مسلم اکثریتی علاقے میں دھماکے میں ملوث بھارتی فوج کا کرنل ضمانت پر رہا

ویب ڈیسک  پير 21 اگست 2017
دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باعث متعدد گواہ اپنے بیانات سے پھر چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باعث متعدد گواہ اپنے بیانات سے پھر چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے 2008 کے مالیگاؤں دھماکا کیس میں ملوث لیفٹیننٹ کرنل شری کانت پرساد پروہت کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس آر کے اگروال کی زیرصدارت بنچ نے بھارتی فوج کے کرنل پروہت کی ضمانت کی درخواست منظور کی۔ کرنل پروہت گزشتہ 9 برس سے جیل میں تھا، جب کہ دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باعث اس کیس کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے اور متعدد گواہ اپنے بیانات سے پھر چکے ہیں۔

ریاست مہاراشٹرا کے شہر مالیگاؤں کے مسلم اکثریتی علاقے میں یہ بم دھماکہ 29 ستمبر 2008 میں ہوا تھا جس میں 7 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکوں کے الزام میں ایک خاتون سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فرد جرم کے مطابق کرنل پروہت کا تعلق ہندو انتہا پسند تنظیموں سے ہے جن کے کہنے پر اس نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کےلیے یہ دھماکا کیا۔ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بھی رواں سال ممبئی کی ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔