آج ہی شکریہ ادا کیجیے!

آمنہ احسن  پير 21 اگست 2017
 یہ ہمارا قومی وطیرہ بنتا جارہا ہے کہ جب ہمارے ہیرو اِس دنیا سے رخصت ہوجائیں تو اُن کی قدر و اہمیت کا اظہار کیا جائے۔ فوٹو: فائل

یہ ہمارا قومی وطیرہ بنتا جارہا ہے کہ جب ہمارے ہیرو اِس دنیا سے رخصت ہوجائیں تو اُن کی قدر و اہمیت کا اظہار کیا جائے۔ فوٹو: فائل

گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر اپنے بہت سارے دوست، احباب کو ڈاکٹر روتھ  فاؤ کی آخری رسومات ادا ہونے پر ’محسن انسانیت‘، ’انسان دوست‘، ’شکریہ روتھ فاؤ‘ اور ’مدر ٹریسا الوداع‘ جیسے کلمات لکھتے، کہتے دیکھ رہی ہوں۔ بلاشبہ روتھ فاؤ کا شکریہ ادا کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے لیکن ایک خیال ذہن میں یہ کوندا کہ، ہم میں سے کتنے افراد ایسے ہیں جنہوں نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کو اُن کی زندگی میں شکریہ کہا ہوگا؟ کتنے افراد نے اُن کی حیات میں خراجِ تحسین پیش کیا ہوگا؟

خود ہی بتلائیے کہ ہم میں سے کس نے دُکھی اور اذیت میں مبتلا انسانوں کی مسیحائی کرنے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ کے پاس جاکر اُن کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا ہوگا؟ شاید آٹے میں نمک جتنے بھی نہ ہوں۔ یہ ہمارا قومی وطیرہ بنتا جارہا ہے کہ جب ہمارے ہیرو اِس دنیا سے رخصت ہوجائیں تو اُن کی قدر و اہمیت کا اظہار کیا جائے۔ اب وہ بھی نہیں معلوم محض دنیا دکھاوے کیلئے رسمی کلمات کی ادائیگی ہیں یا حقیقتاً احساس ہوتا ہے کہ جانے والے کا خلا پُر ہونا مشکل ہے اور ہماری قوم کو ایسے قابلِ قدر انسان کی ضرورت تھی۔

عبد الستار ایدھی جس کی انسان دوستی اور سادہ طبعیت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں اُس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ ایسا دوبارہ ملنا کتنا دشوار ہے۔ سوشل میڈیا پر جذبات کا طوفان اُٹھا دینے والوں نے شاید ہی کبھی کسی موقع پر ذرا وقت نکال کر ایدھی صاحب سے مل کر اُن کا شکریہ ادا کیا ہو۔ کون ہے جس نے ایدھی صاحب کو گلے لگا کر اُن کی تمام تر کاوشوں کو سراہا ہو۔ کیا کسی کی خدمات کا اعتراف اُس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہی کرنا چاہیئے؟

ہم کیوں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا آج ہی شکریہ ادا نہیں کرتے؟ ہم کیوں فیصل ایدھی کو آج ہی انسانیت کا مددگار کہہ کر اپنی جانب سے اُس کا ہاتھ نہیں بٹاتے؟ کیا ہم اپنے پیاروں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کو گلے لگا کر اُس کا شکریہ ادا کرتے ہیں؟ وہ کیا جذبہ ہے جو امتحان میں کامیاب ہونے پر اپنے اساتذہ کے ہاتھ چومنے سے آپ کو روک دیتا ہے؟ ہم میں سے کتنے ایسے افراد ہیں جو اپنے والدین کی محبت، شفقت اور محنت کا اعتراف کرتے ہیں، اُن کے متشکر ہیں؟ بہن بھائی ہو یا دوست کبھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہا کہ فلاں موقع پر تم میرے ساتھ نہ ہوتے تو نجانے میں کیسے سنبھل پاتا؟

نفرت کا اظہار برملا کرنے والے ہم سب محبت کا اظہار کیوں نہیں کر پاتے؟ جب کوئی اِس دنیا سے جاچکا تو اُس سے محبت کا اظہار کرنا، اُس کا شکریہ ادا کرنا یا اُسے اعزازات سے نوازنا، اب بھلا کس کام کا؟ قوم کے زندہ محسنوں کو سلام کیجئے، اُن کی زندگی میں یہ احساس دلائیے کہ وہ ہمارے لئے اہم ہیں اور انہوں نے جو اِس قوم کے لئے کیا، اُس کا صلہ دینا ممکن نہیں۔ اپنے ساتھ بیٹھے والدین، شریک حیات، بہن بھائیوں اور دوستوں کو آج ہی اُن کی جانب سے دیئے گئے پیار اور اعتماد کا شکریہ ادا کیجئے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریراپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک و ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کیساتھ  [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس بھی

آمنہ احسن

آمنہ احسن

بلاگر آمنہ احسن ماس کمیونیکیشن میں گریجویٹ ہیں، کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں سے پہلے عوام کو احتساب کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔