حکومت آئین کے آرٹیکل 62، 63 میں ترمیم نہیں کر سکے گی، طاہر القادری

ویب ڈیسک  پير 21 اگست 2017
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف ضرور ملے گا، طاہر القادری۔ فوٹو: اسکرین گریب

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف ضرور ملے گا، طاہر القادری۔ فوٹو: اسکرین گریب

 لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کرنے کی نہ تو جرات ہو گی اور نہ ہی انہیں ترمیم کا موقع ملے گا۔

لندن روانگی سے قبل لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ صرف 4 روز کے لئے ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں، عید سے قبل وطن واپس آ جاؤں گا، میں کہیں نہیں جا رہا لیکن انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کے لئے بیرون ملک آنا اور جانا معمول رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ سامنے آئے گی اور حکمرانوں کو حساب دینا ہو گا، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف ملے گا اور مظلوموں کو انصاف ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: کرپٹ اور قاتل ’’انقلاب‘‘ کا لفظ منہ سے نکالتے اچھے نہیں لگتے

سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم نہیں کر سکے گی، انہیں ترمیم کرنے کی نہ جرات ہو گی اور نہ ہی موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کو تیسری بار بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دیا ہے، شریف خاندان کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے نیب کے سامنے پیش ہونا چاہیے لیکن یہ لوگ بھاگ رہے ہیں۔ نیب کو بھی اپنی ساکھ بہتر بنانے کا موقع ملا ہے، امید ہے نیب بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، اگر شریف فیملی کے لوگ پیش نہیں ہوتے تو نیب کو انہیں گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: جن کی اوقات ایک ’’اقامہ‘‘ تھی وہ 3،3بار وزیراعظم بن گئے

محمود اچکزئی کے کشمیر کے حوالے سے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ان کا بیان لغو تھا، یہ لوگ ہمیشہ سے ہی ملک دشمن طاقتوں کے ایجنٹ رہے ہیں، ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان کے مخالف، ملک دشمن اور پاکستان کے خلاف بات کرنے والے لوگ پارلیمنٹ میں موجود ہیں، یہ اس نظام کی خوبی ہے جو نواز شریف اور ان جیسے کرپٹ حکمرانوں نے بنایا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔