حیدرآباد دکن کی یادیں؛ مسلمانان برصغیر کی عظمت رفتہ کا قصّہ

 منگل 22 اگست 2017
اس زمانے میں حیدرآباد سول سروس قائم تھی۔ اول تعلقدار اور ناظم کا گریڈ 500 اور 900 ہوتا تھا۔ فوٹو : فائل

اس زمانے میں حیدرآباد سول سروس قائم تھی۔ اول تعلقدار اور ناظم کا گریڈ 500 اور 900 ہوتا تھا۔ فوٹو : فائل

کہنے کو ہم حیدرآبادی کہلاتے ہیں، لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم خود اس حقیقت سے بہت کم واقف ہیں کہ حیدرآباد کی عظمت ِ رفتہ کیا تھی۔ یہ وہ شہر ہے جو ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست کا صدر مقام تھا۔ یہاں کی تہذیب، شان و شوکت اور لوگوں کے ادب و اخلاق بے مثال تھے۔

بزرگانِ دِین نے اپنے مبارک قدموں سے اس خطہ زمین کو مرجعِ خلائق بنایا۔ اہل علم دور دور سے یہاں آئے۔ اتحاد اور بھائی چارہ خواص و عوام کی فطرت میں داخل تھا۔ شرافت اور ملنساری رہن سہن کا جز تھی۔ آج کی کاروباری زندگی میں بہت سی اقدار بدل گئی ہیں۔ اگر کسی سے عہد ِ رفتہ کی بات کی جائے تو شاید لوگ اسے قصوں، کہانیوں پر محمول کریں۔ شہر میں چند گنی چنی ہستیاں رہ گئی ہیں جنھیں ہم حیدرآباد کی نادر ہستیوں میں شمار کرسکتے ہیں۔

تبھی نواب شاہ عالم خاں پر نگاہ پڑیجو بِلاشبہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں اور جن سے ملنا، انھیں دیکھنا، ان کی یادوں کو سمیٹنا ایک ایسا خوشگوار تجربہ ہے، جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان کام نہیں ۔ نواب صاحب 1924ء میں پیدا ہوئے۔ عمر کی نوے بہاریں دیکھ چکے اور ماشاء اللہ تندرست اور توانا ہیں۔انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے سنہرے دور میں تعلیم حاصل کی۔ میٹرک تک کی تعلیم انگریزی ذریعہ تعلیم سے ہوئی پھر جامعہ عثمانیہ میں داخلہ لیا، جہاں ذریعہ تعلیم اْردو تھا۔ یونیورسٹی کا یونیفارم اودی شیروانی تھا۔ ہاسٹل کی فیس اْنیس (19) روپئے تھی، جس میں طعام کے علاوہ حجام اور دھوبی کا خرچ بھی شامل تھا۔ہم نے پوچھا کہ کیا اْس زمانے میں بھی ریگنگ( Ragging )ہوتی تھی؟ نواب صاحب نے بتایا کہ ہوتی تھی، لیکن اس کی حدود تھیں۔ خود نواب صاحب جب ہاسٹل میں شریک ہوئے تو ان کے سینئر طلبہ نے انھیں ابتدامیں کھڑا رہنے کو کہا۔ پھر کہا شیروانی اْتاریئے۔ پھر کہا کْرتہ اْتاریئے۔ اس کے بعد بنیان اْتروائی۔ جب نواب صاحب صرف پاجامے میں ملبوس تھے تو نواب صاحب نے خود پوچھا ’’فرمائیے، اب کیا حکم ہے؟‘‘ سینئر طلبہ اس دلیرانہ سوال سے مرعوب ہوگئے اور انھیں دوبارہ کپڑے پہن لینے کو کہا۔

اس زمانے میں حیدرآباد سول سروس قائم تھی۔ اول تعلقدار اور ناظم کا گریڈ 500 اور 900 ہوتا تھا۔ دوم تعلقدار 350 روپئے کے گریڈ میں ہوتا اور تحصیلدار 200 تا 400 یافت پاتا ۔ روپے کی قوتِ خرید بہت زیادہ تھی۔ ایک روپے میں 10 تا 20 سیر چاول ملتے۔ ایک روپے میں 96 انڈے اور پانچ روپے میں بکرا مل جاتا۔ معمولی یافت پانے والا بھی آرام سے زندگی گزارتا۔ اِنعام یا خیر خیرات میں چار آنے بھی دیئے جاتے تو لوگ سلام کرکے قبول کرتے ۔ اْس زمانے میں زمین کی قیمتیں کم تھیں۔ مہنگی سے مہنگی زمین پانچ روپے سے سات روپے گز میں دستیاب تھی۔ زمین سے زیادہ مکان کی قیمت دیکھی جاتی۔

امراء اور نوابوں کے دسترخوان بہت مشہور تھے۔ نواب سالارجنگ کا دسترخوان انواع و اقسام کے لوازمات کے سلسلے میں شہرت رکھتا تھا۔ آج کل شادیوں میں مجمع بہت ہوتا ہے۔ اْن دنوں چار سو مہمان بھی شریک ہوجائیں تو وہ بڑی شادی کہلاتی تھی۔ کھانوں میں بریانی کے علاوہ کباب اور بڑے بڑے نان ہوا کرتے۔ بریانی میں سفیدہ بابیضہ (انڈوں کے ساتھ) اور زعفرانی بریانی کا رواج تھا۔ بگھارے بیگن یا دم کے بیگن ہوا کرتے ۔ میٹھوں میں ڈبل کے میٹھے اور کھیر کا رواج تھا۔ کھیر کو شیر برنچ بھی کہتے تھے۔ شادی صبح تا نصف النہار ہوتی۔ دسترخوان لمبے یا چوکور ہوتے۔ میز کرسی کا رواج نہ تھا، چوکی ڈنر ہوتا۔ کھانے کا خرچ ایک روپیہ فی مہمان ہوا کرتا ۔ سجاوٹ میں دولہے کے لیے مسند بچھتی تھی۔

شادیوں کے موقع پر بعض خاندانی زیور دْلہنوں کو پہنائے جاتے۔ مثال کے طور پر نواب شاہ عالم خاں صاحب نے جو نتھ اپنی دْلہن کو پہنائی ، اسے ان کے خاندان کی کئی دْلہنیں شادی کے موقع پر پہن چکی ہیں۔ نواب صاحب نے بتایا کہ ایسے زیور کو مبارک و مسعود خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت جوہری یا سْنار کی نظر سے نہیں دیکھی جاتی بلکہ اس کی ایک جذباتی قیمت ہوتی ہے۔

سید امتیاز الدین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔