متاثرین لیاری ایکسپریس وے کی 2یوم میں تصدیق کی جائے، سندھ ہائیکورٹ

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 15 فروری 2013
اب تک400متاثرین کی درخواستیں موصول ہوئیں اور107 کوجانچ کے بعد درست قراردیا گیا،کمشنر کراچی ہاشم رضازیدی۔ فوٹو: فائل

اب تک400متاثرین کی درخواستیں موصول ہوئیں اور107 کوجانچ کے بعد درست قراردیا گیا،کمشنر کراچی ہاشم رضازیدی۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کی تصدیق کاعمل دویوم میں مکمل کرکے معاوضہ اداکرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے قراردیا کہ دو دن میں تصدیق شدہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی نہ ہوئی تو عدالت متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے گی،جمعرات کوجسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے موقع پر کمشنر کراچی سید ہاشم رضازیدی و دیگر افسران پیش ہوئے، کمشنرکراچی نے عدالت کو بتایا کہ اب تک لیاری ایکسپریس وے کے 1402دعویدار سامنے آئے ہیں جن میں سے 400 متاثرین کی درخواستیں موصول ہوئیں اور 107متاثرین کوجانچ کے بعد درست قراردیا گیا۔

 

عدالت نے حکم دیا کہ تصدیقی عمل تیز کیا جائے اور دو دن میں متاثرین کو معاوضہ ادا کردیا جائے، اخترجمال،حنیف اور محمدبلال سمیت 206درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر 8اگست 2012 کو مدعاعلیہان کو حکم دیا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو3ہفتوں میں معاوضہ ادا کیا جائے، حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے وفاقی مالی بجٹ میں رقم مختص کردی گئی ہے اور متاثرین کو ادائیگی کردی جائے گی مگر عدالتی حکم کے باوجود معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

مدعاعلیہاں کے خلاف توہین عدالت کی کاررروائی کی جائے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار گلبرگ ٹائون اور گلشن اقبال کے علاقوں میں واقع سونگل نالا،قائداعظم کالونی،گلشن مصطفی اور بھنگوریہ گوٹھ کے رہائشی ہیں تاہم لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے ان کے گھروں کو مسمار کردیا گیا اور فی کس 50ہزارروپے معاوضہ اور متبادل پلاٹ دینے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی مگرتاحال معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، درخواست گزاروں کی اراضی لیزاور قانونی تھی ،عدالت نے ہدایت کی تھی درخواست گزاروں کو ان کی اراضی کی مالیت کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔