نے فلم ’’لوری‘‘ کے نام سے اپنی پہلی فلم کا آغاز کیا تھا۔ خلیل احمد ہی کو فلم کا موسیقار لیا اور کئی مہینوں کی محنت کے ساتھ فلم ’’لوری‘‘ کا اسکرپٹ لکھا۔ اور جب فلم کے اسکرپٹ کی ساری نوک پلک درست کر لی تو فلم کی ہدایت کاری کے لیے ایس سلیمان کو وہ اسکرپٹ تھمادیا پھر ایس سلیمان نے اس کا اسکرین پلے لکھا اور فلم کو ایورنیو اسٹوڈیو میں سیٹ کی زینت بنا دیا گیا۔

فلم کی باقاعدہ مہورت ادا کی گئی اور جس دن مہورت تھی اس دن ایورنیو اسٹوڈیو کو اس دور کی روایت کے مطابق خوب سجایا گیا تھا۔ مہورت کا شاٹ اداکارہ زیبا اور محمد علی پر فلمایا گیا تھا۔ فلم کے پہلے دن سے ہی فلم ’’لوری‘‘ کے چرچے شروع ہو گئے تھے اور فلم کے سیٹ پر آتے ہی یہ فلم تقسیم کار کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلی گئی تھی اور یہ حمایت علی شاعر کی بطور فلمساز پہلی کامیابی تھی۔ ابتدا میں فلم ’’لوری‘‘ کے لیے ایک خوبصورت غزل گلوکار مہدی حسن کی آواز میں ایورنیو اسٹوڈیو ہی میں ریکارڈ کی گئی جس کے بول تھے:

خداوندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں
تمنا جو نہ پوری ہو وہ کیوں پلتی ہے سینے میں

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔