بخل، ایک معاشرتی بُرائی

عبد القادر شیخ  جمعرات 14 فروری 2013
بخیل کی سب سے بڑی مثال قرآن حکیم میں قارون کی دی گئی ہے۔  فوٹو فائل

بخیل کی سب سے بڑی مثال قرآن حکیم میں قارون کی دی گئی ہے۔ فوٹو فائل

’’بخیل جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔‘‘ (الحدیث)

بخل بہ معنی کنجوسی، بخیل اسی سے بنا ہے۔ اس کی ضد سخاوت یعنی فیاضی ہے۔ قرآن حکیم میں اس کا ذکر 10مقامات پر واضح طور پر جب کہ 6 مقامات پر ضمناً آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ مال میں، جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیاہے، بخل کرتے ہیں، وہ اس بُخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں بلکہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں، قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اور آسمانوں اور زمین کا وارث اللہ ہی ہے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ کو معلوم ہے۔‘‘ (آل عمران: 180)

اس آیۂ مبارکہ میں اس بخیل کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کے دیے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا، حتیٰ کہ اس میں سے وہ اپنے اوپر عائد زکوٰۃ ، جو کہ اس پر فرض ہے، نہیں نکالتا۔ چناںچہ اسی ضمن میں ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اس کے مال کو ایک زہریلا اور خوف ناک سانپ بنا کراس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ وہ سانپ اس کی بانچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)

بخیل کواللہ کی مخلوق اور اللہ کی راہ میں کیے جانے والے کاموں سے بالکل رغبت نہیں ہوتی۔ اُس کی محبت کا محور تو صرف اُس کی اپنی دولت ہوتی ہے۔ وہ اِسی کو زندگی کو مقصودِ نظر جانتا اور مانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ ’’ اللہ کسی اترانے والے شیخی باز سے محبت نہیں کرتا، جو آپ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں۔ سنو! جو بھی منہ پھیرے، اللہ بے نیاز اور سزاوارِ حمد و ثناء ہے۔‘‘ (الحدید:24)

بخل کے بارے میں ایک اور مقام پر نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’ اپنے آپ کو بخل سے بچاؤ کہ اس نے پہلی اُمتوں کو ہلاک کردیا ہے۔ پس مسلمانوں کے شایان شان نہیں کہ وہ بخل کریںاور جہنم میں جائیں۔‘‘ بخل درحقیقت مال کی محبت ہے اور مال کی محبت قلب کو دنیا کی طرف متوجہ کردیتی ہے جس سے اللہ کی محبت ضعیف و کمزور ہو جاتی ہے۔

بخل کی تعریف میں یہ بھی لکھا ہو ا ہے کہ ’’ کنجوسی اور تنگ دلی دونوں ہی بخل کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ اسراف کی ضد ہے۔ یعنی اپنے حاصل شدہ مال کو وہاں خرچ کرنے سے روکنا جہاں اسے روکنا نہیں چاہیے۔‘‘ بخل سے مراد عام طور پر کنجوس آدمی کو لیتے ہیں، جسے بخیل کہا جاتا ہے، جو دنیا میں روپیہ پیسہ جمع کرکے رکھتا ہے، جسے نہ وہ اپنی ذات پر اور نہ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔

یہ تعریف دنیاوی لحاظ سے ہے۔ شرعی اعتبار سے ایسے شخص کو بخیل کہا جاتا ہے جو نہ اللہ کی راہ میں اور نہ ہی نیکی اور بھلائی کے کام میں خرچ کرے۔ اس لحاظ سے وہ شخص بھی بخیل ہے جو اپنی ذات پر، اپنے عیش و آرام پر اور اپنی دل چسپیوں پر تو خوب خرچ کرتا ہے مگر اللہ کی راہ میں کچھ نہیں خرچ کرتا، اور اگر کرتا ہے تو یہ سوچ کر کہ اس کے عوض اسے شہرت، نام و نمود یا کسی اور سے کتنی منفعت حاصل ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہر گز پسند نہیں فرماتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہوں اور فخر جتاتے ہوں۔

بخیل کی سب سے بڑی مثال قرآن حکیم میں قارون کی دی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق یہ شخص بنی اسرائیل میں سے تھا اور فرعون سے جا ملا تھا اور اس کا خاص مقرب بن گیا تھا۔ یہ موسٰی ؑ کی دعوت کا دوسرا بڑا مخالف تھا۔ انجیل میں اس کی دولت کا کہیں ذکر نہیں ہے مگر یہودی روایات سے پتا چلتا ہے کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا۔ اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے کے لیے300 خچر مقرر تھے۔ (جیوش انسائیکلو پیڈیا، جلد 7،ص 556)

ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ قارون تھا تو قوم موسیٰ سے لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے اس قدر خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقت ور لوگ بہ مشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترا مت، اللہ تعالیٰ اترانے والوں سے محبت نہیں کرتا اور جو کچھ تجھے اللہ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی بھی تلاش کر اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول اور جیسا کہ اللہ نے تیرے اوپر احسان کیا ہے، تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو۔ یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو نا پسند کرتا ہے۔

قارون نے کہا یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کے مطابق دیا گیا ہے۔ کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کردیا، جو اس سے بہت زیادہ قوت والے تھے اور جمع پونجی والے تھے اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی۔ پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی پوری قوم کے مجمع سے نکلا تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔

یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے۔ ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی، جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر والوں میں ہوں۔ (آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہو ئی اور نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا۔‘‘ (سورہ قصص آیات 76 تا 81)

ایک اور مقام پر فرمایا: ترجمہ: ’’ اگر وہ تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وہ تمہارے کیے ظاہر کر دے گا۔ خبردار تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بُلائے گئے ہو۔ تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم محتاج۔ اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے (بخیل) نہ ہوں گے۔‘‘ (محمد: 37-38)

احادیث مبارکہ میں بھی بخیل کی شدید مذمت آئی ہے۔ ارشاد نبوی ؐہے: ’’سچے مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں ہو سکتیں: ۱۔ بخل ۲۔ بد خُلقی‘‘(ترمذی)

ایک اور موقع پر نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا ’’بخیل جنت کا وارث نہیں ہو سکتا۔‘‘ (مسند احمد)

نبی اکرمؐ نے جو دعائیں مانگی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’ اے اللہ مجھے بخیل ہونے سے بچا۔‘‘ (صحیح بخاری)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔